محمد موسیٰ خان
پاک فوج کے سربراہ | کمانڈر ان چیف | گورنر مغربی پاکستان | گورنر بلوچستان
تعارف
جنرل محمد موسیٰ خان 20 اکتوبر 1908ء کو پیدا ہوئے اور 12 مارچ 1991ء کو وفات پا گئے۔ وہ پاک فوج کے چار ستارہ جنرل تھے جنہوں نے 1958ء سے 1966ء تک پاک فوج کے چوتھے کمانڈر ان چیف کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔
عسکری ملازمت کے دوران انہوں نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاک فوج کی قیادت کی، جس سے انہیں ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ عملی سیاست میں داخل ہوئے اور 1966ء سے 1969ء تک مغربی پاکستان کے چوتھے گورنر اور بعد ازاں 1985ء سے 1991ء تک بلوچستان کے دسویں گورنر رہے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
موسیٰ خان کوئٹہ (بلوچستان) میں ایک نسلی ہزارہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق جاغوری ہزارہ قبیلے کی سنگِ ماشہ شاخ سے تھا اور وہ مقامی قبائلی سردار یزدان خان کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔
ابتدائی تعلیم کے بعد وہ 1926ء میں برٹش انڈین آرمی میں بطور سپاہی (جوان) بھرتی ہوئے اور ترقی پا کر نائیک کے عہدے پر فورتھ ہزارہ پائینیئرز میں شامل ہوئے۔ اکتوبر 1932ء میں انڈین ملٹری اکیڈمی (IMA) دہرادون کے پہلے تاریخی بیج “دی پائینیئرز“ میں کیڈٹ منتخب ہوئے، جہاں بھارت کے مستقبل کے فیلڈ مارشل سیم مانک شا بھی ان کے ہم جماعت تھے۔
پہلی و دوسری جنگِ عظیم اور برٹش انڈین آرمی میں خدمات
1935ء میں دہرادون اکیڈمی سے عسکری تربیت مکمل کر کے کمیشن حاصل کرنے کے بعد وہ 13th فرنٹیئر فورس رائفلز کی سکستھ رائل بٹالین میں پلاٹون کمانڈر بنے اور 1936ء سے 1938ء تک وزیرستان مہم میں حصہ لیا۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران انہوں نے برطانیہ کی طرف سے برما اور شمالی افریقہ کے محاذوں پر غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں شاندار بہادری کے مظاہرے پر انہیں مینشنڈ ان ڈسپیچز اور ممبر آف دی آرڈر آف دی برٹش ایمپائر (MBE) کا اعزاز دیا گیا۔
قیامِ پاکستان اور کشمیر کی پہلی جنگ
1947ء میں آزادی کے وقت انہوں نے پاکستان آرمی کا انتخاب کیا اور جی ایچ کیو میں اسٹاف آفیسر تعینات ہوئے۔ 1947–48ء کی پہلی کشمیر جنگ کے دوران انہوں نے ایکٹنگ بریگیڈیئر کے طور پر سیالکوٹ بیسڈ 103rd انفنٹری بریگیڈ کی کمان کی اور بھارتی افواج کے خلاف محاذ پر دستوں کی قیادت کی۔
جنگ کے بعد انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور بعد ازاں برطانیہ کے معروف امپیریل ڈیفنس کالج سے اعلیٰ عسکری تعلیم حاصل کی۔
اعلیٰ عسکری کمان اور تقرریاں
1950ء کی دہائی میں وہ ایسٹ پاکستان رائفلز کے کمانڈنٹ، ڈھاکہ میں 14th انفنٹری ڈویژن کے جی او سی، اور بعد میں کوئٹہ میں ایٹھ انفنٹری ڈویژن کے کمانڈر رہے۔ بعد ازاں جی ایچ کیو میں پاک فوج کے چیف آف اسٹاف (ڈپٹی سی ان سی) مقرر کیے گئے۔
اکتوبر 1958ء میں جنرل ایوب خان کے مارشل لاء اور صدر اسکندر مرزا کی معزولی کے بعد ایوب خان نے خود کو فیلڈ مارشل بناتے ہوئے جنرل موسیٰ خان کو پاک فوج کا چوتھا کمانڈر ان چیف مقرر کیا۔ وہ 1960ء سے 1966ء تک پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بھی رہے، اور انہی کے دور میں پاکستان نے روم اولمپکس 1960ء میں بھارت کو ہرا کر اپنا پہلا اولمپک گولڈ میڈل جیتا۔
باجوڑ مہم (1960–1961ء)
ستمبر 1960ء میں افغان باقاعدہ فوج نے قبائلی بھیس میں شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) کے باجوڑ کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کی تاکہ مقامی بغاوت برپا کی جا سکے۔
جنرل موسیٰ خان کی عسکری حکمتِ عملی اور پاک فضائیہ کی مدد سے پاک فوج اور وفادار مقامی قبائل نے افغان فورسز کو شدید شکست سے دوچار کیا، دراندازی کو پسپا کر دیا اور متعدد افغان فوجیوں کو جنگی قیدی بنا لیا۔
1965ء کی پاک بھارت جنگ
1964ء میں انہوں نے وزارتِ خارجہ کے خفیہ عسکری منصوبوں کے روایتی بیک اپ کے بغیر شروع کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ تاہم ستمبر 1965ء میں مکمل جنگ چھڑنے پر انہوں نے بطور آرمی چیف پاک فوج کے دفاعی آپریشنز کی براہِ راست کمان سنبھالی۔
انہوں نے کلاسیکی دفاعی مورچہ بندی، توپ خانے اور بکتر بند دستوں کی مؤثر تعیناتی کے ذریعے سیالکوٹ کے محاذ پر چونڈہ کی تاریخ ساز ٹینکوں کی لڑائی میں پیش قدمی کرتی ہوئی بھارتی فوج کو آگے بڑھنے سے روکے رکھا۔ جنگ کے بعد انہیں ہلالِ جرأت سے نوازا گیا۔ وہ کمانڈر ان چیف کے منصب پر دو بار مدتِ ملازمت میں توسیع پانے والے جنرل تھے۔
بطور گورنر مغربی پاکستان (1966–1969ء)
ستمبر 1966ء میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد صدر ایوب خان نے نواب آف کالا باغ کی جگہ جنرل موسیٰ خان کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا۔
وہ مارچ 1969ء تک اس منصب پر رہے اور ایوب حکومت کے خلاف ملک گیر عوامی احتجاج اور جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے نفاذ کے موقع پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر کراچی منتقل ہو گئے۔
بطور گورنر بلوچستان اور سیاسی کردار (1985–1991ء)
1985ء کے عام انتخابات کے بعد صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے جنرل موسیٰ خان کو صوبہ بلوچستان کا دسواں گورنر مقرر کیا۔ 1988ء کے انتخابات کے بعد انہوں نے وزیرِ اعلیٰ میر ظفر اللہ خان جمالی کے مشورے پر بلوچستان اسمبلی تحلیل کی، جسے بعد میں بلوچستان ہائی کورٹ نے غیر آئینی قرار دے کر بحال کیا۔
وہ اپنی وفات تک اس آئینی منصب پر فائز رہے اور صوبے میں امن و امان کے قیام اور انتظامی استحکام کے لیے کوشاں رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں کوئٹہ میں جنرل محمد موسیٰ انٹر کالج قائم کیا گیا۔
وفات اور تدفین
جنرل محمد موسیٰ خان 12 مارچ 1991ء کو کوئٹہ میں بحیثیت گورنر فرائض کی انجام دہی کے دوران 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ان کی وصیت کے مطابق ان کے جسدِ خاکی کو ایران منتقل کیا گیا اور مشہدِ مقدس میں روضۂ امام علی رضاؑ کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
تصانیف
1. مائی ورژن: انڈیا–پاکستان وار 1965 (1983ء)، واجد علی پبلشرز، لاہور۔
2. جوان ٹو جنرل: ریکلیکشنز آف اے پاکستانی سولجر (خود نوشت، 1985ء)، اے بی سی پبلشنگ ہاؤس، کراچی۔
حوالہ جات
1. موسیٰ، جنرل محمد (1985ء)، جوان ٹو جنرل: ریکلیکشنز آف اے پاکستانی سولجر، اے بی سی پبلشنگ ہاؤس، کراچی۔
2. موسیٰ، جنرل محمد (1983ء)، مائی ورژن: انڈیا–پاکستان وار 1965، واجد علی پبلشرز، لاہور۔
3. کلوگلی، برائن (2016ء)، اے ہسٹری آف دی پاکستان آرمی: وارز اینڈ انسریکشنز، اسکائی ہارس پبلشنگ، نیویارک۔
4. جلال، عائشہ (2014ء)، دی سٹرگل فار پاکستان: اے مسلم ہوم لینڈ اینڈ گلوبل پولیٹکس، ہارورڈ یونیورسٹی پریس۔
5. برکی، شاہد جاوید (2015ء)، ہسٹوریکل ڈکشنری آف پاکستان، روومین اینڈ لٹل فیلڈ۔
6. دی لندن گزٹ، سپلیمنٹ نمبر 35399 (30 دسمبر 1941ء)۔
7. پاک فوج میوزیم ریکارڈ، جنرل محمد موسیٰ پروفائل و سروس ریکارڈ، راولپنڈی۔





