فیلڈ مارشل محمد ایوب خان
صدرِ پاکستان | فیلڈ مارشل | پاک فوج کے سربراہ | چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر
تعارف
محمد ایوب خان 14 مئی 1907ء کو پیدا ہوئے اور 19 اپریل 1974ء کو وفات پا گئے۔ وہ پاکستانی عسکری کمانڈر اور سیاست دان تھے جنہوں نے 1958ء سے 1969ء تک پاکستان کے دوسرے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ جنوری 1951ء سے اکتوبر 1958ء تک پاک فوج کے پہلے مقامی کمانڈر ان چیف رہے۔ 1958ء میں صدر اسکندر مرزا کو معزول کر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے ملک میں صدارتی نظام نافذ کیا اور ان کے دور کو صنعتی و اقتصادی ترقی کی وجہ سے “عشرۂ ترقی” (Decade of Development) کہا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
ایوب خان صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے گاؤں ریحانہ میں ترین پشتون خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر داد خان برٹش انڈین آرمی کی گھڑ سوار رجمنٹ نائنتھ ہڈسن ہارس میں رسالدار میجر تھے۔
ابتدائی تعلیم سرائے صالح اور ہری پور کے اسکولوں میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ دورانِ تعلیم جنرل اینڈریو سکین کی سفارش پر وہ عسکری تربیت کے لیے انگلستان روانہ ہوئے اور رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ سے کامیابی کے ساتھ پاس آؤٹ ہوئے۔
برٹش انڈین آرمی میں کیریئر
فروری 1928ء میں انہوں نے 14th پنجاب رجمنٹ (شیر دل بٹالین) میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے باقاعدہ کمیشن حاصل کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران وہ لیفٹیننٹ کرنل بنے اور 1942ء سے 1943ء کے دوران برما مہم کے پہلے مرحلے میں حصہ لیا۔
1945ء میں انہوں نے اسی رجمنٹ کی کمان سنبھال کر برما محاذ کے دوسرے مرحلے میں کارروائیاں چلائیں۔ 1947ء میں آزادی کے وقت وہ بریگیڈیئر کے عہدے پر فائز تھے اور جنوبی وزیرستان میں بریگیڈ کی کمان کر رہے تھے۔
پاک فوج میں ابتدائی دور اور کمانڈر ان چیف
قیامِ پاکستان پر انہوں نے پاک فوج کا انتخاب کیا جہاں سنیارٹی لسٹ میں ان کا نمبر دسواں (PA-010) تھا۔ 1948ء میں انہیں میجر جنرل کے طور پر مشرقی پاکستان میں 14th انفنٹری ڈویژن کا جی او سی بنایا گیا اور نومبر 1949ء میں جی ایچ کیو راولپنڈی میں ایڈجوٹنٹ جنرل تعینات کیا گیا۔
17 جنوری 1951ء کو وزیر اعظم لیاقت علی خان نے سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا کی سفارش پر جنرل ڈگلس گریسی کی جگہ ایوب خان کو پاک فوج کا پہلا مقامی کمانڈر ان چیف مقرر کیا۔ اس تقرری سے پاک فوج میں برطانوی افسران کا عبوری دور مکمل طور پر اختتام پذیر ہو گیا۔
وفاقی کابینہ اور وزیرِ دفاع
اکتوبر 1954ء میں جب گورنر جنرل ملک غلام محمد اور وزیر اعظم محمد علی بوگرا کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھی تو “ٹیلنٹس کی کابینہ“ تشکیل دی گئی جس میں جنرل ایوب خان کو بطور وزیرِ دفاع شامل کیا گیا۔
انہوں نے مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو ضم کر کے “ون یونٹ“ کے متنازع ڈھانچے کے قیام اور سینٹو (CENTO) و سیٹو (SEATO) کے مغربی عسکری معاہدوں میں پاکستان کی شمولیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مارشل لاء اور اقتدار پر قبضہ
7 اکتوبر 1958ء کو صدر اسکندر مرزا نے 1956ء کا آئین معطل کر کے ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی کے نتیجے میں محض بیس دن بعد، 27 اکتوبر 1958ء کو ایوب خان نے اسکندر مرزا کو معزول کر کے لندن جلاوطن کر دیا اور خود صدر کا منصب سنبھال لیا۔ 1959ء میں صدارتی کابینہ کی منظوری سے انہیں باضابطہ طور پر فیلڈ مارشل کا رینک عطا کیا گیا۔
آئینی و قانونی اصلاحات
1960ء میں بنیادی جمہوریتوں (Basic Democracies) کے 80 ہزار نمائندوں کے ذریعے ایک ریفرنڈم منعقد کرا کے صدارت کی توثیق حاصل کی گئی۔ جسٹس شہاب الدین کمیشن کی سفارشات میں ترامیم کے بعد ایوب خان نے 1962ء میں ایک نیا آئین نافذ کیا جس نے ملک میں ایک طاقتور صدارتی نظام قائم کیا۔
اسی دور میں انہوں نے “مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961ء“ جاری کیا، جس کے تحت دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت، ثالثی کونسلوں کا قیام اور طلاق کے فوری زبانی طریقے پر قانونی ضابطے متعارف کرائے گئے۔
معاشی پالیسی اور ترقیاتی منصوبے
ایوب دور میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ دارانہ معیشت کو فروغ ملا جس سے سالانہ جی ڈی پی کی شرح تقریباً 6.8 فیصد تک پہنچی۔ منگلا ڈیم، وارسک ڈیم، کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ (کینپ)، اور خلائی تحقیقی ادارے سپارکو (SUPARCO) کا قیام انہی کے دور کے اہم سنگِ میل تھے۔
1960ء میں بھارت کے ساتھ تاریخی “سندھ طاس معاہدہ” (Indus Waters Treaty) طے پایا اور وفاقی دارالحکومت کو کراچی سے نئے منصوبہ بند شہر اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ تاہم، قومی دولت کا 66 فیصد صنعتی و 80 فیصد بینکاری حصہ چند امیر گھرانوں (22 خاندانوں) میں مرکوز ہونے پر شدید عوامی بے چینی پھیلی۔
خارجہ پالیسی اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ
ابتدائی دور میں امریکہ کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کیے گئے جس کے تحت پشاور کے قریب بڈھ بیر ایئر بیس امریکی انٹیلی جنس کو دی گئی، جس سے 1960ء میں یو–ٹو (U-2) جاسوس طیارے کے گرائے جانے کا بین الاقوامی بحران پیدا ہوا۔ بعد کے سالوں میں ایوب خان نے چین کے ساتھ سرحدی معاہدہ (1963ء) کر کے خارجہ پالیسی میں توازن قائم کیا۔
1965ء میں کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے بعد پاک بھارت جنگ چھڑ گئی جو سترہ روز جاری رہی۔ جنوری 1966ء میں سوویت یونین کی ثالثی میں “اعلانِ تاشقند“ طے پایا، جسے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو سمیت ملکی عوام کے ایک بڑے حصے نے عسکری برتری کو سفارتی شکست میں بدلنے سے تعبیر کیا۔
1965ء کا صدارتی انتخاب
جنوری 1965ء میں ایوب خان نے کنونشن مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے صدارتی انتخاب لڑا، جہاں حزبِ اختلاف کی مشترکہ جماعتوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا متفقہ امیدوار نامزد کیا۔
بنیادی جمہوریتوں کے الیکٹورل کالج پر مشتمل اس متنازع انتخاب میں ایوب خان نے 64 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ حزبِ اختلاف نے ریاستی مشینری کے کھلے استعمال اور بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات لگائے۔
عوامی تحریک اور استعفیٰ
1967ء کے بعد تاشقند معاہدے کے ردِعمل، مہنگائی، اور مشرقی پاکستان کی شکایات کے باعث ملک گیر سیاسی بحران پیدا ہوا۔ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو (پیپلز پارٹی) اور مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن (عوامی لیگ) نے ایوب حکومت کے خلاف تحریک برپا کر دی۔
حزبِ اختلاف کے ساتھ گول میز کانفرنس کی ناکامی اور امن و امان کی مکمل تباہی کے بعد، ایوب خان نے 25 مارچ 1969ء کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اقتدار آئینی طریقہ کار کے برعکس پاک فوج کے سربراہ جنرل آغا محمد یحییٰ خان کے حوالے کر دیا، جنہوں نے ملک میں دوسرا مارشل لاء نافذ کیا۔
وفات اور تصانیف
ایوب خان طویل علالت اور دل کے عارضے کے بعد 19 اپریل 1974ء کو اسلام آباد میں 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، اور انہیں ان کے آبائی گاؤں ریحانہ (ہری پور) میں سپردِ خاک کیا گیا۔
انہوں نے اپنی سیاسی خود نوشت “فرینڈز ناٹ ماسٹرز” (Friends Not Masters) تحریر کی جو 1967ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی۔ بعد ازاں ان کی ذاتی ڈائریاں بھی “ڈائریز آف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان (1966–1972)” کے نام سے شائع کی گئیں۔
حوالہ جات
1. گوہر، الطاف (1993ء)، ایوب خان: پاکستانز فرسٹ ملٹری رولر، سنگِ میل پبلیکیشنز، لاہور۔
2. خان، محمد ایوب (1967ء)، فرینڈز ناٹ ماسٹرز: اے پولیٹیکل آٹو بائیوگرافی، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، کراچی۔
3. بستر، کریگ (2007ء)، ڈائریز آف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 1966–1972، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس۔
4. نواز، شجاع (2008ء)، کراسڈ سورڈز: پاکستان، اٹس آرمی اینڈ دی وارز ود ان، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس۔
5. رضوی، ڈاکٹر حسن عسکری (2000ء)، ملٹری، اسٹیٹ اینڈ سوسائٹی ان پاکستان، میکملن پریس، لندن۔
6. جلال، عائشہ (2014ء)، دی سٹرگل فار پاکستان: اے مسلم ہوم لینڈ اینڈ گلوبل پولیٹکس، ہارورڈ یونیورسٹی پریس۔
7. دی نیویارک ٹائمز (21 اپریل 1974ء)، فیلڈ مارشل ایوب ڈیڈ؛ ایکس پریذیڈنٹ آف پاکستان۔





