محمد یحییٰ خان
صدرِ پاکستان | چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر | پاک فوج کے سربراہ | کمانڈر ان چیف
تعارف
جنرل آغا محمد یحییٰ خان قزلباش 4 فروری 1917ء کو چکوال میں پیدا ہوئے اور 10 اگست 1980ء کو راولپنڈی میں وفات پائی۔ وہ پاک فوج کے چار ستارہ جنرل تھے جنہوں نے 18 ستمبر 1966ء سے 19 دسمبر 1971ء تک پاک فوج کے پانچویں کمانڈر ان چیف اور 25 مارچ 1969ء سے 20 دسمبر 1971ء تک پاکستان کے تیسرے صدر اور دوسرے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔
ان کے مختصر لیکن غیر معمولی حد تک ہنگامہ خیز دورِ اقتدار میں ملک کے پہلے عام انتخابات (1970ء) منعقد ہوئے، جس کے بعد پیدا ہونے والے شدید آئینی و سیاسی تعطل، مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن اور دسمبر 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں سقوطِ ڈھاکہ اور بنگلہ دیش کے قیام کا المیہ پیش آیا۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
یحییٰ خان کا تعلق پشاور کے ایک معزز قزلباش خاندان سے تھا، جو تاریخی طور پر اٹھارویں صدی کے ایرانی فاتح نادر شاہ کی فوج سے اپنی نسبت جوڑتا ہے۔ ان کا خاندانی گھر پشاور کے قدیم اندرونِ شہر کی گنج مارکیٹ کے محلہ شیخ الاسلام میں 1890ء سے واقع ہے۔ وہ مادری اور موروثی روایات کے تحت فارسی زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔
ان کے والد سعادت علی خان انڈین امپائر پولیس میں خدمات انجام دیتے رہے، جہاں وہ ہیڈ کانسٹیبل کے طور پر بھرتی ہوئے اور 1938ء میں بحیثیت ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ریٹائر ہوئے۔ سعادت علی خان کی چکوال میں تعیناتی کے دوران یحییٰ خان کی ولادت ہوئی۔
تعلیم و ابتدائی عسکری تربیت
یحییٰ خان نے اپنی بنیادی اور ثانوی تعلیم دہرادون کے معروف کرنل براؤن کیمبرج اسکول سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
1936ء کی دہائی کے اواخر میں انہوں نے انڈین ملٹری اکیڈمی (IMA) دہرادون میں شمولیت اختیار کی۔ 15 جولائی 1939ء کو انہیں برٹش انڈین آرمی کی معروف انفنٹری یونٹ 4/10th بلوچ رجمنٹ (چوتھی بٹالین، دسویں بلوچ رجمنٹ) میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر باضابطہ کمیشن دیا گیا، جس کی قانونی تاریخ بعد میں 28 اگست 1938ء سے نافذ سمجھی گئی۔
پہلی و دوسری جنگِ عظیم میں خدمات
دوسری جنگِ عظیم کے دوران یحییٰ خان نے 4th انڈین انفنٹری ڈویژن کے حصے کے طور پر مشرقِ وسطیٰ اور بحیرہ روم کے محاذوں پر لیفٹیننٹ اور بعد ازاں کیپٹن کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے عراق، اٹلی اور شمالی افریقہ کی زمینی معرکہ آرائیوں میں حصہ لیا۔
جون 1942ء میں شمالی افریقہ کے محاذ پر محور کی افواج نے انہیں جنگی قیدی بنا کر اٹلی کے ایک حراستی کیمپ میں منتقل کر دیا، جہاں سے وہ دو ناکام کوششوں کے بعد بالآخر تیسری بار فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور اپنے دستوں سے دوبارہ جا ملے۔
قیامِ پاکستان اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج
اگست 1947ء میں تقسیمِ برصغیر کے وقت یحییٰ خان میجر (ایکٹنگ لیفٹیننٹ کرنل) کے عہدے پر فائز تھے اور انہوں نے نوزائیدہ ریاست پاکستان کا انتخاب کیا۔ اس وقت ان کا سروس نمبر پی اے 98 (PA-98) مقرر ہوا اور وہ پاکستان کے دسویں سینیئر ترین افسر بنے۔
تقسیم کے وقت وہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں پہلے مقامی انسٹرکٹر کے طور پر تعینات تھے۔ انہوں نے بھارتی افسران کی جانب سے کالج لائبریری کی تاریخی اور پیشہ ورانہ کتابوں کے اثاثے نئی دہلی منتقل کرنے کے ارادے کو دانشمندی سے ناکام بنایا اور ادارے کا نام تبدیل کر کے “کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ“ رکھا۔
اعلیٰ عسکری تقرریاں اور ترقی
1951ء میں صرف 34 برس کی عمر میں انہیں بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دی گئی، جس سے وہ پاک فوج کے اس وقت کے سب سے کم عمر بریگیڈیئر بنے۔ 1951ء سے 1952ء تک انہوں نے جموں و کشمیر کی جنگ بندی لائن پر 105th انڈیپینڈنٹ بریگیڈ کی کمان سنبھالی۔
1954ء سے 1957ء کے دوران بحیثیت وائس چیف آف جنرل اسٹاف، انہوں نے جنرل ایوب خان کے فوجی پلاننگ بورڈ کے سربراہ کے طور پر پاک فوج کے تربیتی اور تکنیکی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ بعد ازاں وہ 1957ء سے 1962ء تک چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) رہے اور نیا وفاقی دارالحکومت تعمیر کرنے کے تاریخی اسلام آباد کیپیٹل پروجیکٹ کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے بھی انتظامات سنبھالے۔ 1962ء سے 1965ء تک انہوں نے مختلف انفنٹری ڈویژنز کی قیادت کی۔
1965ء کی جنگ اور آپریشن گرینڈ سلیم
1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران میجر جنرل یحییٰ خان پاک فوج کے 7th انفنٹری ڈویژن کے کمانڈر (GOC) تھے۔ چھمب اور جوڑیاں کے اسٹریٹجک سیکٹر میں شروع کیے گئے تاریخ ساز معرکے “آپریشن گرینڈ سلیم“ کے اہم موڑ پر میجر جنرل اختر حسین ملک سے کمان لے کر یحییٰ خان کے سپرد کی گئی۔
ان کے ڈویژن نے اکھنور کی طرف تیز ترین پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد بھارتی چیک پوسٹوں کا صفایا کیا اور بعد میں چونڈہ کے محاذ پر دفاع کو مضبوط بنانے میں حصہ لیا۔ ان جنگی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے انہیں ہلالِ جرأت کا اعزاز عطا کیا۔
بطور کمانڈر ان چیف فوج کی تنظیمِ نو (1966–1971ء)
جنرل محمد موسیٰ خان کی ریٹائرمنٹ پر صدر ایوب خان نے دو سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز (الطاف قادر اور بختیار رانا) کو نظر انداز کر کے 18 ستمبر 1966ء کو یحییٰ خان کو پاک فوج کا پانچواں کمانڈر ان چیف مقرر کیا۔
1965ء کی جنگ نے ثابت کیا تھا کہ جی ایچ کیو کا براہِ راست تمام ڈویژنز کو کنٹرول کرنا غیر موزوں تھا، اس لیے یحییٰ خان نے کور ہیڈکوارٹرز کا ادارہ جاتی نظام متعارف کرایا۔ انہوں نے 2 کور (جہلم–راوی کوریڈور)، 4 کور (راوی–ستلج کوریڈور) اور مشرقی پاکستان میں ایسٹرن کمانڈ کی تشکیل کی۔ اس دوران امریکہ کے عسکری بائیکاٹ کے بعد انہوں نے چین کی طرف رخ کیا، چینی ساختہ ٹی–59 ٹینکوں کو بکتر بند فوج کا حصہ بنایا اور چینی ہتھیاروں سے لیس تین نئے انفنٹری ڈویژنز (9، 16 اور 17) کھڑے کیے جنہیں بیرکوں میں “چائنا ڈویژنز“ کہا جاتا تھا۔
اقتدار کی منتقلی اور دوسرا مارشل لاء (1969ء)
1968ء کے اواخر میں فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت کے خلاف مشرقی اور مغربی پاکستان میں شدید عوامی تحریک برپا ہو گئی، جو اعلانِ تاشقند، مہنگائی اور بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف تھی۔ ایوب خان کی گول میز کانفرنس حزبِ اختلاف کو مطمئن نہ کر سکی۔
آئینی راستے کے بجائے 24 مارچ 1969ء کو ایوب خان نے ایک خط کے ذریعے یحییٰ خان کو ملک کا انتظام سنبھالنے کی دعوت دی۔ 25 مارچ کو یحییٰ خان نے 1962ء کا آئین معطل کرتے ہوئے پارلیمنٹ تحلیل کر دی، تمام صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں اور ملک بھر میں دوسرا مارشل لاء نافذ کر کے بحیثیت صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اقتدار سنبھال لیا۔
ون یونٹ کا خاتمہ اور لیگل فریم ورک آرڈر (LFO)
اقتدار میں آنے کے بعد یحییٰ خان نے سیاسی بحران کے حل کے لیے بنیادی اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے 1955ء سے نافذ العمل مغربی پاکستان کے “ون یونٹ“ کے متنازع ڈھانچے کو یکسر ختم کر کے چاروں صوبوں (پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان) کو ان کی پرانی جغرافیائی حیثیت میں بحال کر دیا۔
30 مارچ 1970ء کو انہوں نے لیگل فریم ورک آرڈر (LFO) جاری کیا۔ اس آرڈر کے تحت مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان پرانے “اصولِ برابری” (Parity) کو منسوخ کر دیا گیا اور پہلی بار ‘ایک فرد ایک ووٹ‘ کی بنیاد پر آبادی کے تناسب سے قومی اسمبلی کی نشستیں مختص کی گئیں، جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کو 300 میں سے 162 جنرل نشستیں حاصل ہو گئیں۔
1970ء کے عام انتخابات
7 دسمبر 1970ء کو ملک کی تاریخ میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے غیر جانبدارانہ عام انتخابات منعقد ہوئے۔ نتائج نے ملک کی دو لخت جغرافیائی تقسیم کو سیاسی سطح پر مکمل آشکار کر دیا۔
شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے اپنے چھ نکات کی بنیاد پر مشرقی پاکستان کی 162 میں سے 160 نشستیں جیت کر قومی سطح پر قطعی اکثریت حاصل کر لی، مگر مغربی پاکستان میں وہ ایک بھی نشست نہ جیت سکی۔ اس کے برعکس ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں 81 نشستیں جیت کر فتح حاصل کی لیکن مشرقی پاکستان میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اس نتیجے نے ایک ایسا سیاسی تعطل پیدا کیا جسے پرامن طریقے سے حل نہ کیا جا سکا۔
سیاسی بحران اور آپریشن سرچ لائٹ
عوامی لیگ کو اقتدار کی منتقلی پر مغربی پاکستان کی قیادت، پیپلز پارٹی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تحفظات کے باعث قومی اسمبلی کا 3 مارچ کو ڈھاکہ میں بلایا جانے والا اجلاس یکدم ملتوی کر دیا گیا، جس سے مشرقی پاکستان میں شدید عوامی بغاوت، ہڑتالیں اور سول نافرمانی پھوٹ پڑی۔ مارچ 1971ء کے وسط میں ڈھاکہ میں یحییٰ، بھٹو اور مجیب کے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔
25 مارچ 1971ء کی رات یحییٰ خان کی ہدایت پر پاک فوج نے بغاوت کچلنے کے لیے “آپریشن سرچ لائٹ“ شروع کیا۔ شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر کے مغربی پاکستان منتقل کر دیا گیا اور بغاوت کے الزام میں ان پر خصوصی فوجی عدالت قائم کی گئی۔ اس خونی کریک ڈاؤن نے خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی، بنگالی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے بغاوت کر کے “مکتی باہنی“ قائم کی جسے بھارت کی بھرپور مالی، لاجسٹک اور عسکری امداد حاصل تھی۔
امریکہ–چین سفارتی پل کا کردار
1970ء اور 1971ء کے بحران کے دوران صدر یحییٰ خان نے عالمی سفارت کاری میں ایک انتہائی خفیہ اور تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکی صدر رچرڈ نکسن اور ان کے قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر کی بیجنگ میں چینی قیادت سے خفیہ بات چیت کی راہیں استوار کیں۔
جولائی 1971ء میں ہنری کسنجر راولپنڈی سے بیمار ہونے کا بہانہ بنا کر پی آئی اے کی پرواز سے خفیہ طور پر بیجنگ پہنچے، جس نے صدر نکسن کے تاریخی دورۂ چین (1972ء) کی راہ ہموار کی اور سرد جنگ کے عالمی توازن کو بدل ڈالا۔ اس اہم تعاون پر صدر نکسن نے ذاتی طور پر یحییٰ خان کی تعریف کی اور خطوط میں ان کا شکریہ ادا کیا۔
1971ء کی جنگ اور سقوطِ ڈھاکہ
مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج کی دراندازی کے بعد 3 دسمبر 1971ء کو مغربی محاذ پر باضابطہ فضائی حملوں کے ذریعے پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ دو محاذوں پر لڑی جانے والی یہ غیر متوازن جنگ مغربی سرحد پر کسی بڑے فائدے کے بغیر جاری رہی، جبکہ مشرقی پاکستان میں مقامی آبادی کی مخالفت، بھارتی محاصرے اور فضائی برتری نے پاکستانی دستوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔
16 دسمبر 1971ء کو ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اے اے کے نیازی نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ نوے ہزار سے زائد فوجی اور سویلین جنگی قیدی بن گئے اور مشرقی پاکستان آزاد ریاست “بنگلہ دیش“ بن کر الگ ہو گیا۔
اقتدار کا خاتمہ اور حمود الرحمن کمیشن
سقوطِ ڈھاکہ کی خبر نشر ہوتے ہی مغربی پاکستان میں عوام اور فوج کے جونیئر افسران میں زبردست غیظ و غضب کی لہر دوڑ گئی اور فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کے آثار نمایاں ہو گئے۔ اندرونی انتشار سے بچنے کے لیے جنرل یحییٰ خان نے 20 دسمبر 1971ء کو استعفیٰ دے دیا اور اقتدار پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا، جنہوں نے سول چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر کا حلف اٹھایا۔
اقتدار سنبھالتے ہی بھٹو نے یحییٰ خان کو فوج سے برطرف کر کے نظر بند کر دیا، ان کے تمام اعزازات واپس لے لیے اور سقوطِ مشرقی پاکستان کے اسباب کی چھان بین کے لیے چیف جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا، جس کے سامنے یحییٰ خان نے تفصیلی بیانات دیے۔
نظر بندی، بیماری اور وفات
یحییٰ خان کو ابتدائی طور پر کھاریاں کے قریب بنی ریسٹ ہاؤس اور بعد ازاں راولپنڈی کے ہارلے اسٹریٹ کے رہائشی مکان میں طویل عرصے تک پولیس کی سخت نظر بندی میں رکھا گیا۔ اس تنہائی اور قید کے دوران انہیں فالج کا شدید حملہ ہوا جس کے باعث ان کا نصف جسم مفلوج ہو گیا۔
1977ء میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کے دور میں لیفٹیننٹ جنرل فضلِ حق کی کاوشوں سے ان کی نظر بندی ختم کی گئی۔ یحییٰ خان 10 اگست 1980ء کو 63 برس کی عمر میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (CMH) راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ انہیں مکمل سرکاری اور فوجی اعزاز کے ساتھ پشاور کے فوجی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
ذاتی زندگی
یحییٰ خان نے 1945ء میں فخرہ بیگم سے شادی کی، جن سے ان کا ایک صاحبزادہ علی یحییٰ اور ایک صاحبزادی پیدا ہوئیں۔ ان کے بڑے بھائی آغا محمد علی خان حکومتِ پاکستان کے انٹیلی جنس بیورو (IB) کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔
یحییٰ خان ذاتی زندگی میں پر تعیش محفلوں اور آزادانہ طرزِ زندگی کے حوالے سے جانے جاتے تھے، جس پر مورخین اور معاصرین نے کڑی نکتہ چینی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ انگریزی ادب، بالخصوص شیکسپیئر اور لارڈ بائرن کی شاعری کے دلدادہ تھے اور پرندے پالنے کا خصوصی ذوق رکھتے تھے۔ زندگی کے آخری ایام میں قید اور بیماری کے دوران انہوں نے شراب نوشی اور سماجی سرگرمیوں سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
تصانیف
1. دی بریکنگ آف پاکستان: یحییٰ سپیکس اباؤٹ دی بھٹو–مجیب انٹرایکشن وِچ بروک پاکستان (1997ء)، لبرٹی پبلشرز، لاہور۔
حوالہ جات
1. حمود الرحمن کمیشن رپورٹ (2000ء)، رپورٹ آف دی حمود الرحمن کمیشن آن دی 1971 وار، وینگارڈ بکس، لاہور۔
2. سالک، صدیق (1997ء)، وٹنس ٹو سرینڈر، یونیورسٹی پریس، ڈھاکہ۔
3. سسن، رچرڈ اور روز، لی ای (1990ء)، وار اینڈ سیشن: پاکستان، انڈیا اینڈ دی کریشن آف بنگلہ دیش، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس۔
4. بس، گیری جے (2013ء)، دی بلڈ ٹیلی گرام: نکسن، کسنجر اینڈ اے فارگاٹن جینوسائیڈ، الفریڈ اے کناف، نیویارک۔
5. راگھون، سری ناتھ (2013ء)، 1971: اے گلوبل ہسٹری آف دی کریشن آف بنگلہ دیش، ہارورڈ یونیورسٹی پریس۔
6. ظفر، جاوید (1980ء)، پاکستان: دی اینگما آف پولیٹیکل ڈویلپمنٹ، ڈاؤسن، کینٹ۔
7. بریندر ناتھ، دیوان (1974ء)، پرائیویٹ لائف آف یحییٰ خان، سٹرلنگ پبلشرز، نئی دہلی۔
8. دی نیویارک ٹائمز (10 اگست 1980ء)، جنرل یحییٰ خان، 63؛ ایکس پاکستانی رولر۔





