Profile
جیہ کھوکھر ( Jayya Khokhar)
تعارف
گاؤں جیہ کھوکھر ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب کا ایک قدیم اور زرعی لحاظ سے اہم گاؤں ہے۔ یہ ضلع منڈی بہاؤالدین سے تقریباً 15 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور سرگودھا روڈ سے روزہ والی پل کے ذریعے باآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔ گاؤں کے شمال میں چھیمو، مشرق میں بھکھی شریف، مغرب میں ٹبہ خانانہ جبکہ جنوب میں چک نمبر 12 اور ڈلووال واقع ہیں۔
تاریخی پس منظر
مقامی روایات کے مطابق گاؤں کی تاریخ تقریباً 450 سال پرانی ہے۔ روایت ہے کہ سلطان محمود المعروف “تھنہ” اپنے خاندان سمیت اس علاقے میں آ کر آباد ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی نسل میں اضافہ ہوا اور مختلف خاندانوں اور برادریوں نے یہاں مستقل سکونت اختیار کی۔ آج جیہا اپنی قدیم روایات، مضبوط خاندانی نظام اور زرعی شناخت کی وجہ سے علاقے کے نمایاں دیہات میں شمار ہوتا ہے۔
رقبہ اور آبادی
گاؤں کا کل رقبہ تقریباً 2,000 ایکڑ (80 اسکوائر) پر مشتمل ہے۔ زرعی زمین نسبتاً متوازن انداز میں مختلف خاندانوں کے درمیان تقسیم ہے، جس کے باعث بڑے جاگیردارانہ نظام کی بجائے متوسط درجے کی زرعی ملکیت پائی جاتی ہے۔
آبادی تقریباً 4,500 افراد پر مشتمل ہے جو تقریباً 500 گھروں میں آباد ہیں۔ اکثریت مسلمان سنی آبادی پر مشتمل ہے جبکہ شیعہ برادری کا بھی محدود وجود موجود ہے۔
جغرافیائی محل وقوع اور ملحقہ دیہات
جیہا چاروں اطراف متعدد دیہات سے منسلک ہے جن میں روہیوال، پھتے دا ڈیرہ، بھکھی شریف، چک نمبر 12، چک نمبر 3، بگا پنڈ، چاہ بھلوان، چھیموں، سہنا اور نو بہار شامل ہیں۔ اس محل وقوع کی وجہ سے گاؤں کا علاقائی رابطہ بہتر ہے۔
سماجی و قبائلی ساخت
گاؤں کی اکثریتی آبادی کھوکھر برادری پر مشتمل ہے جبکہ گوندل، کمبوہ، سید، کمہار، موچی، نائی، مسلم شیخ اور دیگر پیشہ ور برادریاں بھی آباد ہیں۔ مختلف خاندان اور برادریاں مقامی سماجی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں۔
نمایاں شخصیات
- بابا ہاشم کھوکھر
- بابا مراد کھوکھر
- بابا ملک کھوکھر
- لال دین کھوکھر
- پٹھانی کھوکھر
- باہوکھوکھر
- جہانہ کھوکھر
- سردار کھوکھر
- ملک منیر احمد کھوکھر
- ملک عمر حیات کھوکھر
- ملک لائق محمدکھوکھر
- ملک عنایت کھوکھر
- جہان خان کھوکھر
- محمد سلطان کھوکھر
- محبوب حسین کھوکھر
- محمد اشرف
- نذیر احمد
- احمد خان کھوکھر
- شوکت علی کھوکھر
- افتخار احمد
- غلام مصطفیٰ
- منظور احمد
- ملک عمران منیر
- ملک عابد بشیر
- ملک عامر بشیر
- ملک طارق جاوید
- ملک بشارت علی
- ملک طارق ریاض
- ملک یاسر عرفات
- ملک صفدر اقبال
- امتیاز احمد
- الطاف احمد شہزاد
- ملک محمد اسلم
- ملک قمر عباس
- ملک عرفان شیر
- ملک طاہر محمود
- ملک غلام عباس
- ملک فخر عباس
تعلیم
گاؤں میں شرح خواندگی تسلی بخش ہے اور بیشتر بچے بنیادی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں تعلیمی ادارے موجود ہیں، جن میں سرکاری پرائمری و مڈل سکول، مختار کیڈٹ ماڈل سکول، فالکن پبلک ہائی سکول اور دیگر نجی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں انجینئرز، وکلاء، اساتذہ، چارٹرڈ اکاؤنٹنسی اور مینجمنٹ کے شعبوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ متعدد نوجوان پاک فوج، پنجاب پولیس، عدلیہ اور دیگر سرکاری اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ خواتین میں بھی اعلیٰ تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
معاشی سرگرمیاں
گاؤں کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر انحصار کرتی ہے۔ گندم، دھان، مکئی، آلو، گنا، سبزیاں اور چارہ اہم فصلیں ہیں۔ آبپاشی کے لیے ٹیوب ویل اور دیگر جدید ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ متعدد افراد سرکاری و نجی ملازمتوں سے وابستہ ہیں جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین، بیلجیم، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں روزگار حاصل کر رہی ہے، جس سے مقامی معیشت میں بیرون ملک مقیم افراد کی ترسیلات زر کا اہم کردار ہے۔
مذہبی و سماجی زندگی
گاؤں میں چار مساجد موجود ہیں جن میں دو جامع مساجد شامل ہیں۔ مختلف مذہبی اجتماعات، جمعہ اور عیدین کی نمازیں باقاعدگی سے ادا کی جاتی ہیں۔
گاؤں میں متعدد مزارات بھی موجود ہیں جن میں بابا نور پیر قریشی کا مزار خاص مذہبی اہمیت رکھتا ہے جہاں مقامی اور گردونواح کے افراد حاضری دیتے ہیں۔
کھیل اور ثقافتی سرگرمیاں
والی بال گاؤں کا سب سے مقبول کھیل ہے جبکہ کرکٹ، گھڑ سواری اور کبوتر بازی بھی پسندیدہ مشاغل میں شامل ہیں۔ مقامی کھیلوں کے مختلف کلب نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرتے ہیں۔
صحت اور بنیادی سہولیات
گاؤں میں بنیادی طبی سہولیات محدود ہیں اور صرف ایک کلینک موجود ہے۔ بڑی طبی ضروریات کے لیے رہائشی منڈی بہاؤالدین یا قریبی شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز بنیادی صحت اور زچہ و بچہ کی آگاہی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ٹرانسپورٹ اور مواصلات
گاؤں سڑک کے ذریعے منڈی بہاؤالدین اور قریبی علاقوں سے منسلک ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ، ویگنیں، موٹر سائیکلیں اور ذاتی گاڑیاں آمدورفت کے اہم ذرائع ہیں جبکہ قریبی ریلوے اسٹیشن سے بھی سفری سہولت دستیاب ہے۔
قدرتی ماحول
زرخیز زمین، مناسب آبپاشی اور سازگار آب و ہوا کے باعث گاؤں میں مختلف اقسام کی فصلیں، پھلدار درخت اور سبزہ پایا جاتا ہے۔ مویشی پالنا بھی دیہی معیشت کا اہم حصہ ہے، جن میں بھینسیں، گائیں، بکریاں، بھیڑیں، گھوڑے اور پولٹری شامل ہیں۔
ترقیاتی چیلنجز
جیہ کو چند بنیادی مسائل کا سامنا ہے جن میں جدید سیوریج نظام کی عدم موجودگی، طبی سہولیات کی کمی، اعلیٰ تعلیمی اداروں کا فقدان، خصوصاً طالبات کے لیے محدود تعلیمی مواقع، مقامی مارکیٹ کی عدم دستیابی اور بارش کے پانی کی نکاسی جیسے مسائل شامل ہیں۔ ان شعبوں میں مزید ترقی گاؤں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
گاؤں جیہ ایک قدیم، زرعی، پرامن اور سماجی طور پر منظم آبادی ہے جہاں تعلیم، زراعت، بیرون ملک روزگار اور مذہبی و ثقافتی روایات اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ جدید بنیادی سہولیات کی فراہمی، اعلیٰ تعلیم اور صحت کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری اس گاؤں کی مستقبل کی ترقی کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






