گل حسن خان
پاک فوج کے سربراہ | کمانڈر ان چیف | سفارتکار | عسکری کمانڈر
تعارف
لیفٹیننٹ جنرل گل حسن خان (عرف جارج) 9 جون 1921ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے اور 10 اکتوبر 1999ء کو راولپنڈی میں وفات پا گئے۔ وہ پاک فوج کے نامور تین ستارہ جنرل اور سفارت کار تھے جنہوں نے 20 دسمبر 1971ء سے 3 مارچ 1972ء تک پاک فوج کے چھٹے اور آخری کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔
وہ پاک فوج کی تاریخ میں کمانڈر ان چیف کے منصب پر سب سے کم مدت تک فائز رہنے والے عسکری سربراہ تھے۔ مارچ 1972ء میں انہوں نے ائیر مارشل عبد الرحیم خان کے ہمراہ تنخواہوں کے اضافے کے لیے ہڑتال پر بیٹھے پولیس ملازمین کے خلاف عسکری کارروائی سے انکار کیا، جس پر صدر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں ان کے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد کمانڈر ان چیف کا عہدہ باقاعدہ ختم کر کے چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) میں تبدیل کر دیا گیا۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
گل حسن خان کوئٹہ میں ایک متوسط پشتون خاندان میں پیدا ہوئے، جن کے آبائی تعلقات نوشہرہ کے علاقے پبی سے تھے۔ ان کے والد گورنمنٹ ریلوے پولیس (GRP) میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ اپنے تین بھائیوں اور ایک بہن میں دوسرے نمبر پر تھے۔ وہ 1930ء اور 1935ء کے تاریخی اور تباہ کن کوئٹہ زلزلوں میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
1939ء میں انہوں نے پرنس آف ویلز رائل انڈین ملٹری کالج (PWRIMC) دہرادون میں تعلیم حاصل کی، جہاں وہ اپنی ذہانت اور مستعدی کی بدولت نمایاں کیڈٹ سمجھے جاتے تھے۔ مارچ 1940ء میں وہ انڈین ملٹری اکیڈمی (IMA) دہرادون کے داخلہ ٹیسٹ میں صرف اس لیے رہ گئے کیونکہ وہ 500 نمبر کے انٹرویو میں تاخیر سے پہنچے تھے۔ جنوری 1941ء میں انہوں نے دوبارہ امتحان پاس کر کے اکیڈمی میں باضابطہ داخلہ لیا، جہاں وہ اکیڈمی کے بہترین باکسر اور ہاکی کے ممتاز کھلاڑی تسلیم کیے گئے۔
دوسری جنگِ عظیم اور برٹش انڈین آرمی میں خدمات
22 فروری 1942ء کو گل حسن خان نے برٹش انڈین آرمی کی فرنٹیئر فورس رائفلز کی 9th بٹالین میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کیا، اور بعد ازاں ان کا تبادلہ باضابطہ طور پر آرمرڈ کور میں کر دیا گیا۔ مارچ 1943ء میں انہوں نے کراچی میں ملٹری انٹیلی جنس کا ایڈوانس کورس مکمل کیا۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران وہ آسام رائفلز کے ساتھ تعینات ہوئے اور 1944ء سے 1945ء کے دوران جاپانی افواج کے خلاف برما مہم اور کوہیما کے تاریخی معرکے میں بھرپور جنگی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ جنگ کے آخری مہینوں میں انہیں برما کے محاذ پر 14th آرمی کی کمان کرنے والے فیلڈ مارشل سر ولیم سلم کا اے ڈی سی (Aide-de-camp) مقرر کیا گیا۔
قیامِ پاکستان اور قائدِ اعظم کے پہلے اے ڈی سی
اگست 1947ء میں آزادی کے وقت کیپٹن گل حسن خان نے پاکستان آرمی کا انتخاب کیا، جہاں ان کا سروس نمبر پی اے 457 (PA-457) تھا۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد انہیں بانیِ پاکستان اور پہلے گورنر جنرل قائدِ اعظم محمد علی جناح کا پہلا ملٹری اے ڈی سی (ADC) بننے کا تاریخی اعزاز حاصل ہوا۔
1950ء میں انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن مکمل کی اور ستمبر 1951ء میں جی ایچ کیو کے ملٹری ٹریننگ ڈائریکٹوریٹ میں تعینات ہوئے۔ 30 جون 1957ء سے 16 جون 1959ء تک وہ اسٹاف کالج کوئٹہ میں ڈائریکٹنگ اسٹاف کے فرائض انجام دیتے رہے۔
1965ء کی جنگ اور چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) کی ذمہ داریاں
1965ء کی پاک بھارت جنگ کے نازک موقع پر بریگیڈیئر گل حسن خان جی ایچ کیو راولپنڈی میں ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز (DMO) کی کلیدی پوزیشن پر فائز تھے، جہاں انہوں نے جنگی منصوبہ بندی اور فوج کے دفاعی تحرک میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ان خدمات کے صلے میں صدر ایوب خان نے انہیں ستارہِ پاکستان کے اعزاز سے نوازا۔
جنگ کے بعد میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پا کر وہ ملتان میں 1st آرمرڈ ڈویژن کے کمانڈر (GOC) بنے اور ستمبر 1968ء میں کور آف انجینئرز کے کرنل کمانڈنٹ مقرر ہوئے۔ 20 دسمبر 1968ء کو انہیں پاک فوج کا چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) بنایا گیا اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے 1971ء میں انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل کا رینک حاصل کیا۔
اردن میں بلیک ستمبر اور بریگیڈیئر ضیاء الحق کا تحفظ
میجر جنرل اے او مٹھا کی تحریروں کے مطابق، 1971ء کے بحران کے دوران بریگیڈیئر محمد ضیاء الحق اردن میں پاکستانی ملٹری مشن کے سربراہ کے طور پر تعینات تھے۔ انہوں نے جی ایچ کیو کے احکامات کے برعکس فلسطینیوں کے خلاف شاہِ اردن کے “آپریشن بلیک ستمبر“ میں اردنی بکتر بند ڈویژن کی کمان سنبھالی۔
میجر جنرل نوازش نے ضیاء الحق کی نافرمانی پر ان کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم بحیثیت چیف آف جنرل اسٹاف، گل حسن خان نے صدر یحییٰ خان سے براہِ راست سفارش کر کے ضیاء الحق کو کورٹ مارشل اور فوج سے برطرفی سے بچایا۔
1971ء کا بحران اور مشرقی پاکستان کے حالات
گل حسن خان نے اپنی خود نوشت میں لکھا کہ وہ مشرقی پاکستان میں “آپریشن سرچ لائٹ“ کی زمینی حقیقتوں اور پیشگی تفصیلات سے زیادہ باخبر نہیں تھے اور لیفٹیننٹ جنرل اے اے کے نیازی کی عسکری صلاحیتوں کے سخت نقاد تھے۔ جب یحییٰ خان نے نیازی کو ایسٹرن کمانڈ کی سربراہی دینے کے لیے گل حسن کو بھی سینئر رکھتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل بنایا تو گل حسن نے سخت ناپسندیدگی ظاہر کی۔
انہوں نے چیف آف اسٹاف جنرل عبد الحمید خان اور صدر یحییٰ خان کی نااہلی پر کھل کر نکتہ چینی کی کہ جی ایچ کیو کو سفارتی اور زمینی حقائق سے لاعلم رکھا گیا، اور بھارتی فوج کی پیش قدمی کے باوجود یحییٰ خان غفلت میں معجزات کے منتظر رہے جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہوا۔ بعد میں حمود الرحمن کمیشن میں بھی ان سے 1971ء کے جنگی فیصلوں پر سوالات کیے گئے۔
یحییٰ خان کی معزولی میں کردار
16 دسمبر 1971ء کو سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جی ایچ کیو اور چھاؤنیوں میں نوجوان افسران میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ 19 دسمبر کو گوجرانوالہ میں بریگیڈیئر ایف بی علی اور دیگر افسران نے 6th آرمرڈ ڈویژن کا کنٹرول سنبھال لیا اور یحییٰ خان سے فوری استعفے کا تحریری مطالبہ کیا۔
کرنل علیم آفریدی اور کرنل آغا جاوید اقبال نے یہ خط چیف آف جنرل اسٹاف گل حسن خان کو پہنچایا۔ گل حسن خان اور ائیر مارشل عبد الرحیم خان نے فوجی ہیڈکوارٹرز کی جانب سے یحییٰ خان پر دباؤ ڈال کر 20 دسمبر کو ان سے استعفیٰ لیا، اور روم سے خصوصی طیارے کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو کو اسلام آباد بلا کر اقتدار ان کے سپرد کیا۔
بطور کمانڈر ان چیف تقرری (1971–1972ء)
20 دسمبر 1971ء کو صدر بھٹو نے گل حسن خان کو پاک فوج کی کمان سنبھالنے کی پیشکش کی جسے ابتدا میں انہوں نے شکست خوردہ فوج کے حالات کے پیشِ نظر مسترد کر دیا۔ تاہم پنجاب ہاؤس میں مذاکرات کے بعد انہوں نے چار شرائط پر عہدہ قبول کیا: وہ فور اسٹار جنرل بننے کے بجائے لیفٹیننٹ جنرل ہی رہیں گے، سرحدوں سے فوج واپس بلائی جائے گی، مارشل لاء فوری اٹھایا جائے گا، اور سول حکومت فوج کے اندرونی پیشہ ورانہ معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
صدر بھٹو نے شرائط مان لیں، لیکن اگلے ہی روز سرکاری نشریے میں یہ تاثر دیا کہ حکومت نے کفایت شعاری کے تحت انہیں فل جنرل کا رینک نہیں دیا۔ گل حسن خان نے جنگ کے بعد سرحدوں کا دورہ کر کے منتشر فوج کے حوصلے بحال کیے اور جنوری 1972ء میں صدر بھٹو اور ائیر چیف کے ہمراہ چین کا اہم سرکاری دورہ کیا۔
پولیس ہڑتال، جبری استعفیٰ اور رخصتی
مارچ 1972ء کے اوائل میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی پولیس نے تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہڑتال کر دی، جس پر صدر بھٹو نے فوج اور فضائیہ کو پولیس کی بغاوت کچلنے کا حکم دیا۔ لیفٹیننٹ جنرل گل حسن خان اور ائیر مارشل عبد الرحیم خان نے واضح مؤقف اپنایا کہ اپنے ہی ہم وطنوں اور سول اداروں پر گولی چلانا غیر قانونی ہے اور یہ خالصتاً سویلین انتظامی مسئلہ ہے۔
3 مارچ 1972ء کو صدر بھٹو نے دونوں عسکری سربراہان کو ایوانِ صدر طلب کیا اور ان کے سامنے پہلے سے تیار شدہ استعفے رکھ دیے۔ دونوں جرنیلوں نے فوری طور پر استعفوں پر دستخط کر کے عہدے چھوڑ دیے۔ اس واقعے کے فوراً بعد جنرل ٹکا خان کو نیا سربراہ بنایا گیا اور آرمی کا سب سے بڑا منصب چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) قرار پایا۔
سفارتی کیریئر اور بھٹو سے مخالفت
عسکری ملازمت کے خاتمے کے بعد مئی 1972ء میں حکومت نے گل حسن خان کو آسٹریا میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا۔ بعد ازاں اپریل 1975ء میں انہیں یونان میں پاکستان کا سفیر بنا کر ایتھنز بھیجا گیا۔
15 اپریل 1977ء کو گل حسن خان نے 1977ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور ملک گیر سیاسی تشدد کے خلاف بطور احتجاج سفارت سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنے خط میں ذوالفقار علی بھٹو پر ملکی مفادات کو نقصان پہنچانے، سقوطِ ڈھاکہ کا ذمہ دار ہونے اور جمہوریت کے قتل کا کھلا الزام لگایا۔ اس جرات مندانہ خط کے بعد حکومتِ پاکستان اور ایف آئی اے نے ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرایا۔
بعد کی زندگی، وفات اور تصانیف
سفارت چھوڑنے کے بعد انہوں نے خاموش زندگی بسر کی اور جی ایچ کیو راولپنڈی کی آرٹلری میس کے دو کمروں کے فلیٹ میں قیام پذیر رہے۔ وہ اپنے آخری سالوں میں راولپنڈی اور ویانا کے درمیان وقت گزارتے تھے جہاں ان کی اہلیہ اور بیٹا شیر حسن مقیم تھے۔
10 اکتوبر 1999ء کو 78 برس کی عمر میں راولپنڈی کے سی ایم ایچ میں ان کا انتقال ہوا اور وصیت کے مطابق آبائی قصبے پبی (ضلع نوشہرہ) میں سپردِ خاک کیا گیا۔ 1993ء میں ان کی مشہور خود نوشت “میموئرز آف لیفٹیننٹ جنرل گل حسن خان” (Memoirs of Lt. Gen. Gul Hassan Khan) آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی۔
حوالہ جات
1. خان، لیفٹیننٹ جنرل گل حسن (1993ء)، میموئرز آف لیفٹیننٹ جنرل گل حسن خان، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، کراچی۔
2. کلوگلی، برائن (2008ء)، وار، کوپس اینڈ ٹیرر: پاکستانز آرمی ان ایئرز آف ٹرموائل، سائمن اینڈ شسٹر، نیویارک۔
3. رضوی، ڈاکٹر حسن عسکری (2000ء)، دی ملٹری اینڈ پولیٹکس ان پاکستان 1947–1997، سنگِ میل پبلیکیشنز، لاہور۔
4. مٹھا، میجر جنرل اے او (2003ء)، ان لائکلی بگننگز: اے سولجرز لائف، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، کراچی۔
5. حمود الرحمن کمیشن رپورٹ (2000ء)، رپورٹ آف دی کمیشن آف انکوائری آن 1971 وار، وینگارڈ بکس، لاہور۔
6. ڈیلی ڈان، پاکستان (8 جولائی 2012ء)، اے لیف فرام ہسٹری: ری شفل ان دی آرمڈ فورسز۔
7. دی نیویارک ٹائمز (16 اپریل 1977ء)، ٹو بھٹو اینوائز اسیل ہز ایکشنز۔





