رنگ باز نے رنگ کاٹ نظر سے رنگِ چمن کی ایسی رنگ پاشی کی کہ ہر سمت رنگ ہی رنگ اُتر آیا۔ ہوا میں رنگ کی خوشبو تھی، فضاؤں میں رنگ کی نغمگی تھی، اور فضولیاتِ دنیا سب رنگ بے رنگ ہو گئیں۔ ہر پھول نے اپنا رنگ نچھاور کیا، ہر کلی نے رنگ بکھیر دیا، ہر پتے نے رنگ کی زبان میں گفتگو کی۔ رنگِ چمن کا رنگ و روپ جب رنگ برنگ ہوا تو لگا جیسے فطرت نے رنگ کی کوئی نئی کتاب کھول دی ہو، جس کے ہر صفحے پر رنگ کی ایک نئی تشریح لکھی ہو۔
رنگ دھنگ کی روشنی نے آنکھوں کو ایسا رنگین کر دیا کہ میں رنگ کورا رہ نہ سکا۔ رنگ محل کی مانند یہ چمن لگا، اور میں نے خود کو اس رنگ محل کے دہلیز پر پایا۔ رنگ محل میں ایک رنگیں مہ جبیں جلوہ گر تھی، جو سبز رنگ کی رنگ پوشاک میں لپٹی ہوئی تھی۔ اس سبز رنگ کی رنگ و آب نے ہر سمت رنگ بکھیر دیا۔ رنگ سبز کی یہ رنگ فشانی ایسی تھی جیسے بہار نے رنگ کے چشمے جاری کر دیے ہوں۔
مہ جبیں کی مسکراہٹ نے رنگ کے رنگ میں اور رنگ گھول دیا۔ اس کی آنکھوں کا رنگ سحر انگیز تھا، جیسے نیلے رنگ میں ڈوبا ہوا کوئی خواب۔ اس کے ہونٹوں کا گلابی رنگ دل کو رنگ شکستہ کر گیا۔ اس کے رخسار کی حنائی رنگت نے مجھے رنگ تخویف کیا، اور میں رنگ فسوں میں قید ہو گیا۔ ہر نظر، ہر سانس، ہر لمس رنگ رنگ محسوس ہونے لگا۔
میرے دل میں رنگ گیر محبت نے جنم لیا۔ یہ محبت ایسی تھی کہ ہر دھڑکن رنگ میں ڈوب گئی۔ رنگ مجاز نے رنگ حقیقت کا روپ دھار لیا اور میرے رنگین وجود پر رنگ کاری کا ایسا جادو کیا کہ میں رنگ کورا سا ہوگیا۔ اب رنگ طلائی کی کشش باقی نہ رہی، میں زمردی رنگ کی رنگ عشرت میں گم ہو گیا۔ سبز رنگ نے ایسی زمردی رنگ فشانی کی کہ آنکھوں سے رنگ صہبا چھلکنے لگا۔
وجودِ رنگ طباشیر نے رنگ طبیعت کو یوں رنگ ساز بنایا کہ رنگ سخن دوبارہ رنگ پذیر ہوگیا۔ اس رنگ ریز حسیں بدن نے مجھے رنگ شکستہ کیا، اور میں اس کے رنگ و نور کا رنگ آشنا بن گیا۔ اس کے ہاتھوں کی مہندی کا رنگ رنگ فسوں تھا، اس کے بالوں کی سیاہی رنگ فسردہ تھی، اور اس کے لبوں کا گلابی رنگ رنگ حیات تھا۔
ہر لمحہ رنگ، ہر خیال رنگ، ہر احساس رنگ۔ میں نے محسوس کیا کہ رنگ صحبت میسر آ جائے تو میں اسے جتا سکوں کہ رنگ شاعری کے علاوہ بھی کئی رنگ مجھ میں رنگے ہوئے ہیں۔ ایسے رنگ جو دنیا کے رنگ ناشناس ہیں، ایسے رنگ جو تیرے رنگ و روپ کے رنگ شناسا ہونے کے منتظر ہیں۔
ہوا کا رنگ سبز تھا، روشنی کا رنگ سنہری تھا، اور میرے دل کا رنگ صہبائی۔ آسمان نے اپنا نیلا رنگ زمین پر انڈیل دیا تھا۔ پرندے اپنے پروں کے رنگ سے فضاؤں میں نقش بنا رہے تھے۔ ہر سمت رنگ کا رنگ تھا، رنگ کی رنگینی تھی، رنگ کا فسوں تھا۔ میں نے اپنی پلکیں بند کیں تو رنگ کے اندر رنگ کھل گئے، کھولی تو رنگ کے اوپر رنگ برسنے لگے۔
سبز رنگ نے جب مجھے اپنی رنگ آغوش میں لیا تو میری روح رنگ آسودہ ہوگئی۔ میں نے سوچا، کاش یہ رنگ رلیاں کبھی ختم نہ ہوں، یہ رنگ فشانی ہمیشہ جاری رہے۔ میں رنگ رنگ سوچوں میں گم ہوگیا۔ میں نے محسوس کیا کہ محبت کا رنگ ہی اصل رنگ ہے جو ہر رنگ کو رنگین کر دیتا ہے، جو رنگ رفتہ کو بھی رنگ تازہ بنا دیتا ہے۔
یہ سبز رنگ، یہ حنائی رنگ، یہ گلابی رنگ، یہ نیلا رنگ، یہ صہبائی رنگ، یہ زمردی رنگ — سب ایک رنگ میں ضم ہو گئے، اور وہ رنگ تھا محبت کا رنگ۔ وہ رنگ جو ہر رنگ سے نرالا، ہر رنگ سے جلالا، ہر رنگ سے زیادہ رنگین ہے۔ میں رنگ رنگ مسحور ہو گیا۔