سوشل میڈیا کا سماج پر اثر: آزادی یا بگاڑ؟

سوشل میڈیا نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ چند برس پہلے تک ہم خبر کے لیے اخبار اور ٹی وی کے محتاج تھے۔ اگر کوئی واقعہ ہوتا تو اگلے دن اخبار میں چھپتا، شام کو نیوز بلیٹن میں آتا، اور ہم تب اس پر بات کرتے۔ آج حالات بدل چکے ہیں۔ اب ہر شخص کے ہاتھ میں ایک موبائل فون ہے جو اسے نہ صرف خبر دینے والا بناتا ہے بلکہ خبر پھیلانے والا بھی بنا دیتا ہے۔ ایک ویڈیو، ایک تصویر یا چند جملے لمحوں میں پوری دنیا کا رخ بدل سکتے ہیں۔ یہ وہ طاقت ہے جو پہلے کبھی عام آدمی کے پاس نہیں تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ طاقت ہمارے لیے آزادی کا استعارہ ہے یا ہمارے معاشرتی بگاڑ کی بنیاد؟

ہمیں ماننا پڑے گا کہ سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کی آزادی کے دروازے پوری طرح کھول دیے ہیں۔ کل تک جو آواز اپنے محلے سے آگے نہیں پہنچتی تھی، آج وہ عالمی سطح پر سنی جا سکتی ہے۔ اب کسی مظلوم کی فریاد دبائی نہیں جا سکتی، کسی حادثے یا واقعے کو چھپانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ پولیس کے تشدد، سرکاری بدانتظامی، اور معاشرتی ناانصافی کی بے شمار مثالیں ہیں جو محض ایک موبائل ویڈیو کی وجہ سے منظرِ عام پر آئیں۔ یہ پہلو یقیناً سوشل میڈیا کا مثبت اور روشن رخ ہے۔ اس نے طاقتور کو جوابدہ بنایا ہے، معاشرے میں شفافیت کے امکانات پیدا کیے ہیں، اور عام آدمی کو اپنی رائے کے اظہار کی ہمت دی ہے۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ کہیں زیادہ گہرا اور خوفناک ہے۔ سوشل میڈیا نے ہماری معاشرتی بدتہذیبی، عدم برداشت اور ذہنی انتشار کو بھی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ پہلے اگر کسی مجلس میں کوئی بدتمیزی ہوتی تھی تو وہ چند لوگوں تک محدود رہتی تھی۔ اب وہی بدتمیزی لائیو ویڈیوز، کمنٹس اور پوسٹس کے ذریعے ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ جھوٹی خبریں اور افواہیں پلک جھپکتے ہی وائرل ہو جاتی ہیں۔ کسی کی عزت اچھالنا، کردار کشی کرنا، یا ذاتی زندگی کو تماشا بنا دینا لمحوں کا کھیل رہ گیا ہے۔ ایک جعلی تصویر یا ایڈیٹ شدہ ویڈیو پورے شہر میں ہنگامہ کھڑا کر سکتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ بطور معاشرہ ہم اس طاقت کو سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آزادی کے ساتھ جو ذمہ داری آتی ہے، ہم نے اسے قبول نہیں کیا۔ ہم نے سوشل میڈیا کو تحقیق، دلیل اور مثبت مکالمے کے بجائے الزام تراشی، گالی گلوچ اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ سیاسی اختلاف دشمنی میں بدل گیا ہے، مذہبی تنوع تعصب میں ڈھل گیا ہے، اور ذاتی رنجشیں سوشل میڈیا پر تماشہ بن جاتی ہیں۔ ہم نے اپنی انا کی تسکین کو سب سے بڑی ترجیح بنا لیا ہے اور یہ بھول گئے ہیں کہ ہمارے رویے آنے والی نسلوں کے لیے ایک خطرناک مثال بن رہے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے ہماری اخلاقی اور سماجی تربیت کے خلا کو نمایاں کر دیا ہے۔ ہمارے نوجوان، جو ان پلیٹ فارمز پر سب سے زیادہ سرگرم ہیں، علم کے سمندر میں موجود ہیں مگر شعور اور ذمہ داری کے قحط کا شکار ہیں۔ وہ ہر خبر پر یقین کر لیتے ہیں، بغیر تصدیق شیئر کر دیتے ہیں، اور اکثر ایسی افواہیں کسی کی زندگی یا عزت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ ہم نے انہیں ٹیکنالوجی تو دے دی، مگر اس کے اخلاقی استعمال کی تربیت نہیں دی۔

مزید یہ کہ سوشل میڈیا نے ہمارے معاشرتی تضادات کو اور نمایاں کر دیا ہے۔ ہم وہاں مہذب، نرم گفتار، اور باشعور بن کر سامنے آتے ہیں، اپنی پروفائل پر متاثر کن اقوال لکھتے ہیں، دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں ہمارا رویہ اس کے برعکس ہے۔ ہم سڑک پر ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہیں، قطار میں کھڑے ہونے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، اور دوسروں کے حقوق پامال کرتے ہیں۔ یہ تضاد ہماری اجتماعی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم دکھاوے میں مہذب ہیں، مگر حقیقت میں اپنی سماجی ذمہ داریوں سے غافل۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم اس طاقت کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا۔ یہ صرف ایک آلہ ہے، ایک طاقت ہے، جو جیسی نیت اور رویے کے ساتھ استعمال ہو گی، ویسا ہی نتیجہ دے گی۔ اگر ہم اسے مثبت سمت میں لے جائیں تو یہ تعلیم، آگاہی، احتساب اور معاشرتی شعور کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم نے اسے جھوٹ، نفرت، کردار کشی اور منفی مقابلے کے لیے استعمال کرنا جاری رکھا تو یہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کو اور گہرا کر دے گا۔

ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ ہمیں سیکھنا ہو گا کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر خبر کو بغیر تصدیق شیئر کرنا جرم ہے، ہر اختلاف کو گالی دینا بدتہذیبی ہے، اور ہر افواہ کو پھیلانا معاشرتی فساد ہے۔ اگر ہم نے اپنی سوچ، رویے اور استعمال کے طریقے نہ بدلے تو وہی سوشل میڈیا جو آج ہمیں طاقتور لگتا ہے، کل ہماری اخلاقی کمزوریوں کا سب سے بڑا ثبوت بن جائے گا۔

سوشل میڈیا نے ہمیں آزادی دی ہے، مگر اس آزادی کو مہذب بنانے کی ذمہ داری بھی ہمارے کندھوں پر ہے۔ اگر ہم نے اسے مثبت سمت میں لے جانے کا فیصلہ نہ کیا تو یہ طاقت ہمیں شعور نہیں دے گی، بلکہ بگاڑ کی ایسی دلدل میں دھکیل دے گی جہاں سے نکلنا مشکل ہو گا۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسے اپنی ترقی کا زینہ بنائیں یا اپنی تباہی کا سامان۔