Profile
مونگ (Mong)
تعارف
مونگ ضلع منڈی بہاؤالدین کی ایک قدیم، تاریخی اور جغرافیائی طور پر نہایت اہم یونین کونسل اور بڑا دیہی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ نہ صرف اپنی قدرتی خوبصورتی، زرعی اہمیت اور سماجی ساخت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے بلکہ تاریخی حوالوں میں بھی اسے خاص مقام حاصل ہے۔ بعض مؤرخین کے مطابق مونگ کا تعلق قدیم یونانی دور (Alexander the Great) اور پنجاب کی قدیم تہذیبوں سے جوڑا جاتا ہے۔
جغرافیائی محلِ وقوع
مونگ شمالی جانب ضلع منڈی بہاؤالدین کی حدود میں واقع ہے۔
- اسلام آباد سے فاصلہ: تقریباً 150 کلومیٹر
- لاہور سے فاصلہ: تقریباً 200 کلومیٹر
- ضلع ہیڈکوارٹر منڈی بہاؤالدین سے فاصلہ: تقریباً 6 کلومیٹر
قدرتی خصوصیات
مونگ کا جغرافیہ اسے خطے کے دیگر دیہات سے ممتاز بناتا ہے:
- مشرق یا شمالی سمت میں کوہستانی/پہاڑی سلسلے (کھیوڑہ کی سمت کا ذکر کیا جاتا ہے)
- دریائے جہلم کی قربت
- نہر لوئر جہلم کا سامنے سے گزرنا
- شمال مغربی حصے میں “بیلا” یعنی قدرتی جنگلاتی علاقہ
- بلند سطح زمین (Tibba) پر آباد ہونے کی وجہ سے نسبتاً اونچائی والا خطہ
یہ تمام عناصر اسے ایک خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ بناتے ہیں۔
تاریخی پس منظر
قدیم دور اور سکندر اعظم کا زمانہ
مقامی روایات اور بعض تاریخی حوالوں کے مطابق مونگ کی تاریخ سکندر اعظم کے دور تک جاتی ہے۔ ایک مشہور روایت یہ ہے کہ:
- یہاں قدیم شہر “Nicaea” کا تعلق جوڑا جاتا ہے
- سکندر اعظم نے راجہ پورس (Porus) کو شکست دینے کے بعد اس خطے میں مختلف انتظامی شہر قائم کیے
- بعض روایات کے مطابق مونگ اسی تاریخی مہم کا حصہ تھا
اگرچہ جدید تاریخی تحقیق میں اس دعوے پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا، لیکن مقامی سطح پر یہ روایت بہت مضبوط ہے۔
انڈو-پارتھیئن اور سکہ جاتی تاریخ
تاریخی حوالوں میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ:
- یہاں “ماؤس (Maues / Raja Moga)” کے سکے ملے ہیں
- ٹیکسلا اور پنجاب کے قدیم تجارتی و سکہ جاتی نظام سے اس علاقے کا تعلق رہا ہے
- خطہ قدیم سلطنتوں کے درمیان ایک اہم گزرگاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے
جدید تاریخی اہمیت
- دوسری اینگلو سکھ جنگ (Battle of Chillianwala) کا علاقہ قریب واقع ہے
- 1947 کے بعد آبادی کی مکمل مسلم اکثریت قائم ہوئی
- ہندو اور سکھ آبادی ہجرت کر کے بھارت چلی گئی
2005 مونگ واقعہ
- 7 اکتوبر 2005 کو مونگ میں ایک افسوسناک دہشت گرد حملہ ہوا
- احمدی برادری کی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا
- متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے
یہ واقعہ علاقے کی جدید تاریخ میں ایک تکلیف دہ باب سمجھا جاتا ہے۔
آبادی اور سماجی ڈھانچہ
آبادی
- اندازاً 35,000 سے 40,000 افراد پر مشتمل آبادی
اہم برادریاں (Casts/Tribes)
مونگ میں مختلف برادریاں آباد ہیں، جن میں نمایاں:
- آرائیں (Arain)
- کھوکھر (Khokhar)
- جٹ (Jat / Bhool sub-clan)
- جوئیہ (Joiya)
- بھٹی (Bhatti)
- وڑائچ (Waraich)
- چیمہ (Cheema)
- تارڑ (Tarar)
- اعوان (Awan)
- دیگر مقامی ذیلی شاخیں
یہ تمام برادریاں زرعی اور سماجی زندگی میں فعال کردار ادا کرتی ہیں۔
معیشت (Economy)
مونگ کی معیشت بنیادی طور پر زرعی ہے:
- گندم، دھان اور سبزیوں کی کاشت
- مویشی پالنا
- بیرون ملک (خصوصاً خلیجی ممالک) روزگار
- سرکاری و نجی ملازمتیں
تقریباً:
- 15% افراد سرکاری ملازمتوں میں
- 10% بیرون ملک مقیم
تعلیم اور ادارے
تعلیمی ادارے
مونگ میں تعلیمی ڈھانچہ نسبتاً مضبوط ہے:
- گورنمنٹ کمرشل کالج برائے بوائز مونگ
- گورنمنٹ ڈگری کالج برائے گرلز مونگ
- گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول بوائز
- گورنمنٹ ہائی اسکول گرلز
- ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ
- گرین پبلک اسکول
- نیو گلوبل ولیج اسکول
قریب ہی واقع:
- گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول (1906 میں قائم، تاریخی ادارہ)
نمایاں شخصیات
نمایاں سماجی شخصیات
- راجہ غلام رسول (سابق ناظم)
- ڈاکٹر نذیر احمد (سابق ناظم یو سی مونگ)
- چوہدری غلام قادر جُھج (پرنسپل NGVS مونگ)
- راجہ محمد انور
- انصر محمود (کونسلر)
- چوہدری ریاض احمد باوڑہ
- رانا شرافت علی
- راجہ محمد حیات (سابق چیئرمین یو سی مونگ)
- جہانگیر خان بھٹی
- راجہ محمد بوٹا
- چوہدری مظہر اقبال جھج (چیئرمین CCB مونگ)
- خوشی محمد گھگ
- چوہدری ریاض احمد جھج
- رانا ذوالفقار علی (نمبردار)
- چوہدری مبشر نعیم جھج
- مولوی اللہ دتہ (مرحوم)
- چوہدری علی محمد جھج (مرحوم، سابق چیئرمین)
- حافظ غلام مصطفیٰ (مرحوم)
- حاجی احمد دین ٹھیکیدار (مرحوم)
- ملک غلام احمد (مرحوم)
- رانا شمشاد علی (مرحوم)
- چوہدری محبوب عالم (مرحوم)
تعلیم یافتہ اور نمایاں پروفیشنل شخصیات
- ملک امجد (جوائنٹ سیکرٹری، حکومتِ پاکستان)
- پروفیسر ڈاکٹر محمد افضل ملک
- محمد منشا خان (ماس کمیونیکیشن)
- خان محمد جوہر (MA, M.Ed)
- ماسٹر سلطان محمود (MA English)
- ڈاکٹر راجہ مسعود احمد (MBBS، ہارٹ اسپیشلسٹ)
- راجہ خالد محمود (MA, M.Ed)
- رانا عبدالجبار (MSc Economics)
- ملک الطاف حسین (سابق SST)
- ڈاکٹر راجہ اُلفت بشیر (ڈینٹل سرجن)
- میجر رانا لیاقت علی (پاک آرمی)
- رانا صداقت علی ایڈووکیٹ (LLB)
- راجہ محمد شریف (DSP)
- افضال احمد (اسکواڈرن لیڈر PAF)
- فداک بشیر (Oxford University، MA History)
سماجی و فلاحی تنظیمیں
مونگ ویلفیئر آرگنائزیشن
- چیئرمین: ڈاکٹر نذیر احمد (سابق ناظم)
- دیگر عہدیداران پر مشتمل فعال تنظیم
دیگر گروپس
- بدشاہ اینڈ کمپنی (Youth welfare group)
- مقامی سماجی رضاکار ٹیمیں
یہ تنظیمیں تعلیم، صحت اور سماجی خدمت میں کردار ادا کرتی ہیں۔
کھیل اور ثقافت
مونگ میں کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو اہمیت حاصل ہے:
- کرکٹ
- فٹبال
- کبڈی
- کشتی
- شوٹنگ بال
یہاں کھیلوں کے ذریعے نوجوانوں میں مثبت سرگرمیوں کا رجحان پایا جاتا ہے۔
قدرتی ماحول اور سیاحت
مونگ کی قدرتی ساخت اسے ایک خوبصورت دیہی منظرنامہ فراہم کرتی ہے:
- دریائے جہلم کا شمالی کنارہ
- نہری نظام
- قدرتی جنگلات (بیلا ایریا)
- بلند ٹیلے (Tibba)
- رسول بیراج کے قریب سیاحتی مقامات
یہ عناصر اسے ایک نیم سیاحتی دیہی علاقہ بناتے ہیں۔
تاریخی و علمی نوٹ
مونگ سے متعلق تاریخی دعوے (جیسے Alexander the Great اور Nicaea) علمی طور پر زیرِ بحث ہیں۔ کچھ ماہرین انہیں مقامی روایات سمجھتے ہیں جبکہ بعض آثار قدیمہ کے ماہرین مکمل طور پر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ تاہم اس کے باوجود مونگ خطے کی قدیم تاریخ کا اہم حوالہ ضرور سمجھا جاتا ہے۔
مونگ (ضلع منڈی بہاؤالدین) ایک ایسا علاقہ ہے جو:
- تاریخی روایات
- زرعی معیشت
- مضبوط سماجی ڈھانچہ
- تعلیمی اداروں
- اور قدرتی حسن
کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ یہ خطہ نہ صرف ماضی کی تہذیبوں کی جھلک دیتا ہے بلکہ حال میں ایک فعال، زندہ اور ترقی پذیر دیہی معاشرے کی مثال بھی ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






