بسم اللہ الرحمن الرحیم
قرآنِ مجید نے جس معاشرے کی تشکیل چاہی ہے، اس کی بنیاد عدلِ اجتماعی پر رکھی ہے۔ قرآن کے نزدیک انصاف کوئی ثانوی اخلاقی قدر نہیں بلکہ وہ ستون ہے جس پر پورا سماجی، قانونی اور اخلاقی نظام قائم ہوتا ہے۔ جب عدل قائم رہتا ہے تو طاقت حدود میں رہتی ہے، قانون کمزور کی ڈھال بنتا ہے، اور معاشرہ توازن کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ اور جب عدل اٹھا لیا جائے تو طاقت ظلم بن جاتی ہے، قانون کھلونا بن جاتا ہے، اور معاشرہ بکھر جاتا ہے۔
قرآن سب سے پہلے یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ عدل اللہ کی صفت ہے، اور انسانی معاشرے میں عدل کا قیام دراصل اللہ کے نظام کی پیروی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور اہلِ علم بھی کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔”
(سورۃ آل عمران: 18، ترجمہ فتح محمد جالندھری)
یہ آیت بتاتی ہے کہ عدل محض انسانی ضرورت نہیں بلکہ الٰہی نظام کا حصہ ہے۔ جس معاشرے میں عدل پامال ہوتا ہے، وہاں دراصل اللہ کی صفت کو نظرانداز کیا جاتا ہے، اور یہی چیز سماجی بگاڑ کو جنم دیتی ہے۔
قرآن عدل کو فردی نہیں بلکہ اجتماعی فریضہ قرار دیتا ہے۔ فرمایا:
“اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، اگرچہ وہ خود تمہارے خلاف ہو یا ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف۔”
(سورۃ النساء: 135)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عدل کا تعلق جذبات، تعلقات یا مفادات سے نہیں بلکہ حق سے ہے۔ معاشرے اس وقت ٹوٹتے ہیں جب انصاف رشتوں، جماعتوں یا طاقتور طبقات کے تابع ہو جاتا ہے۔ قرآن ایسے انصاف کو انصاف ماننے سے ہی انکار کر دیتا ہے۔
قانون کے باب میں قرآن یہ اصول دیتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو۔ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ معیار قرآن کے نزدیک ظلم ہے۔ فرمایا:
“اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے۔”
(سورۃ المائدہ: 8)
یہ آیت اس سماجی بیماری کی جڑ کاٹ دیتی ہے جس میں قانون دوست و دشمن دیکھ کر بدل جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انصاف دشمن کے لیے بھی ہو تو وہی عدل ہے، ورنہ وہ محض انتقام ہے۔
قرآن کمزور طبقے کو عدلِ اجتماعی کا مرکز بناتا ہے۔ یتیم، مسکین، غلام، مسافر اور نادار بار بار قرآن میں ذکر کیے گئے ہیں، تاکہ معاشرہ طاقت کے نشے میں انہیں فراموش نہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر بہتر طریقے سے، یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائے۔”
(سورۃ الانعام: 152)
یہ حکم بتاتا ہے کہ کمزور کا حق سب سے پہلے محفوظ ہونا چاہیے، کیونکہ طاقتور تو خود اپنا دفاع کر لیتا ہے۔ جس معاشرے میں کمزور محفوظ ہو، وہی معاشرہ درحقیقت عادل کہلاتا ہے۔
قرآن طاقت کے غلط استعمال کو اجتماعی فساد قرار دیتا ہے۔ فرمایا:
“یہ وہ لوگ ہیں کہ جب زمین میں اقتدار پاتے ہیں تو فساد کرتے ہیں اور کھیتی اور نسل کو تباہ کرتے ہیں، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔”
(سورۃ البقرہ: 205)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ طاقت اگر عدل کے تابع نہ ہو تو وہ ترقی نہیں بلکہ تباہی کا ذریعہ بنتی ہے۔ آج کے معاشروں میں یہی منظر دکھائی دیتا ہے جہاں قانون طاقتور کے ہاتھ میں ہتھیار بن چکا ہے، اور کمزور انصاف کے لیے دربدر ہے۔
عدلِ اجتماعی کا ایک اہم پہلو معاشی انصاف ہے۔ قرآن دولت کے ارتکاز کو سماجی بگاڑ کی جڑ قرار دیتا ہے۔ فرمایا:
“تاکہ مال تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔”
(سورۃ الحشر: 7)
یہ آیت بتاتی ہے کہ جب دولت چند ہاتھوں میں قید ہو جائے تو معاشرہ توازن کھو دیتا ہے۔ قرآن کی نظر میں ایسا نظام عدل کے خلاف ہے، چاہے وہ کتنا ہی مہذب کیوں نہ دکھائی دے۔
قرآن ناپ تول میں کمی، دھوکے اور معاشی استحصال کو اجتماعی جرم قرار دیتا ہے:
“اور ناپ تول میں کمی نہ کرو، ہم کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔”
(سورۃ الانعام: 152)
یہ حکم صرف بازار کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشی نظام کے لیے ہے۔ جہاں لین دین میں انصاف نہ ہو، وہاں اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ عدل نہ ہونے کی صورت میں قومیں اجتماعی سزا کی مستحق ہو جاتی ہیں:
“اور یہ بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں جب انہوں نے ظلم کیا۔”
(سورۃ الکہف: 59)
یہ کوئی تاریخی قصہ نہیں بلکہ ایک دائمی قانون ہے۔ ظلم وقتی طور پر طاقت دے سکتا ہے، مگر انجام کے اعتبار سے وہ ہمیشہ زوال لاتا ہے۔
عدلِ اجتماعی کا تعلق آخرت سے بھی جڑا ہوا ہے، تاکہ انسان یہ نہ سمجھے کہ ظلم بے حساب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھیں گے، پھر کسی پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا۔”
(سورۃ الانبیاء: 47)
یہ آیت انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے کہ ہر فیصلہ، ہر خاموشی، ہر ناانصافی ایک دن تولی جائے گی۔ یہی احساس عدلِ اجتماعی کی روح ہے۔
قرآن کے نزدیک عدل محض قانونی نظام نہیں بلکہ اخلاقی فضا ہے۔ جب انصاف معاشرے میں عام ہو جاتا ہے تو امن جنم لیتا ہے:
“اور اگر لوگ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے۔”
(سورۃ الاعراف: 96)
یہ وعدہ بتاتا ہے کہ عدل صرف ذمہ داری نہیں بلکہ رحمت بھی ہے۔ انصاف سے معاشرے میں اعتماد، امن اور استحکام پیدا ہوتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے نزدیک عدلِ اجتماعی معاشرے کی بنیاد ہے۔ قانون کا مقصد طاقتور کو بچانا نہیں بلکہ کمزور کو تحفظ دینا ہے۔ طاقت کا مصرف خدمت ہے، غلبہ نہیں۔ اور انصاف وہ میزان ہے جس سے معاشرتی توازن قائم رہتا ہے۔ جب قرآن کے یہ اصول زندگی کا حصہ بن جائیں تو معاشرہ ظلم سے نکل کر امن، وقار اور استحکام کی طرف بڑھتا ہے، اور یہی قرآن کا مطلوب معاشرہ ہے۔





