Numerdari System (Phaliya Tehsil and Gujrat District) — A Comprehensive Review in the Light of Gazetteer 1921

Muzammal Hussain Cheema May 4, 2026 1 min read

نمبرداری نظام (تحصیل پھالیہ و ضلع گجرات) — گزٹیئر 1921 کی روشنی میں ایک جامع جائزہ

گزٹیئر آف گجرات 1921 کے مطابق نمبردار، جنہیں گاؤں کا سربراہ یا لیمبردار بھی کہا جاتا تھا، دیہی انتظامیہ اور محصولات کی وصولی کے نظام میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔ برطانوی دور کے انتظامی ڈھانچے میں یہ کردار اس قدر اہم تھا کہ مقامی سطح پر حکومت کی عملداری کا انحصار بڑی حد تک انہی افراد پر ہوتا تھا۔ نمبردار دراصل حکومت اور دیہاتی آبادی کے درمیان ایک رابطہ کار کے طور پر کام کرتے تھے، جو نہ صرف مالی معاملات بلکہ انتظامی اور سماجی ذمہ داریوں کو بھی نبھاتے تھے۔

ضلع گجرات میں نمبرداروں کی تعداد کو وقت کے ساتھ کم کیا گیا تاکہ ان کے معاوضے میں اضافہ کیا جا سکے اور ان سے زیادہ مؤثر کارکردگی حاصل کی جا سکے۔ 1920 کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں کل 2,568 نمبردار تھے، جن میں سے 1,028 تحصیل گجرات، 797 تحصیل کھاریاں اور 743 تحصیل پھالیہ میں تعینات تھے۔ اس تقسیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحصیل پھالیہ میں بھی نمبرداروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جو اس کے وسیع دیہی ڈھانچے اور انتظامی ضروریات کی عکاسی کرتی ہے۔

نمبردار کے فرائض میں سب سے اہم ذمہ داری محصولاتِ اراضی کی وصولی تھی۔ ہر نمبردار اپنے گاؤں یا مخصوص علاقے سے زمین کا ٹیکس جمع کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کا پابند ہوتا تھا۔ اوسطاً ایک نمبردار تقریباً 426 روپے کے ریونیو کا ذمہ دار ہوتا تھا، جو اس وقت کے لحاظ سے ایک قابلِ ذکر رقم تھی۔ اس کے علاوہ نمبردار پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی مدد بھی کرتے تھے، خاص طور پر جرائم کی روک تھام اور امن و امان برقرار رکھنے میں ان کا کردار اہم ہوتا تھا۔

جنگی حالات میں نمبرداروں کو مزید ذمہ داریاں بھی سونپی جاتی تھیں، جیسے کہ فوج میں بھرتی کے لیے مقامی نوجوانوں کو تیار کرنا اور حکومت کے ساتھ تعاون کرنا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا کردار صرف دیہی انتظام تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ ریاستی پالیسیوں کے نفاذ میں بھی شریک ہوتے تھے۔ اسی طرح نمبردار گاؤں کے مشترکہ فنڈ “ملبہ” کی وصولی اور اس کے استعمال کے ذمہ دار بھی ہوتے تھے۔ یہ فنڈ عام طور پر گاؤں کے اجتماعی اخراجات کے لیے استعمال ہوتا تھا، جیسے سرکاری مہمانوں کی میزبانی یا دیگر ضروریات۔

نمبرداروں کو ان کی خدمات کے عوض مختلف مراعات بھی دی جاتی تھیں۔ سب سے اہم معاوضہ “پچوترا” کہلاتا تھا، جو کہ محصولاتِ اراضی کا 5 فیصد ہوتا تھا۔ یہ رقم ایک اضافی سیس کے طور پر وصول کی جاتی تھی اور نمبردار کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ نہری پانی کے محصولات یعنی آبیانہ کی وصولی پر انہیں 3 فیصد کمیشن بھی دیا جاتا تھا، جو ان کے لیے ایک اضافی مالی فائدہ تھا۔

ماضی میں نمبرداروں کے اوپر ایک اعلیٰ عہدہ بھی موجود تھا جسے “اعلیٰ نمبردار” یا “آلا لیمبردار” کہا جاتا تھا۔ یہ شخص ایک وسیع علاقے کے نمبرداروں کی نگرانی کرتا تھا اور اس کے پاس زیادہ اختیارات ہوتے تھے۔ تاہم برطانوی حکومت نے 1909 میں اس عہدے کو ختم کر دیا، غالباً انتظامی سادگی اور براہِ راست کنٹرول کو بہتر بنانے کے لیے۔ اس کے باوجود جو افراد اس وقت اس عہدے پر فائز تھے، انہیں تاحیات ایک فیصد اضافی فیس دی جاتی رہی، جو ان کی سابقہ حیثیت کا اعتراف تھا۔

نمبردار کا عہدہ عموماً موروثی ہوتا تھا، یعنی ایک ہی خاندان میں نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا تھا۔ تاہم اس کے لیے حکومتی منظوری لازمی تھی، اور اگر کوئی نمبردار اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا نہ کرے تو اسے ہٹایا بھی جا سکتا تھا۔ اس شرط نے اس عہدے کو ایک حد تک جوابدہ بھی بنایا اور کارکردگی کو بہتر رکھنے میں مدد دی۔

تحصیل پھالیہ جیسے مکمل طور پر دیہی علاقے میں نمبردار کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا تھا، کیونکہ یہاں براہِ راست حکومتی رسائی محدود تھی۔ ایسے میں نمبردار ہی وہ شخصیت ہوتا تھا جو مقامی سطح پر حکومتی پالیسیوں کو نافذ کرتا، لوگوں کے مسائل حکومت تک پہنچاتا اور دیہات میں نظم و نسق کو برقرار رکھتا تھا۔

یہ نظام دراصل ایک ایسا انتظامی ماڈل تھا جس میں مقامی سماجی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے حکومت نے اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط بنایا۔ نمبردار چونکہ مقامی برادریوں سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے انہیں لوگوں کا اعتماد بھی حاصل ہوتا تھا، جو انتظامی عمل کو مزید مؤثر بناتا تھا۔

آج اگرچہ نمبرداری نظام اپنی اصل شکل میں موجود نہیں، لیکن اس کے اثرات اب بھی دیہی معاشرت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں نمبردار یا ان کے خاندان اب بھی سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جو اس تاریخی نظام کی پائیداری اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

تحصیل پھالیہ میں نمبرداروں کا یہ کردار ہمیں اس دور کے دیہی انتظامی ڈھانچے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جہاں ایک طرف حکومت کی ضروریات تھیں اور دوسری طرف مقامی سماجی حقیقتیں۔ ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنے میں نمبردار ایک کلیدی حیثیت رکھتے تھے، جو انہیں اس نظام کا لازمی حصہ بناتا ہے۔

Muzammal Hussain Cheema
Author: Muzammal Hussain Cheema

Foundar of Findora Directory

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *