قصائی نامہ — گوشت کم، فلسفہ زیادہ

قصائی سے میرا پہلا تعارف اس عمر میں ہوا جب مجھے ابھی یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بکرے کے دو کان کیوں ہوتے ہیں اور ابا جان کیوں کہتے ہیں کہ “بیٹا، جانور دیکھ کر لو، قصائی دیکھ کر نہیں۔” اس وقت مجھے لگتا تھا کہ قصائی شاید کوئی سرکاری عہدہ ہے، جیسے تحصیلدار، پٹواری یا وہ ماموں جن کے بارے میں گھر والے آہستہ آواز میں بات کرتے تھے۔

پھر عمر بڑھی، عقل کم ہوئی، اور قصائی سمجھ میں آنے لگا۔

قصائی دراصل وہ عظیم آدمی ہے جو جانور کے جسم سے گوشت الگ کرنے کے ساتھ ساتھ گاہک کی جیب سے اعتماد بھی الگ کر دیتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں چھری ہوتی ہے مگر اصل تیزی اس کی زبان میں ہوتی ہے۔ بیل اس سے ایک بار مرتا ہے، گاہک تین بار: خریدتے وقت، تولتے وقت، اور گھر جا کر بیگ کھولتے وقت۔

قصائی ہماری تہذیب کا وہ کردار ہے جس نے بیک وقت دو کام کیے ہیں: جانور کا گوشت الگ کیا اور انسان کے وہم۔ یہ وہ آدمی ہے جو بکرے کو دیکھ کر وزن بتا دیتا ہے اور گاہک کو دیکھ کر بجٹ۔ اس کی آنکھوں میں ترازو، ہاتھ میں چھری اور زبان میں وہ اعتماد ہوتا ہے جو عموماً سیاست دان صرف الیکشن سے ایک ہفتہ پہلے حاصل کرتے ہیں۔

قصائی کی دکان پر داخل ہوتے ہی آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ گوشت لینے نہیں، کسی مختصر عدالتی کارروائی میں شامل ہونے آیا ہو۔ ایک طرف دیوار سے لٹکا ہوا بکرہ، دوسری طرف خون آلود تختہ، اور درمیان میں قصائی — ایسا منظر کہ کمزور دل آدمی گوشت چھوڑ کر دال سے محبت شروع کر دے۔

ہمارے محلے کا قصائی “حاجی الٰہی بخش” تھا۔ نام سے لگتا تھا کہ آدمی روحانیت کی چلتی پھرتی شاخ ہو گا، مگر دکان پر داخل ہوتے ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ یہ بندہ جانوروں کا نہیں، امیدوں کا قصائی ہے۔

دکان کے باہر تختی لگی تھی:

“خالص گوشت دستیاب ہے۔ شک کرنے والے گھر سے کھا کر آئیں۔”

نیچے چھوٹے حروف میں لکھا تھا:

“ہڈی کو گوشت کا رشتہ دار سمجھا جائے۔”

حاجی صاحب کا فلسفہ بڑا سادہ تھا۔ وہ کہتے تھے:

“گوشت اور شادی میں ایک بات مشترک ہے۔ آدمی جو سوچتا ہے، وہ نہیں ملتا۔”

قصائی کی دکان دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں بکری دیوار پر لٹکی ہوتی ہے اور گاہک کرسی پر۔ مگر حالت دونوں کی ایک جیسی ہوتی ہے۔

قصائی جب چھری تیز کرتا ہے تو آواز ایسی آتی ہے جیسے کسی نے پرانی محبت یاد کر لی ہو۔ اس آواز میں عجیب اداسی، عجیب وحشت، اور گاہک کے بجٹ کی آخری سانسیں شامل ہوتی ہیں۔

میں نے ایک بار حاجی صاحب سے پوچھا:

“حاجی صاحب، یہ گوشت اتنا مہنگا کیوں ہو گیا؟”

انہوں نے چھری کپڑے سے صاف کی، آسمان کی طرف دیکھا اور بولے:

“بیٹا، زمانہ خراب ہے۔ جانور بھی اب تعلیم یافتہ ہو گئے ہیں۔ کھاتے زیادہ ہیں، وزن کم دیتے ہیں۔”

یہ منطق ایسی تھی کہ ایک لمحے کو مجھے واقعی بکرے کی تعلیمی پالیسی پر فکر ہونے لگی۔

قصائی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔ اگر گوشت سخت نکل آئے تو جانور ضدی تھا۔ نرم نکل آئے تو کم عمر تھا۔ چربی زیادہ ہو تو نسل اچھی تھی۔ ہڈی زیادہ ہو تو “قدرت کا نظام” تھا۔

ایک صاحب نے اعتراض کیا:

“حاجی صاحب، آدھا کلو گوشت میں تین ہڈیاں کیوں ہیں؟”

حاجی صاحب بولے:

“جناب، آدمی میں بھی تو ہڈیاں ہوتی ہیں۔ کیا آپ خود کو صرف گوشت سمجھتے ہیں؟”

بحث وہیں ختم ہو گئی۔ فلسفہ جیت گیا، گاہک ہار گیا۔

قصائی عجیب مخلوق ہے۔ اس کے سامنے جانور بھی خاموش رہتا ہے اور گاہک بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ جانور کے پاس وجہ ہوتی ہے، گاہک کے پاس مجبوری۔

عیدالاضحیٰ کے دنوں میں قصائی کی حیثیت ایسی ہو جاتی ہے جیسے الیکشن کے موسم میں سیاست دان کی۔ فون بند، وعدے کھلے، اور وقت سب کے لیے الگ۔

“حاجی صاحب، کب آئیں گے؟”

“بس پہنچ رہا ہوں۔”

یہ “پہنچ رہا ہوں” اردو زبان کا وہ فقرہ ہے جس نے ہزاروں قربانیوں، لاکھوں گاہکوں اور کروڑوں امیدوں کو تباہ کیا ہے۔

قصائی اگر کہہ دے “دس منٹ”، تو آپ وضو کر لیں، چائے پی لیں، رشتہ داروں سے مل آئیں، دو جھگڑے نمٹا لیں، جانور کو آخری بار پیار کر لیں، پھر بھی وقت باقی بچ جائے گا۔

ایک بار ہمارے محلے میں ایک قصائی صبح سات بجے بلایا گیا۔ شام پانچ بجے آیا اور بولا:

“معاف کرنا، رش تھا۔”

جانور نے اسی وقت دل ہی دل میں کہا ہو گا:

“بھائی، اب تو میں بھی جانے کے لیے تیار ہوں، تم بس چھری لے آؤ۔”

قصائی کی معیشت بھی دلچسپ ہے۔ سال بھر وہ دکان پر بیٹھا گوشت کاٹتا ہے اور عید پر قوم کی امیدیں۔

اس کی جیب میں ہمیشہ دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک پرانا رومال اور نئی قیمت۔

اگر آپ پوچھیں:

“ریٹ کیا ہے؟”

تو وہ پہلے چہرہ اداس کرے گا، پھر سانس بھرے گا، پھر کہے گا:

“مت پوچھو بھائی… حالات خراب ہیں۔”

ایسے بولے گا جیسے ملک کی معیشت اس کی دکان کے فریزر میں رکھی ہو۔

قصائی کی نظر بڑی تیز ہوتی ہے۔ وہ دور سے پہچان لیتا ہے کہ کون گاہک بحث کرے گا، کون خاموشی سے پیسے دے گا، اور کون گھر جا کر بیوی سے کہے گا:

“گوشت ٹھیک تھا… بس ہڈیاں کچھ زیادہ تھیں۔”

یہ آخری جملہ ہر شادی شدہ مرد کی قومی پالیسی ہے۔ گھر میں امن قائم رکھنے کے لیے سچ کو قربان کر دو۔

قصائی کی دکان پر کھڑے ہو کر انسان کو زندگی کی حقیقت سمجھ آتی ہے۔ ایک طرف لٹکا ہوا گوشت، دوسری طرف ریٹ کی فہرست، درمیان میں انسان۔

اور انسان سوچتا ہے:

“زندگی بھی کیا چیز ہے… کل تک یہ بکری گھاس کھا رہی تھی، آج میں اس کے بھاؤ سن رہا ہوں۔”

ہمارے ایک دوست تھے، بڑے کفایت شعار۔ گوشت لینے گئے اور قصائی سے بولے:

“کچھ سستا حصہ دو۔”

قصائی نے کہا:

“جناب، جانور نے اپنی طرف سے سب برابر دیا تھا، مہنگا ہم نے کیا ہے۔”

یہ جملہ اتنا سچا تھا کہ دوست خاموش ہو گئے، حالانکہ خاموشی ان کے مزاج میں شامل نہیں تھی۔

قصائی اور گاہک کا رشتہ ویسا ہی ہے جیسا طالب علم اور امتحان کا۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے، مگر ملنا ضروری ہوتا ہے۔

قصائی کی مسکراہٹ پر کبھی اعتماد نہ کریں۔ وہ مسکراہٹ عموماً اس وقت آتی ہے جب ترازو کے ایک پلڑے میں گوشت اور دوسرے میں آپ کی سادگی رکھی جا چکی ہو۔

دکان پر ایک لڑکا کام کرتا تھا۔ ہم نے پوچھا:

“بیٹا، کب سے ہو یہاں؟”

بولا:

“تین سال سے۔”

ہم نے کہا:

“کیا سیکھا؟”

کہنے لگا:

“پہلے جانور پہچانتا تھا، اب آدمی پہچان لیتا ہوں۔”

یہ جواب سن کر محسوس ہوا کہ قصائی کی دکان دراصل فلسفے کی نرسری ہے۔

عید کے دن قصائی کے مزاج میں عجیب شان آ جاتی ہے۔ فون پر بات ایسے کرتا ہے جیسے وزیرِ خزانہ بجٹ پیش کر رہا ہو۔

“ہاں جی، آپ تیسرے نمبر پر ہیں…”

حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ آپ اٹھائیسویں نمبر پر ہوتے ہیں اور پہلے ستائیس لوگ بھی یہی سن چکے ہوتے ہیں۔

قصائی کی سب سے خطرناک بات اس کی یادداشت ہے۔ اسے یاد رہتا ہے کس نے پچھلے سال پیسے دیر سے دیے تھے، کس نے چائے کم پلائی تھی، اور کس نے کام کے بعد کہا تھا:

“اتنا وقت کیوں لگایا؟”

یہ جملہ قصائی کے دل پر ویسا ہی اثر کرتا ہے جیسا شاعر پر “آپ کیا کرتے ہیں؟” کا سوال۔

ایک قصائی نے تو حد کر دی۔ جانور ذبح کر کے بولا:

“چائے ہے؟”

چائے آئی۔

پھر بولا:

“کچھ میٹھا ہو جائے؟”

مٹھائی آئی۔

پھر بولا:

“کھانا بھی کھا لیتا ہوں، صبح سے مصروف ہوں۔”

ہم نے سوچا ابھی کہے گا:

“اگر اجازت ہو تو ایک کمرہ بھی دے دیں، کل صبح اگلی قربانی کر لوں گا۔”

قصائی محض پیشہ نہیں، ایک مزاج ہے۔ وہ گوشت کاٹتے کاٹتے زندگی کو بھی ٹکڑوں میں دیکھنے لگتا ہے۔

اسے معلوم ہے دنیا میں ہر چیز وزن سے بکتی ہے: گوشت، سبزی، اناج، اور بعض جگہوں پر ضمیر بھی۔

مگر اس کے باوجود وہ ہنستا ہے، مذاق کرتا ہے، اور شام کو دکان بند کر کے گھر چلا جاتا ہے جیسے دن بھر اس نے کچھ خاص نہ کیا ہو۔

حالانکہ سچ یہ ہے کہ وہ روز ہمیں یاد دلاتا ہے:

زندگی میں ہر چیز نرم نہیں ہوتی، کچھ چیزیں ہڈی سمیت آتی ہیں۔

اور آخر میں قصائی کے بارے میں وہی کہا جا سکتا ہے جو ایک بزرگ نے فرمایا تھا:

“بیٹا، قصائی سے دوستی رکھو، دشمنی نہیں۔ کیونکہ دنیا میں دو آدمیوں سے جھگڑا مہنگا پڑتا ہے: ایک درزی، جو کپڑا بگاڑ دے… اور دوسرا قصائی، جو وزن سمجھا دے۔”

قصائی کو دیکھ کر ہمیشہ لگتا ہے کہ انسان عجیب مخلوق ہے۔ ایک ہاتھ میں چھری، دوسرے میں ترازو، زبان پر “بسم اللہ”، دل میں حساب، اور سامنے گاہک۔

اور گاہک بھی کیسا؟ وہ جو گوشت لینے آتا ہے، مگر ساتھ میں شک، امید، بجٹ اور گھر کی ہدایات بھی لاتا ہے۔

یہی زندگی ہے۔

کوئی بکری لٹکی ہے، کوئی قیمت سے لٹکا ہے، کوئی حالات سے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ قصائی کو سب نظر آتا ہے۔

اور ہمیں صرف گوشت۔