کبھی تو درد کی لہروں کو بھی کنارہ ملے
اندھیـری رات میں کوئی تو استعارہ ملے
جو ہمسفر تھا مری زندگی کےرستوں میں
خدا کرے کہ وہی شخص پھر دوبارہ ملے
شکستہ پاؤں بھلا اب کہاں تلک لے جائیں
بھٹک رہے ہیں کہ منزل کا کچھ اشارہ ملے
بکھــر رہـی ہے مـری ذات ریــگزاروں میں
کرم کی موج اٹھے زیــست کو سہارا ملے
ہوئی ہے شام تو یادوں کے دیپ جل اٹھے
تیـری گلــی سے گزرتے ہوئــے نـظارہ ملے
ہزاروں اشک مری آنکھ میں سسکتے ہیں
کبھی تو ان کو پلـــک کا کوئی کنارہ ملے
بُجھا سکا نہ کوئی بھی تری تڑپ کے سوا
مجھے بھــی کاش تری یاد کا شـرارہ ملے
سفر طویل ہے اور ہم بھی تھک گئےاب تو
کہیں تودرد کی شدت کو بھی خسارہ ملے
صــدائیں دے کــے پلٹ آئی ہــے مری آواز
سکوتِ شب میں کوئی تو ہمیں پکارا ملے
شعیب الحسن بوسال





