منڈی بہاءالدین میں بڑھتی تلخیاں، سوشل میڈیا کی عدالتیں اور معاشرتی بگاڑ
منڈی بہاءالدین ہمیشہ سے زراعت، محنت، سادگی اور باہمی احترام کی پہچان سمجھا جاتا تھا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب یہاں آئے روز لڑائی جھگڑے، سوشل میڈیا کی محاذ آرائیاں اور ذاتی دشمنیوں کا ماحول پیدا ہوتا جا رہا ہے۔ معمولی اختلافات ایسے تنازعات میں بدل رہے ہیں جو صرف چند افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کے امن کو متاثر کرتے ہیں۔
چند روز قبل دو گروپوں کے درمیان ٹریکٹر ٹو چین کرتے ہوئے تنازع پیدا ہوا۔ معمولی تلخ کلامی نے جلد ہی تشدد کی شکل اختیار کر لی۔ ہاتھ اٹھے، لاٹھیاں چلیں، لوگ زخمی ہوئے اور جذبات نے عقل پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اگر معاملہ صرف اس جھگڑے تک محدود رہتا تو شاید اسے ایک مقامی تنازع سمجھ کر بھلا دیا جاتا، لیکن اصل مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا اس واقعے کا میدان بن گیا۔
فیس بک پوسٹیں، ویڈیوز، لائیو سیشن، الزامات، گالم گلوچ اور ذاتی حملوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے اصل واقعے کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ لوگوں نے ایک دوسرے کو قانون سمجھانا شروع کر دیا، فیصلے سنانے لگے، مجرم خود بنا لیے اور سزائیں بھی خود تجویز کرنے لگے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ اختیار کس نے دیا؟ کیا اب پاکستان کا آئین سوشل میڈیا پوسٹوں کے ذریعے چلے گا؟ کیا عدالتوں کی جگہ ٹک ٹاک ویڈیوز نے لے لی ہے؟ کیا پولیس اسٹیشن اب واٹس ایپ گروپس میں منتقل ہو چکے ہیں؟ یہ رویہ صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرتی فساد کی ایک خطرناک شکل ہے۔
اسی دوران ککہ کے علاقے میں ایک حساس اور سنگین وقوعہ پیش آیا۔ اس واقعے کو انتہائی احتیاط، ذمہ داری اور قانونی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھانے کی ضرورت تھی، لیکن حسبِ روایت سوشل میڈیا پہلے متحرک ہوا۔ مختلف دعوے کیے گئے، کئی لوگوں نے اپنی اپنی “اصل حقیقت” پیش کی، کچھ افراد متاثرین کے ترجمان بن گئے جبکہ بعض نے ملزمان کا دفاع شروع کر دیا۔ مگر جب ایف آئی آر سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ قانونی حقائق اور سوشل میڈیا پر چلنے والے بیانیوں میں واضح فرق موجود تھا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اصل حقائق قانون کے ریکارڈ میں موجود ہیں تو پھر سوشل میڈیا کے یہ خودساختہ تفتیش کار کس اختیار کے تحت متبادل کہانیاں تخلیق کر رہے ہیں؟ آج ہر شخص کو کنٹینٹ چاہیے، ہر کسی کو ویوز درکار ہیں اور ہر کوئی لائکس کی دوڑ میں شامل ہے۔ اس مقابلے میں انسان، عزت، خاندان، قانون اور معاشرتی امن سب کچھ قربان کیا جا رہا ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کا مسئلہ انصاف نہیں بلکہ شہرت بن چکا ہے۔ انہیں سچ سے زیادہ سنسنی چاہیے، قانون سے زیادہ وائرل ہونا عزیز ہے اور ریاست کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنی پوسٹ کی رسائی بڑھانے کی فکر لاحق ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات صحافت کے نام پر بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے۔
حالانکہ صحافت ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ صحافی کا کام آگ لگانا نہیں بلکہ آگ بجھانا ہے۔ اس کا فرض فریق بننا نہیں بلکہ حقائق کو سامنے لانا ہے۔ خبر دینا صحافت ہے، فیصلہ سنانا نہیں۔ تحقیق کرنا صحافت ہے، عدالت بن جانا نہیں۔ لیکن آج حالات یہ ہیں کہ صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ خود ایک دوسرے کے خلاف کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ الزامات، جوابی پوسٹیں، ذاتی حملے، تحقیر آمیز زبان اور گالم گلوچ ایک معمول بنتے جا رہے ہیں۔
یہ صورتحال اس لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ جب سماج کے رہنما طبقے خود انتشار کا شکار ہوں تو عوام کیا سیکھے گی؟ اگر خبر دینے والے نفرت پھیلائیں گے تو امن کون سکھائے گا؟ اگر قلم رکھنے والے اشتعال پیدا کریں گے تو برداشت کون پیدا کرے گا؟ یہ وقت رکنے، سوچنے اور اپنے کردار کا جائزہ لینے کا ہے۔
ہر ادارے کا اپنا دائرہ کار ہوتا ہے۔ پولیس کو اپنی تحقیقات کرنے دی جائیں، عدلیہ کو فیصلے کرنے دیے جائیں اور صحافت کو صحافت رہنے دیا جائے۔ خدائی فوجدار بننے کی ضرورت نہیں۔ یہ جو ہر شخص موبائل ہاتھ میں لے کر خود کو ریاست سمجھنے لگتا ہے، یہی رویہ معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
آج ایک فیس بک پوسٹ سے عزتیں نیلام ہو رہی ہیں، ایک ویڈیو سے خاندان برباد ہو رہے ہیں اور ایک جھوٹ سے نسلوں کی دشمنیاں جنم لے رہی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو اکثر کسی کو شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ شاید ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ جھوٹی خبر سے متاثر ہونے والے خاندان پر کیا گزرتی ہوگی یا بغیر تحقیق کے پھیلائی گئی اطلاعات کتنے گھروں کا سکون چھین لیتی ہیں۔
آج ضمیر سے زیادہ اہم چیز “ریچ” بن چکی ہے اور یہی ہماری اجتماعی بدقسمتی ہے۔ سیاستدان کی کرپشن اگر ریاستی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہے تو نفرت پھیلانے والا رویہ معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ بدعنوان سیاستدان خزانہ لوٹتا ہے لیکن نفرت بانٹنے والا شخص اعتماد چھین لیتا ہے، اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو معاشرے ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ منڈی بہاءالدین اپنی پہچان دوبارہ حاصل کرے۔ یہ ضلع لڑائیوں، جھگڑوں اور سوشل میڈیا جنگوں سے نہیں بلکہ برداشت، شعور اور احترام سے جانا جائے۔ یہاں کے نوجوان نفرت کے بجائے آگاہی پھیلائیں، صحافی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کریں، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ تصدیق کے بغیر مواد نشر نہ کریں اور ہر انسان کی عزت کو مقدم سمجھیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ ہر خبر عوامی تماشا نہیں ہوتی، ہر واقعہ تفریح نہیں ہوتا، ہر متاثرہ شخص کنٹینٹ نہیں ہوتا اور ہر حادثہ ویوز حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ معاشرے تہذیب سے بنتے ہیں، شور سے نہیں۔ احترام سے بنتے ہیں، گالیوں سے نہیں۔ برداشت سے بنتے ہیں، تضحیک سے نہیں۔
اب منڈی بہاءالدین کے لوگوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ دشمنیوں کی سیاست چاہتے ہیں یا امن کی روایت؟ کیا وہ سوشل میڈیا کی عدالتیں چاہتے ہیں یا قانون کی بالادستی؟ کیا وہ گالم گلوچ کو اپنانا چاہتے ہیں یا احترام کو؟ یہ راستہ اب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔
اپنی زبان بدلیں، اپنے رویے بدلیں، نفرت کم کریں، سچ بولیں، تحقیق کریں، قانون پر اعتماد کریں اور ایک دوسرے کو عزت دیں۔ کیونکہ عزت دینے والے معاشرے زندہ رہتے ہیں جبکہ نفرت بانٹنے والے معاشرے اپنی ہی آگ میں جل جاتے ہیں۔
منڈی بہاءالدین کو شور نہیں، شعور چاہیے۔ تصادم نہیں، تحمل چاہیے۔ وائرل پوسٹیں نہیں بلکہ ذمہ دار آوازیں درکار ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر انسان کو انسان سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے آج بھی سبق نہ سیکھا تو کل صرف واقعات نہیں بڑھیں گے بلکہ دلوں کے فاصلے بھی بڑھ جائیں گے، اور جب معاشروں کے دل مر جائیں تو آباد شہر بھی ویران دکھائی دینے لگتے ہیں۔





