کریانہ دکاندار ہمارے معاشرے کا وہ کردار ہے جو بظاہر چھوٹا دکھائی دیتا ہے مگر درحقیقت معیشت، نفسیات، سیاست اور خاندانی نظام کا مشترکہ نصاب پڑھاتا ہے۔ اگر کسی نے زندگی میں کچھ نہیں سیکھا تو وہ ایک مہینہ ادھار پر کریانہ لے کر دیکھ لے، اسے نہ صرف اپنی حیثیت کا اندازہ ہو جائے گا بلکہ یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں عزت کس چیز کا نام ہے اور کہاں تک چلتی ہے۔
کریانہ دکاندار کی دکان دراصل ایک چھوٹا سا اقوامِ متحدہ ہوتی ہے، جہاں ہر طبقے کے لوگ اپنی اپنی قراردادیں لے کر آتے ہیں۔ کوئی آٹا مانگ رہا ہے، کوئی چینی، کوئی صرف حال احوال پوچھنے آیا ہے تاکہ جاتے جاتے آدھا کلو دال ادھار میں لے جائے۔ دکاندار سب کو سنتا ہے، سر ہلاتا ہے، اور آخر میں ایک ایسی نظر ڈالتا ہے جس میں حساب بھی ہوتا ہے، ماضی بھی اور مستقبل کی دھمکی بھی۔
یہ دکاندار بظاہر سیدھا سادہ ہوتا ہے، مگر اس کے اندر ایک مکمل کمپیوٹر چھپا ہوتا ہے، وہ بھی ایسا جس میں نہ بجلی جاتی ہے نہ ڈیٹا ڈیلیٹ ہوتا ہے۔ آپ نے اگر پچھلے سال ایک پیکٹ نمک ادھار لیا تھا تو وہ آج بھی اس کے دماغ میں محفوظ ہوگا، بلکہ اس کے ساتھ یہ تفصیل بھی کہ آپ نے وہ نمک کس لہجے میں مانگا تھا۔ اور اگر آپ نے اس وقت کہا تھا “کل دے دوں گا”، تو یہ جملہ اس کے ذہن میں کسی مقدس حدیث کی طرح ثبت ہو چکا ہوتا ہے، جس کی تشریح وہ ہر ملاقات میں کرتا ہے۔
کریانہ دکاندار کے پاس دو قسم کے گاہک ہوتے ہیں: ایک وہ جو نقد دیتے ہیں، اور دوسرے وہ جو عزت دیتے ہیں۔ نقد دینے والے اس کے نزدیک عام انسان ہوتے ہیں، مگر عزت دینے والے یعنی ادھار لینے والے اس کے خاص گاہک ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ہر بار آ کر اس کی یادداشت کو تازہ کرتے ہیں اور اس کے صبر کا امتحان لیتے ہیں۔ یوں دکاندار کی روحانی تربیت بھی جاری رہتی ہے اور کاروبار بھی۔
ادھار کا نظام بذاتِ خود ایک فلسفہ ہے۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس میں دینے والا ہمیشہ یاد رکھتا ہے اور لینے والا ہمیشہ بھول جاتا ہے۔ دکاندار جب کھاتے کی کاپی کھولتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پرانا مورخ تاریخ کے اوراق الٹ رہا ہو۔ ہر صفحہ ایک داستان ہے: “چاول — دو کلو، وعدہ — کل”، “چینی — ایک کلو، وعدہ — پکا کل”، “گھی — آدھا کلو، وعدہ — ان شاء اللہ کل”۔ اور یہ “کل” ایسا ضدی لفظ ہے جو کبھی آج نہیں بنتا۔
دکاندار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ آپ کو آپ سے زیادہ جانتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی تنخواہ کب آتی ہے، کب ختم ہوتی ہے، اور کب آپ کے چہرے پر وہ خاص قسم کی عاجزی نمودار ہوتی ہے جو صرف خالی جیب کے ساتھ آتی ہے۔ وہ آپ کے لہجے سے پہچان لیتا ہے کہ آپ خریدنے آئے ہیں یا مانگنے۔
بعض اوقات دکاندار نفسیات کا ایسا ماہر بن جاتا ہے کہ بڑے بڑے پروفیسر اس کے سامنے شاگرد لگتے ہیں۔ ایک گاہک آیا اور بولا، “بھائی صاحب، آدھا کلو چینی دے دیں، پیسے کل دے دوں گا۔” دکاندار نے مسکرا کر کہا، “چینی تو دے دیتا ہوں، بس کل کو بھی ساتھ لے آئیں تاکہ پیسے بھی آ جائیں۔” گاہک نے ہنسنے کی کوشش کی، مگر اس ہنسی میں وہی کڑواہٹ تھی جو بغیر چینی کی چائے میں ہوتی ہے۔
کریانہ دکاندار کی دکان دراصل محلے کی پارلیمنٹ بھی ہوتی ہے۔ یہاں فیصلے بھی ہوتے ہیں، بحثیں بھی، اور کبھی کبھار اپوزیشن واک آؤٹ بھی کر جاتی ہے جب دکاندار کہتا ہے، “پہلے پچھلا حساب چکا دو، پھر بات کریں گے۔” اس جملے میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ بڑے بڑے خوددار لوگ بھی خاموش ہو جاتے ہیں اور نظریں جھکا لیتے ہیں، جیسے قوم سے خطاب کر رہے ہوں۔
یہ دکاندار صرف اشیاء نہیں بیچتا، بلکہ رویے بھی تقسیم کرتا ہے۔ اگر آپ نقد دیں تو وہ آپ کو عزت سے دیکھتا ہے، اگر ادھار مانگیں تو وہ آپ کو غور سے دیکھتا ہے، اور اگر پرانا ادھار یاد دلایا جائے تو وہ آپ کو پہچاننے سے انکار بھی کر سکتا ہے، مگر صرف اس حد تک کہ آپ شرمندہ ہو جائیں، مکمل انکار وہ کبھی نہیں کرتا، کیونکہ کاروبار بھی تو چلانا ہے۔
دکاندار کی سب سے دلچسپ چیز اس کی زبان ہوتی ہے۔ وہ سیدھا “نہیں” کبھی نہیں کہتا، بلکہ ایسے جملے بناتا ہے کہ آپ خود ہی سمجھ جائیں۔ مثلاً “ابھی سامان نہیں آیا”، “آج کل بڑا ٹائٹ چل رہا ہے”، یا “آپ پہلے بھی لے گئے تھے نا”۔ ان جملوں میں نہ صرف انکار ہوتا ہے بلکہ ہلکی سی شرمندگی بھی شامل ہوتی ہے، تاکہ گاہک آئندہ سوچ سمجھ کر آئے۔
محلے کے بچے بھی دکاندار کے ساتھ ایک خاص تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ٹافیاں خریدنے آتے ہیں، کبھی پانچ روپے کی، کبھی ادھار پر۔ دکاندار انہیں بھی یاد رکھتا ہے، کیونکہ یہی بچے بڑے ہو کر وہی گاہک بننے والے ہوتے ہیں جو ادھار لے کر “کل” کا وعدہ کریں گے۔ یوں یہ نظام نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے، جیسے کوئی خاندانی وراثت ہو۔
دکاندار کے پاس ہمیشہ ایک خاص قسم کا ترازو ہوتا ہے، جو صرف وزن نہیں بلکہ تعلقات بھی تولتا ہے۔ بعض گاہکوں کے لیے ایک چٹکی زیادہ ڈال دیتا ہے، اور بعض کے لیے ایک دانہ کم۔ یہ فرق صرف پیسے کا نہیں ہوتا، بلکہ رویے، تعلق اور ادھار کے ریکارڈ کا ہوتا ہے۔
کبھی کبھی دکاندار بھی فلسفی بن جاتا ہے۔ ایک دن میں نے اسے کہتے سنا، “زندگی بھی دکان کی طرح ہے، جو دے دیا وہ چلا گیا، جو رہ گیا وہ حساب میں ہے۔” میں نے سوچا، اگر یہ بندہ یونیورسٹی میں پڑھاتا تو شاید طلبہ کو بھی ادھار پر ڈگری دیتا اور کہتا “پہلے نوکری لگ جاؤ، پھر فیس دے دینا۔”
کریانہ دکاندار کی سب سے بڑی طاقت اس کی خاموشی ہے۔ وہ کم بولتا ہے، مگر جب بولتا ہے تو سیدھا دل پر اثر کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ جملہ: “بھائی صاحب، حساب کر لیں؟” یہ ایسا جملہ ہے جو سن کر بندہ فوراً اپنی مالی حالت، خاندانی پس منظر اور مستقبل کے امکانات پر غور کرنے لگتا ہے۔
یہ دکاندار نہ ہوتا تو شاید ہمیں اپنی اوقات کا اندازہ کبھی نہ ہوتا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف خوابوں کا نام نہیں، بلکہ حساب کتاب بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اور اگر حساب نہ رکھا جائے تو خواب بھی ادھار میں چلے جاتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کریانہ دکاندار ہمارے معاشرے کا وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنی اصل شکل دیکھ سکتے ہیں۔ وہ ہمیں وہی دیتا ہے جو ہم مانگتے ہیں، مگر ساتھ میں وہ سبق بھی دے جاتا ہے جو ہم مانگتے نہیں۔ اور یہی اس کی اصل مہارت ہے: وہ ہمیں سامان کے ساتھ ساتھ زندگی کا حساب بھی تھما دیتا ہے، وہ بھی بغیر کسی اضافی چارج کے۔





