منڈی بہاءالدین جیسے نسبتاً چھوٹے شہروں میں صحافت ہمیشہ سے ایک حساس اور ذمہ دارانہ شعبہ رہا ہے، جہاں وسائل کی کمی کے باوجود عوامی مسائل کو اجاگر کرنا صحافیوں کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تاہم، موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو مقامی صحافت کو کئی چیلنجز درپیش ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سب سے اہم مسئلہ پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیم کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔ صحافت محض خبر دینا نہیں بلکہ تحقیق، تصدیق اور متوازن انداز میں معلومات پیش کرنے کا نام ہے۔ بدقسمتی سے، مقامی سطح پر ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو اس شعبے میں بغیر مناسب تربیت یا تعلیمی پس منظر کے داخل ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں رپورٹنگ کے معیار پر سوال اٹھتے ہیں۔ بعض اوقات غیر مصدقہ معلومات یا ذاتی مفادات کی آمیزش سے صحافت کا اصل مقصد متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے، حالانکہ یہ عمومی اصول نہیں بلکہ چند رویوں کا مسئلہ ہے جسے پورے شعبے پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
مہارتوں کے حوالے سے بھی صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ تحقیقاتی صحافت، ڈیٹا ویریفیکیشن، اور مؤثر تحریری انداز جیسی بنیادی صلاحیتوں میں کمزوری واضح نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہم مقامی مسائل یا تو مکمل طور پر سامنے نہیں آ پاتے یا پھر ان کی پیشکش وہ اثر پیدا نہیں کر پاتی جو ایک تربیت یافتہ صحافی کر سکتا ہے۔
اگر الیکٹرانک میڈیا پر نظر ڈالیں تو کسی حد تک ہم آہنگی اور ادارہ جاتی نظم دکھائی دیتا ہے۔ ٹی وی چینلز سے وابستہ رپورٹرز عموماً ایک ڈھانچے کے تحت کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی خبر رسانی میں ایک حد تک معیار اور تسلسل برقرار رہتا ہے۔ اس کے برعکس، پرنٹ میڈیا میں واضح انتشار پایا جاتا ہے جہاں ادارہ جاتی کمزوری، محدود وسائل اور پیشہ ورانہ نگرانی کے فقدان نے معیار کو متاثر کیا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہاں ہر فرد خود کو “صحافی” کے طور پر پیش کر سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے نہ تو اخلاقی اصولوں کی پابندی نظر آتی ہے اور نہ ہی معلومات کی تصدیق کا کوئی واضح نظام۔ اس بے قاعدگی کے باعث نہ صرف عوام میں کنفیوژن پیدا ہوتی ہے بلکہ اصل صحافت کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
یہ تصویر مکمل طور پر مایوس کن نہیں۔ منڈی بہاءالدین میں ایسے ذمہ دار اور باصلاحیت صحافی بھی موجود ہیں جو محدود وسائل کے باوجود پیشہ ورانہ اصولوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ:
* صحافیوں کی باقاعدہ تربیت کو فروغ دیا جائے
* میڈیا ادارے میرٹ اور تعلیم کو ترجیح دیں
* اخلاقی ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد ہو
* اور سوشل میڈیا کے استعمال میں ذمہ داری کو یقینی بنایا جائے
صحافت کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے۔ اگر اس آئینے پر گرد جم جائے تو تصویر دھندلی ہو جاتی ہے۔ منڈی بہاءالدین کی صحافت کو بھی اسی گرد کو صاف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حقیقت واضح، متوازن اور قابلِ اعتماد انداز میں سامنے آ سکے۔





