جنرل سر ڈگلس ڈیوڈ گریسی
پاک فوج کے سربراہ | برطانوی عسکری کمانڈر | کمانڈر ان چیف
تعارف
جنرل سر ڈگلس ڈیوڈ گریسی 3 ستمبر 1894ء کو مظفر نگر (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے اور 5 جون 1964ء کو سرے (انگلستان) میں وفات پا گئے۔ وہ برطانوی فوج کے ایک نامور عسکری کمانڈر تھے جنہوں نے 1948ء سے 1951ء تک پاک فوج کے دوسرے کمانڈر ان چیف کے طور پر فرائض انجام دیے۔
قیامِ پاکستان سے قبل وہ برٹش انڈین آرمی سے وابستہ رہے اور پہلی و دوسری جنگِ عظیم کے مختلف بین الاقوامی محاذوں پر عسکری خدمات سرانجام دیں۔ وہ 1947ء سے 1948ء تک پاک فوج کے پہلے چیف آف اسٹاف بھی رہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
گریسی ہندوستان کے شمال مغربی صوبوں کے شہر مظفر نگر میں برطانوی والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انگلستان کے بلنڈلز اسکول میں حاصل کی، جس کے بعد وہ عسکری تربیت کے لیے رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ میں داخل ہوئے۔
15 اگست 1914ء کو انہوں نے سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے برٹش انڈین آرمی کی ان اٹیچڈ لسٹ میں باضابطہ کمیشن حاصل کیا اور عملی فوجی زندگی کا آغاز کیا۔
پہلی جنگِ عظیم اور عسکری خدمات
1915ء کے اوائل میں گریسی کو رائل منسٹر فیوزلیئرز کے ہمراہ فرانس کے محاذ پر بھیجا گیا جہاں وہ مئی 1915ء میں زخمی ہوئے۔ ستمبر 1915ء میں ان کی تعیناتی فرسٹ کنگ جارجز اون گورکھا رائفلز (دی ملاؤں رجمنٹ) میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کر دی گئی۔
اپنی گورکھا رجمنٹ کے ساتھ انہوں نے میسوپوٹیمیا اور فلسطین کے محاذوں پر غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ جرات مندانہ قیادت کے اعتراف میں انہیں 1917ء میں ملٹری کراس (MC) اور 1919ء میں بار ٹو ملٹری کراس سے نوازا گیا، جبکہ اگست 1918ء میں وہ باقاعدہ کیپٹن کے عہدے پر فائز ہوئے۔
جنگوں کے درمیانی دور کی تقرریاں
1925ء میں گریسی نے رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ میں کیڈٹ کمپنی کے انسٹرکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1928ء سے 1929ء تک انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن کی، جہاں ان کے ہم جماعتوں میں کولن گبنز اور جان کروکر جیسے مستقبل کے نامور جرنیل شامل تھے۔
1930ء کی دہائی میں وہ جی ایچ کیو انڈیا اور ویسٹرن کمانڈ میں جنرل اسٹاف آفیسر (GSO2) کے عہدوں پر تعینات رہے۔ فروری 1939ء میں انہیں باقاعدہ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
دوسری جنگِ عظیم: مشرقِ وسطیٰ اور برما کا محاذ
ستمبر 1939ء میں دوسری جنگِ عظیم کے آغاز پر گریسی شمال مغربی سرحد پر تھرڈ گورکھا رائفلز کی سیکنڈ بٹالین کی کمان کر رہے تھے۔ 1941ء میں انہوں نے 17th انڈین انفنٹری بریگیڈ کے کمانڈر کے طور پر بصرہ (عراق) اور بعد ازاں شام و لبنان کی مہم میں اہم دفاعی فرائض انجام دیے۔
اپریل 1942ء میں میجر جنرل کا عہدہ سنبھال کر انہوں نے 20th انڈین انفنٹری ڈویژن کی بنیاد رکھی اور برما کے محاذ پر معرکہِ امپھال میں جاپانی افواج کے خلاف سخت معرکے لڑے۔ 1945ء کے اوائل میں ان کے ڈویژن نے دریائے ارراوڈی کو عبور کر کے منڈالے اور میکتیلا کی جانب جاپانی رسد کے راستے کاٹ دیے، جس پر فیلڈ مارشل ولیم سلم نے ان کی قیادت کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔
ہند چینی (ویتنام) کا آپریشن
پوٹسڈم کانفرنس کے فیصلوں کے تحت ستمبر 1945ء میں گریسی نے اپنے ڈویژن کے 20 ہزار فوجیوں کے ہمراہ سائیگون (جنوبی ویتنام) کا انتظام سنبھالا تاکہ جاپانی افواج کے ہتھیار ڈالنے کے عمل کو مکمل کرایا جا سکے۔
کمیونسٹ ویت منہ کی طرف سے فرانسیسی شہریوں کے خلاف پرتشدد مظاہروں اور امن و امان کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر انہوں نے مارشل لاء نافذ کیا، عمارتوں کا کنٹرول بحال کرایا اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے۔ مارچ 1946ء میں فرانسیسی فوج کی آمد کے بعد وہ اپنے دستوں کے ساتھ ہندوستان واپس لوٹے۔
قیامِ پاکستان اور بطور کمانڈر ان چیف خدمات
تقسیمِ ہند کے بعد 1947ء میں گریسی پاکستان آرمی کے جی ایچ کیو کے پہلے چیف آف اسٹاف بنے۔ فروری 1948ء میں جنرل سر فرینک میسروی کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پاک فوج کے دوسرے کمانڈر ان چیف کا عہدہ سنبھالا اور اپریل 1951ء تک اس منصب پر فائز رہے۔
انہوں نے نئی مملکت کی فوج کو جدید خطوط پر منظم کیا، تربیتی مراکز قائم کیے اور سازوسامان کی شدید قلت کے باوجود پاک فوج کے دفاعی نظم کو ٹھوس بنیادیں فراہم کیں۔
کشمیر تنازع اور عسکری مؤقف
اکتوبر 1947ء میں جب کشمیر کی صورتحال کشیدہ ہوئی تو جنرل میسروی کی لندن میں موجودگی کے باعث گریسی قائم مقام کمانڈر ان چیف تھے۔ گورنر جنرل قائدِ اعظم محمد علی جناح کی جانب سے کشمیر میں باقاعدہ فوج بھیجنے کی ہدایت پر انہوں نے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل آچنلیک کی ‘اسٹینڈ ڈاؤن‘ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے توثیق چاہی۔
دونوں ریاستوں کی افواج کے برطانوی افسران کے ماتحت ہونے کی پیچیدگی واضح ہونے پر وقتی طور پر یہ فیصلہ موخر ہوا، تاہم 1948ء میں پاک فوج نے کشمیر کے دفاعی محاذوں پر مکمل کمان سنبھال کر اہم پوزیشنوں کا کامیابی سے دفاع کیا۔
ریٹائرمنٹ، بعد کی زندگی اور وفات
اپریل 1951ء میں گریسی پاک فوج کی سربراہی سے سبکدوش ہوئے اور کمان جنرل محمد ایوب خان کو سونپ دی، جس کے ساتھ ہی پاک فوج کی قیادت مستقل طور پر ملکی افسران کے ہاتھ میں آگئی۔ حکومتِ پاکستان کی سفارش پر برطانوی تاج کی جانب سے انہیں نائٹ کمانڈر آف دی آرڈر آف دی باتھ (KCB) اور جنرل کا اعزازی رینک عطا کیا گیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ انگلستان کے علاقے سرے میں سکونت پذیر ہوئے، جہاں انہوں نے پٹنی کے رائل ہسپتال برائے معذورین کی صدارت سنبھالی اور میریلیبون کرکٹ کلب (MCC) کے معاملات میں متحرک رہے۔ 5 جون 1964ء کو 69 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔
حوالہ جات
1. میڈ، رچرڈ (2007ء)، چرچل کے جرنیل، پین اینڈ سورڈ ملٹری، بارنزلے۔
2. سلم، فیلڈ مارشل ولیم (1972ء)، ڈیفیٹ انٹو وکٹری، کیسیل، لندن۔
3. سمارٹ، نک (2005ء)، بائیوگرافیکل ڈکشنری آف برٹش جنرلز آف دی سیکنڈ ورلڈ وار، پین اینڈ سورڈ۔
4. ڈن، پیٹر ایم (1985ء)، دی فرسٹ ویتنام وار، سینٹ مارٹنز پریس، نیویارک۔
5. اسمتھ، ٹی او (2014ء)، ویتنام اینڈ دی انریولنگ آف ایمپائر: جنرل گریسی ان ایشیا 1942–1951، پالگریو میکملن۔
6. لمبی، ایڈمنڈ ڈبلیو (1981ء)، ٹرانسفر آف پاور ان انڈیا: 1945 تا 1947، جارج ایلن اینڈ انون، لندن۔
7. دی لندن گزٹ، سپلیمنٹ نمبر 39108 (29 دسمبر 1950ء) اور نمبر 39297 (27 جولائی 1951ء)۔





