تحصیل پھالیہ میں ذیلداری نظام — گزٹیئر 1921 کی روشنی میں ایک تفصیلی جائزہ
گزٹیئر آف گجرات ڈسٹرکٹ 1921 کے مطابق تحصیل پھالیہ میں انتظامی امور اور محصولات کی وصولی کے لیے ذیلداری نظام ایک بنیادی اور مؤثر ڈھانچے کے طور پر رائج تھا۔ یہ نظام دراصل مقامی سطح پر حکومت کی گرفت مضبوط رکھنے، محصولات کی باقاعدہ وصولی کو یقینی بنانے اور دیہی انتظامیہ کو فعال رکھنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ اس نظام کی جڑیں سکھ دور حکومت تک جاتی ہیں، جبکہ برطانوی دور میں اسے مزید منظم اور وسیع کر دیا گیا۔
سکھ دور میں تحصیل پھالیہ کو پانچ بڑی ذیلوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں ہیلن، پھالیہ، جوکالیاں، پبریاں والی اور وسو سوہاوہ شامل تھیں۔ یہ تقسیم اس وقت کے لحاظ سے ایک بنیادی انتظامی ڈھانچہ فراہم کرتی تھی، جس کے ذریعے مقامی معاملات کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ ہر ذیل ایک مخصوص جغرافیائی اور سماجی اکائی تھی، جہاں ایک ذیلدار کو مقرر کیا جاتا تھا جو حکومتی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیتا تھا۔
برطانوی دور میں، خاص طور پر 1920 کے قریب، اس نظام کو مزید تفصیل اور وسعت دی گئی۔ تحصیل پھالیہ میں ذیلوں کی تعداد بڑھا کر 20 کر دی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آبادی، زمین اور انتظامی ضروریات میں اضافہ ہو چکا تھا۔ ان ذیلوں میں مونگ، سوہاوہ، جوکالیاں، ہیلن، قادر آباد، نہی جی، رکن، برج گہنا، میانہ گوندل، پہریاں والی، ہسلیاں والی، چیلیاں والی، شہیداں والی، پھالیہ، رندیالی، میانوال، کوتھالہ شیخاں، چک دادن، شیرے والا اور بوسال شامل تھے۔
ہر ذیل کے ساتھ ایک ذیلدار مقرر تھا، جو عام طور پر مقامی بااثر خاندان یا قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ مثال کے طور پر مونگ کے ذیلدار چوہدری خدا بخش تھے جو اول درجے کے ذیلدار تھے، جبکہ سوہاوہ میں چوہدری سردار خان اور جوکالیاں میں چوہدری سکندر خان اسی درجے پر فائز تھے۔ اسی طرح دیگر ذیلوں میں بھی مختلف درجوں کے ذیلدار مقرر کیے گئے تھے، جنہیں اول، دوم اور سوم گریڈ میں تقسیم کیا گیا تھا۔ یہ گریڈ دراصل ان کے اثر و رسوخ، ذمہ داریوں اور حکومتی اعتماد کی سطح کو ظاہر کرتے تھے۔
ذیلداری نظام صرف محصولات کی وصولی تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا کردار کہیں زیادہ وسیع تھا۔ ذیلدار مقامی سطح پر حکومت کے نمائندے ہوتے تھے اور انہیں انتظامی، سماجی اور بعض اوقات عدالتی اختیارات بھی حاصل ہوتے تھے۔ وہ پولیس اور دیگر حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر امن و امان برقرار رکھنے میں مدد دیتے تھے۔ دیہات میں ہونے والے تنازعات، زمین کے معاملات اور دیگر مقامی مسائل میں بھی ان کا کردار اہم ہوتا تھا۔
مزید برآں، اس دور میں بعض ذیلدار نہ صرف انتظامی عہدوں پر فائز تھے بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی فعال تھے۔ ان میں سے کئی افراد ڈسٹرکٹ بورڈ گجرات کے منتخب ممبران بھی تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ذیلدار صرف حکومتی نمائندے ہی نہیں بلکہ مقامی قیادت کا بھی اہم حصہ تھے۔ مثال کے طور پر چوہدری سکندر خان (ذیلدار جوکالیاں) اور چوہدری فتح علی جیسے افراد نہ صرف اپنے علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتے تھے بلکہ ضلع کی سطح پر بھی فیصلہ سازی میں شامل تھے۔
کچھ ذیلداروں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی مجسٹریٹ کے اختیارات بھی دیے گئے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت ان پر کس حد تک اعتماد کرتی تھی۔ چوہدری غلام محمد (ذیلدار پہریاں والی) اور چوہدری خدا بخش (مونگ) ان نمایاں شخصیات میں شامل تھے جنہیں یہ اعزاز حاصل تھا۔ ان اختیارات کے تحت وہ بعض عدالتی معاملات میں بھی فیصلے کرنے کے مجاز ہوتے تھے، جس سے ان کی حیثیت مزید مستحکم ہو جاتی تھی۔
یہ پورا نظام دراصل ایک ایسے انتظامی ماڈل کی عکاسی کرتا ہے جس میں مرکزی حکومت نے مقامی بااثر افراد کو اپنے ساتھ ملا کر ایک مؤثر حکومتی ڈھانچہ قائم کیا۔ اس کے ذریعے نہ صرف محصولات کی وصولی آسان ہوئی بلکہ دیہی علاقوں میں حکومتی عملداری بھی مضبوط ہوئی۔ تحصیل پھالیہ جیسے وسیع اور زیادہ تر دیہی علاقے میں اس نظام کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہاں براہِ راست حکومتی نگرانی ممکن نہیں تھی۔
تحصیل پھالیہ میں ذیلداری نظام کا مطالعہ ہمیں اس دور کے دیہی انتظامی ڈھانچے، طاقت کے توازن اور مقامی قیادت کے کردار کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ نظام ایک طرف نوآبادیاتی حکمت عملی کی نمائندگی کرتا ہے تو دوسری طرف مقامی سماجی ڈھانچے کے ساتھ اس کے انضمام کی بھی ایک مثال ہے۔
آج کے دور میں اگرچہ یہ نظام ختم ہو چکا ہے، لیکن اس کے اثرات اب بھی دیہی معاشرت اور مقامی قیادت کے ڈھانچے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ بہت سے وہ خاندان جو اس وقت ذیلدار تھے، آج بھی اپنے علاقوں میں سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اس طرح تحصیل پھالیہ کا ذیلداری نظام نہ صرف ایک انتظامی باب ہے بلکہ اس خطے کی سماجی تاریخ کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔

Leave a Reply