خواب جنما نہیں

فاخرہ نورین

تمہارے میرے درمیاں دھری ہوئی یہ لاش
ایک خواب تھا
تمہیں خبر نہیں ہوئی
کہ مرگِ خواب کے اس ایک واقعے کی کوکھ سے
کئی ہزار واہموں کے بھوت،
کتنے خوف کے پریت جنم لے چکے
یہ بھوت یہ پریت روز موتتے ہیں
گپت کونے کھدرے ڈھونڈ کر
غضب سڑاند ہے جو دھونیوں سے جا نہیں رہی
عجیب دھند میں لپٹ گئی ہے خواب گاہ مری
حبیب میرے ساتھ لگ، گواہی دے
الاؤ پر چڑھی کڑاہی میں ابلتا خون میرا تو نہیں؟
اگر مِرا نہیں تو ہاتھ پاؤں سن ہیں کس لئے
چہار سمت بھیڑیوں کے خونخوار غول کیسے آ گئے
مجھے بتا، یقیں دلا
وہ ننھے ننھے ہاتھ پاؤں کی چٹختی ہڈیاں چبارہی چڑیل ، میرا وہم ہے
یہ وحشتوں بھری ہنسی کے ساتھ رقص میں مگن ذلیل ڈائنیں مرا گمان ہیں
کوئی انھیں بھگا ہی دے
ہمارے درمیان سے
یہ لاش خواب کی کوئی اٹھا ہی دے