جنرل سر فرینک والٹر میسروی
پاک فوج کے سربراہ | برطانوی عسکری کمانڈر | کمانڈر ان چیف
تعارف
جنرل سر فرینک والٹر میسروی 9 دسمبر 1893ء کو پیدا ہوئے اور 2 فروری 1974ء کو وفات پا گئے۔ وہ برطانوی فوج کے ایک ممتاز افسر تھے جنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد 1947ء سے 1948ء تک پاک فوج کے پہلے کمانڈر ان چیف کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔
پاکستان کی آزادی سے قبل وہ برٹش انڈین آرمی سے وابستہ رہے، جہاں انہوں نے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے مختلف محاذوں پر عسکری کمان سنبھالی۔ 1946ء اور 1947ء کے دوران وہ برٹش انڈیا کی ناردرن کمانڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف بھی رہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
میسروی برطانوی نوآبادی ٹرینیڈاڈ میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد والٹر جان میسروی ایک بینک کے مینیجر تھے۔ ان کی والدہ کا تعلق بھی ٹرینیڈاڈ کے ڈی بوئسیئر خاندان سے تھا۔
ابتدائی عمر میں ہی انہیں تعلیم کے لیے انگلستان بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے باوقار ادارے ایٹن کالج اور بعد ازاں رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ سے عسکری تعلیم و تربیت مکمل کی۔ جنوری 1913ء میں انہوں نے باضابطہ طور پر انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔
ابتدائی عسکری کیریئر اور پہلی جنگِ عظیم
1914ء میں میسروی نے نائنتھ ہڈسن ہارس (جو بعد میں فورتھ ڈیوک آف کیمبرجز اون ہڈسن ہارس بنی) میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے 1914ء سے 1918ء کے دوران پہلی جنگِ عظیم کے دوران فرانس، فلسطین اور شام کے محاذوں پر بھرپور عسکری کارروائیوں میں حصہ لیا اور 1919ء میں کردستان کے محاذ پر بھی خدمات دیں۔
کیمبرلی اسٹاف کالج سے تربیت مکمل کرنے کے بعد 1932ء سے 1936ء تک وہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر رہے، جہاں فیلڈ مارشل برنارڈ مونٹگمری بھی ان کے رفقائے کار میں شامل تھے۔ 1938ء سے 1939ء تک وہ تھرٹینتھ ڈیوک آف کناٹس اون لانسرز کے کمانڈنگ آفیسر رہے۔
دوسری جنگِ عظیم: مشرقی و شمالی افریقہ
ستمبر 1939ء میں میسروی کو کرنل کے عہدے پر ترقی دے کر ففتھ انڈین انفنٹری ڈویژن کا جی ایس او ون مقرر کیا گیا، اور بعد میں انہیں گزیل فورس کا کمانڈر بنایا گیا۔ انہوں نے سوڈان اور اریٹیریا میں اطالوی افواج کے خلاف گزیل فورس کی قیادت کرتے ہوئے نمایاں فتوحات حاصل کیں، جن میں کیرن کی تاریخی لڑائی شامل ہے۔
اپریل 1941ء میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد وہ فورتھ انڈین ڈویژن کے ساتھ شمالی افریقہ پہنچے، جہاں انہوں نے آپریشن بیٹل ایکس اور آپریشن کروسیڈر میں حصہ لیا۔ نومبر 1941ء میں ان کی زیرِ کمان ڈویژن نے مصر و لیبیا کی سرحد پر جرمن فیلڈ مارشل ارون رومل کے ٹینکوں کے حملے کو کامیابی سے پسپا کیا۔
شمالی افریقہ کا صحرائی معرکہ
1942ء کے اوائل میں انہوں نے مختصر مدت کے لیے فرسٹ آرمرڈ ڈویژن اور بعد ازاں سیونتھ آرمرڈ ڈویژن (ڈیزرٹ ریٹس) کی قیادت سنبھالی۔ اس تقرری کی بدولت وہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی فوج کے ڈویژن کی کمان سنبھالنے والے برٹش انڈین آرمی کے واحد افسر بنے۔
غزالہ کی لڑائی کے دوران جب جرمن افواج نے ان کے ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا، تو میسروی گرفتار ہو گئے؛ تاہم انہوں نے اپنے بیجز اور رینک ہٹا کر جرمنوں کو باور کرایا کہ وہ ایک ذاتی ملازم (بیٹ مین) ہیں، اور اگلے ہی روز فرار ہو کر اپنی فورسز سے دوبارہ جا ملے۔ صحرائی جنگ میں بکتر بند بریگیڈز کے نقصان کے بعد جون 1942ء میں انہیں کمان سے ہٹا کر مڈل ایسٹ کمانڈ قاہرہ میں تعینات کیا گیا۔
ہندوستان اور برما کا محاذ
1943ء میں میسروی کو جنرل ہیڈکوارٹرز انڈیا میں بکتر بند گاڑیوں کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اس وقت کی عسکری سوچ کے برعکس دلیل دی کہ برما کے جنگلات میں درمیانے درجے کے ٹینک استعمال کیے جا سکتے ہیں، اور ان کی یہ حکمتِ عملی بعد ازاں جاپانی افواج کے خلاف انتہائی مؤثر ثابت ہوئی۔
جولائی 1943ء میں انہوں نے سیونتھ انڈین انفنٹری ڈویژن کی کمان سنبھالی اور اراکان کے محاذ پر “ایڈمن باکس“ کی مشہور معرکہ آرائی میں فضا سے رسد حاصل کرتے ہوئے جاپانی حملوں کا ڈٹ کر دفاع کیا۔ دسمبر 1944ء میں انہیں فور کور کا کمانڈر بنایا گیا، جس کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے برما کے مواصلاتی مرکز میکتیلا پر قبضہ کیا اور رنگون کی طرف پیش قدمی کی۔ جنگ کے اختتام پر جاپانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کے بعد وہ ملایا کمانڈ کے کمانڈر ان چیف بنائے گئے۔
قیامِ پاکستان اور بطور کمانڈر ان چیف خدمات
تقسیمِ ہند کے نازک دور میں 1946ء سے 1947ء تک میسروی برٹش انڈیا کی ناردرن کمانڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف رہے۔ 15 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کے بعد قائدِ اعظم محمد علی جناح کی منظوری سے انہیں نوزائیدہ پاک فوج کا پہلا کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا۔
انہوں نے محدود وسائل، انتظامی بحران اور تقسیم کے دوران فوجی سازوسامان و اثاثوں کی عدم منتقلی کے باوجود پاک فوج کے ابتدائی ہیڈکوارٹرز اور عسکری انفراسٹرکچر کی تعمیر و تشکیل میں بنیادی تکنیکی کردار ادا کیا۔
کشمیر آپریشن اور تنازعات
اکتوبر 1947ء میں ریاست جموں و کشمیر کے محاذ پر کشیدگی کے دوران قبائلی لشکروں کے داخلے اور فوجی مشاورت کے حوالے سے میسروی کا کردار عسکری تاریخ میں ایک اہم نقطۂ بحث رہا۔ اس آپریشن کے آغاز کے وقت وہ مختصر رخصت پر لندن میں موجود تھے، جس کے باعث جنرل ڈگلس گریسی نے قائم مقام کمان سنبھالی۔
12 نومبر 1947ء کو میسروی نے ایک باضابطہ بیان جاری کیا جس میں بھارتی الزامات کی تردید کی گئی کہ پاک فوج کے حاضر سروس افسران کشمیر میں جنگی کارروائیوں کی قیادت کر رہے ہیں؛ یہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے حق میں بنیادی دستاویز کے طور پر پیش کیا گیا۔
ریٹائرمنٹ اور وفات
جنرل سر فرینک میسروی 15 فروری 1948ء کو پاک فوج کے کمانڈر ان چیف کے منصب سے سبکدوش ہوئے اور 22 اگست 1948ء کو باضابطہ ریٹائرمنٹ لے لی، جس پر انہیں جنرل کا اعزازی رینک تفویض کیا گیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ایشیاٹک ریویو میں کشمیر پر اہم اور مدلل مضامین لکھے جن میں واضح کیا کہ بھارت نے ریاست میں پہلے سے فوجی مداخلت کی تیاری کر رکھی تھی۔ عسکری زندگی کے بعد وہ برطانیہ منتقل ہو گئے اور 2 فروری 1974ء کو جنوبی انگلستان کے گاؤں ہیشاٹ (Heyshott) میں 80 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔
حوالہ جات
1. مول، ہنری (1961ء)، اسپیئر ہیڈ جنرل: دی لائف آف جنرل سر فرینک میسروی، اوڈہمز پریس، لندن۔
2. میڈ، رچرڈ (2007ء)، چرچل کے جرنیل، پین اینڈ سورڈ ملٹری، بارنزلے۔
3. سمارٹ، نک (2005ء)، بائیوگرافیکل ڈکشنری آف برٹش جنرلز آف دی سیکنڈ ورلڈ وار، پین اینڈ سورڈ۔
4. دی لندن گزٹ، سپلیمنٹ نمبر 38041 (8 اگست 1947ء) اور نمبر 38411 (21 ستمبر 1948ء)۔
5. رضوی، مجتبیٰ (1971ء)، دی فرنٹیئرز آف پاکستان، نیشنل پبلشنگ ہاؤس، کراچی۔
6. کوریل، جوزف (1966ء)، ڈینجر ان کشمیر، پرنسٹن یونیورسٹی پریس۔





