ریاست کا وجود محض سرحدوں اور علامتی نشانات سے نہیں، بلکہ ایک ایسے منظم نظام سے جڑا ہوتا ہے جس کی بنیاد قانون کی بالادستی پر قائم ہو۔ قانون وہ اجتماعی معاہدہ ہے جو شہریوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن پیدا کرتا ہے۔ جب یہ توازن برقرار رہے تو معاشرہ استحکام، ترقی اور انصاف کی طرف بڑھتا ہے، اور جب اس میں خلل آ جائے تو بدنظمی، استحصال اور زوال اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ پاکستان کا المیہ یہی ہے کہ یہاں قانون کو اکثر ایک رسمی تقاضہ سمجھا جاتا ہے، جس کی پابندی حالات، مفادات اور سہولت کے مطابق کی جاتی ہے، نہ کہ اصول کے طور پر۔
معاشرتی رویوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ قانون شکنی یہاں ایک غیر اعلانیہ معمول بن چکی ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہو یا سرکاری دفاتر میں ضابطوں کو نظر انداز کرنا، ٹیکس سے بچنے کے حربے ہوں یا سفارش کے ذریعے نظام کو بائی پاس کرنا—یہ سب ایسے رویے ہیں جو نہ صرف قانون کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ایک اجتماعی ذہنیت کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ اس ذہنیت میں قانون کو ایک رکاوٹ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ایک تحفظ۔ یہی سوچ ریاستی نظم و نسق کو کھوکھلا کرتی ہے اور انصاف کے تصور کو مجروح کرتی ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ مسئلہ صرف قوانین کی موجودگی یا عدم موجودگی کا نہیں بلکہ ان کے نفاذ کا ہے۔ پاکستان میں قانون کی کتابیں بھرپور ہیں، مگر عملدرآمد کمزور ہے۔ اس کمزوری کی ایک بڑی وجہ دوہرا معیار ہے، جہاں طاقتور طبقہ قانون سے بالاتر دکھائی دیتا ہے جبکہ عام شہری اس کے شکنجے میں آتا ہے۔ جب ایک بااثر فرد کھلے عام قانون کی خلاف ورزی کر کے بھی بچ نکلتا ہے تو یہ پیغام پورے معاشرے میں پھیلتا ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے۔ نتیجتاً قانون کا احترام ختم ہوتا ہے اور اس کی جگہ بے یقینی اور بداعتمادی لے لیتی ہے۔
ریاستی سطح پر بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی دباؤ، وسائل کی کمی اور بدعنوانی جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ پولیس کا کردار اکثر متنازعہ رہتا ہے، عدالتی نظام تاخیر کا شکار ہے، اور احتساب کے ادارے بھی سوالات کی زد میں رہتے ہیں۔ حکومتی سطح پر سنجیدگی کا فقدان اور پالیسیوں کا عدم تسلسل اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ جب حکمران خود قانون کی پاسداری میں مثال قائم نہ کریں تو عوام سے اس کی توقع رکھنا ایک کمزور دلیل بن جاتی ہے۔
تاہم، تمام تر ذمہ داری حکومت پر ڈال دینا بھی حقیقت کا ادھورا تجزیہ ہوگا۔ معاشرے کی تشکیل میں عوام کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ قانون کی پاسداری محض خوف یا سزا کے ڈر سے نہیں بلکہ شعور اور ذمہ داری کے احساس سے پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان میں ایک بڑی رکاوٹ یہی ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد قانون کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ وہ اسے اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ نہیں سمجھتی بلکہ ایک ایسی چیز تصور کرتی ہے جسے موقع ملنے پر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
یہ رویہ دراصل ایک اجتماعی لاشعوری کی علامت ہے، جس کی جڑیں تعلیم کی کمی، سماجی تربیت کے فقدان اور غلط ترجیحات میں پیوست ہیں۔ جب بچے یہ دیکھتے ہوئے بڑے ہوں کہ ان کے اردگرد لوگ قانون کی خلاف ورزی کر کے فائدہ اٹھا رہے ہیں، تو ان کے ذہن میں بھی یہی تصور بیٹھ جاتا ہے کہ کامیابی کا راستہ اصولوں سے نہیں بلکہ چالاکی سے گزرتا ہے۔ یہی سوچ آگے چل کر ایک ایسے معاشرے کو جنم دیتی ہے جہاں قانون کی حیثیت محض کاغذی رہ جاتی ہے۔
اصلاح کی بات کی جائے تو اس میں عوام کا کردار فیصلہ کن ہے۔ ریاست قوانین بنا سکتی ہے، ادارے قائم کر سکتی ہے، مگر ان قوانین کو زندگی کا حصہ بنانا شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ ایک فرد جب خود قانون کی پابندی کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے مثال بھی قائم کرتا ہے۔ ٹریفک قوانین کی پابندی، ٹیکس کی ادائیگی، صفائی کا خیال، اور دیانتداری جیسے چھوٹے چھوٹے اقدامات دراصل بڑے معاشرتی تغیر کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔
عوامی سطح پر شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ قانون کی پاسداری دراصل ان کے اپنے مفاد میں ہے۔ جب لوگ یہ سمجھنا شروع کر دیں کہ قانون کی پابندی سے ان کی زندگی محفوظ، آسان اور بہتر ہو سکتی ہے تو رویوں میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ تبدیلی یک دم نہیں آتی بلکہ بتدریج ایک ثقافت کی صورت اختیار کرتی ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے یہی راستہ اختیار کیا، جہاں قانون کی پاسداری ایک عادت بن گئی، نہ کہ ایک مجبوری۔
اس ضمن میں تعلیم اور میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ تعلیمی اداروں میں شہری ذمہ داریوں کو نصاب کا حصہ بنانا اور میڈیا کے ذریعے مثبت رویوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مگر ان سب کے باوجود اصل تبدیلی تب ہی ممکن ہے جب فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اس پر عمل کرے۔ قانون کی پاسداری کا آغاز گھر سے ہوتا ہے اور یہی چھوٹی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں ایک بڑے قومی کردار کی تشکیل کرتی ہیں۔
یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ معاشی استحکام، سماجی انصاف اور امن و امان سب کا دارومدار اسی ایک اصول پر ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ ہے کہ وہ قانون کو محض ایک رسمی ڈھانچے سے نکال کر ایک زندہ حقیقت بنائے۔ اس کے لیے حکومت کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی، مگر عوام کو بھی اپنی سوچ اور رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔
قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ ترقی کا سفر اندر سے شروع ہوتا ہے۔ جب افراد اپنے فرائض کا احساس کرتے ہیں اور قانون کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں تو ریاست خود بخود مضبوط ہو جاتی ہے۔ پاکستان کو بھی اسی سمت میں قدم بڑھانا ہوگا، جہاں قانون کی پاسداری محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی طرزِ زندگی بن جائے۔





