Profile
مانگٹ (Mangat)
مانگٹ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال کا ایک قدیم، تاریخی اور مذہبی اہمیت کا حامل قصبہ ہے۔ یہ چج دوآب (دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیانی علاقہ) کے ان چند مقامات میں شمار ہوتا ہے جن کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ مانگٹ اپنی زرعی خوشحالی، مذہبی ورثے، تاریخی آثار، علمی شخصیات اور سماجی روایات کی وجہ سے پورے علاقے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
بنیادی معلومات
| معلومات | تفصیل |
|---|---|
| نام | مانگٹ (Mangat) |
| ملک | پاکستان |
| صوبہ | پنجاب |
| ضلع | منڈی بہاؤالدین |
| تحصیل | ملکوال |
| زبانیں | پنجابی، اردو |
| تخمینی آبادی | تقریباً 20,000 افراد |
| بنیادی ذریعہ معاش | زراعت، کاروبار، سرکاری ملازمت، بیرون ملک روزگار |
| انتظامی حیثیت | یونین کونسل |
محل وقوع
مانگٹ ضلع منڈی بہاؤالدین کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور منڈی بہاؤالدین شہر سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں جھولانہ، جنوب میں دھاول اور مڈھارے، مشرق میں آہدی اور بھاؤٹ جبکہ مغرب میں ڈنگا چک واقع ہیں۔
یہ علاقہ زرخیز زرعی زمینوں پر مشتمل ہے اور چج دوآب کے سرسبز و شاداب علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
تاریخ
مانگٹ کی بنیاد اور نام کے حوالے سے مختلف روایات موجود ہیں:
پہلی روایت
ایک روایت کے مطابق “پہلم” نامی شخص جو مانگٹ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، اس نے اس بستی کی بنیاد رکھی۔ مقامی روایات کے مطابق مانگٹ اپنی تاریخ میں دو مرتبہ اجڑا اور دوبارہ آباد ہوا۔
دوسری روایت
ایک اور روایت کے مطابق موجودہ مانگٹ سے قبل یہاں ایک قدیم آبادی موجود تھی جس کے آثار آج بھی پرانے ٹبے اور کھنڈرات کی صورت میں موجود ہیں۔ بعد ازاں پندرھویں صدی میں گوندل قبیلے کے بزرگ ڈفر گوندل نے اس مقام کو دوبارہ آباد کیا اور اچا مانگٹ سے تعلق رکھنے والے ایک سندھو خاندان کو یہاں آباد ہونے کے لیے زمین دی۔ بعد میں اس بستی کا نام مانگٹ مشہور ہوگیا۔
تیسری روایت
مورخ غلام سرور قریشی لاہوری نے اپنی کتاب مخزن پنجاب (1877ء) میں لکھا ہے کہ مانگٹ کو بہلم قوم کے جٹ وڑائچوں نے آباد کیا جبکہ لبانہ، اروڑا اور بھاٹیہ برادریاں بھی اس کی ملکیت میں شریک تھیں۔
1873ء کی مردم شماری کے مطابق مانگٹ کی آبادی تقریباً 2200 افراد، 761 مکانات اور 48 دکانوں پر مشتمل تھی۔
مذہبی اور تاریخی اہمیت
تاریخی مسجد
مانگٹ میں ایک قدیم مسجد موجود ہے جس کی عمر تقریباً سات سو سال بتائی جاتی ہے۔ روایات کے مطابق اس کی بنیاد 775 ہجری میں رکھی گئی تھی۔ مسجد اپنی مضبوط تعمیر، موٹی دیواروں اور لکڑی کی قدیم چھت کی وجہ سے تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔
دربار میاں خیر محمد
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے تیسرے خلیفہ میاں خیر محمد کا دربار بھی مانگٹ میں واقع ہے جو اہلِ عقیدت کی توجہ کا مرکز ہے۔
گوردوارہ بھائی بنوں
سکھ مذہب کے معروف رہنما بھائی بنوں 30 اپریل 1558ء کو مانگٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام سکھ تاریخ میں گرنتھ صاحب کی کتابت اور تدوین کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تقریباً 1820ء میں بھائی بنوں کی یاد میں ایک عظیم الشان گوردوارہ تعمیر کروایا۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ عمارت متاثر ہوئی، لیکن یہ مقام آج بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
تقسیم ہند اور بعد کی صورتحال
1947ء میں تقسیم ہند کے بعد مانگٹ کی ہندو اور سکھ آبادی بھارت منتقل ہوگئی جبکہ مختلف علاقوں سے آنے والے مسلمان مہاجرین یہاں آباد ہوئے۔ آج بھی مہاجر خاندانوں کی ایک بڑی تعداد مانگٹ میں مقیم ہے۔
آبادی اور برادریاں
مانگٹ میں مختلف برادریاں آباد ہیں جن میں:
- سندھو
- گوندل
- چدھڑ
- راں
- تارڑ
- بھٹی
- قریشی
- مسلم شیخ
- لوہار
- ترکھان
- پٹھان
شامل ہیں۔
معیشت
مانگٹ کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر مشتمل ہے۔
اہم فصلیں
- گندم
- چاول
- گنا
- مکئی
- باجرہ
علاوہ ازیں سنگترہ اور دیگر پھلوں کے باغات بھی موجود ہیں۔
بیرون ملک مقیم افراد کی ترسیلات زر بھی مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تعلیم
مانگٹ ضلع منڈی بہاؤالدین کے نسبتاً بہتر تعلیمی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
سرکاری ادارے
- گورنمنٹ پرائمری سکول برائے طالبات
- گورنمنٹ سیکنڈری کالج برائے طالبات
- متعدد پرائمری اور ہائی سکول برائے طلبہ
نجی ادارے
- مختلف نجی سکول اور کالجز
نمایاں تعلیمی شخصیات
- پروفیسر محمد اقبال (ایم اے اردو)
- پروفیسر محمد ارشد سیالوی (ایم فل اسلامیات)
- ڈاکٹر مقصود احمد (پی ایچ ڈی فزکس، امریکہ)
سماجی اور سیاسی شخصیات
مانگٹ کی معروف شخصیات میں شامل ہیں:
- احمد فراز مانگٹ (سابق ممبر ضلع کونسل)
- صفدر اقبال مانگٹ (سابق ممبر ضلع کونسل)
- چوہدری نزیر احمد مانگٹ
- صاحبزادہ محمد عمار سعید سلیمانی (سابق چیئرمین یونین کونسل)
- بدر چدھڑ ایڈووکیٹ (سیکرٹری بار)
مذہبی و روحانی خدمات
مانگٹ پر سلسلہ سہروردیہ کے بزرگوں کا خصوصی فیضان رہا ہے۔
خواجہ محمد سلیمان سہروردیؒ کے سلسلہ سے وابستہ خاندان نے علاقے میں دینی تعلیم اور اصلاحی خدمات سرانجام دیں۔ صاحبزادہ عبدالجلیل علی احمد رضا سلیمانی رضوی اور بعد ازاں صاحبزادہ عمار سعید سلیمانی نے اس روایت کو جاری رکھا۔
کھیل اور ثقافت
مانگٹ میں درج ذیل کھیل مقبول ہیں:
- کرکٹ
- فٹ بال
- کبڈی
- کشتی
علاقے میں مذہبی اجتماعات، میلاد، عرس اور ثقافتی تقریبات باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہیں۔
موجودہ حیثیت
آج مانگٹ ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک نمایاں، تاریخی اور ترقی پذیر قصبہ ہے۔ یہ اپنی قدیم تاریخ، مذہبی ورثے، زرعی خوشحالی، علمی شخصیات اور سماجی ہم آہنگی کی بدولت علاقے میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






