ڈاکٹر خضر حیات خان نوشاہی
ممتاز محقق | مؤرخ | صوفی ازم اسکالر | سندھی و بلوچی ثقافت کے ماہر
📌 تعارف
ڈاکٹر خضر حیات خان نوشاہی (Dr. Khizar Hayyat Khan Noshahi) پاکستان کے ممتاز مؤرخ، محقق، ادیب اور صوفیانہ فکر کے اسکالر تھے، جنہوں نے سندھ کی تاریخ، تصوف، فارسی ادب اور علاقائی ثقافتوں پر گراں قدر تحقیقی کام کیا۔
وہ ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں سہانپال سے تعلق رکھتے تھے، مگر اپنی علمی و روحانی وابستگی کے باعث سندھ، خصوصاً ٹھٹھہ، سے ان کا تعلق انتہائی گہرا ہو گیا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سندھ کی تاریخی، تہذیبی اور روحانی وراثت کی تحقیق و تدوین کے لیے وقف کیے رکھا۔
👤 ابتدائی زندگی
- نام: ڈاکٹر خضر حیات خان نوشاہی
- آبائی علاقہ: گاؤں سہانپال، ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب
- وفات: 65 برس کی عمر میں، مختصر علالت کے بعد
ڈاکٹر خضر حیات خان نوشاہی بچپن ہی سے علم، تاریخ اور روحانیت سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ تصوف اور برصغیر کی تہذیبی تاریخ نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا، جس کی وجہ سے انہوں نے سندھ کی تاریخی و روحانی سرزمین کو اپنی تحقیق کا مرکز بنایا۔
🎓 تعلیم و تحقیقی سفر
ڈاکٹر خضر حیات نوشاہی نے اعلیٰ تعلیم کے بعد تحقیقی میدان میں قدم رکھا اور سندھ کی تاریخ و تصوف پر غیر معمولی کام کیا۔
انہوں نے:
- ہمدرد یونیورسٹی کراچی سے پی ایچ ڈی مکمل کی
- ان کا تحقیقی موضوع اٹھارہویں صدی کے معروف مؤرخ و ادیب میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی تحریری خدمات تھیں
فارسی زبان و ادب پر ان کی غیر معمولی دسترس انہیں اپنے دور کے ممتاز محققین میں نمایاں کرتی تھی۔
📚 علمی و ادبی خدمات
ڈاکٹر خضر حیات نوشاہی نے پاکستان کی مختلف ثقافتوں، روایات اور صوفیانہ ورثے پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں۔
📖 نمایاں تحقیقی میدان
- سندھ کی تاریخ
- صوفی ازم
- سندھی ثقافت
- بلوچی تہذیب
- فارسی ادب
- برصغیر کی روحانی روایات
انہوں نے سندھ اور بلوچستان کی تہذیبی تاریخ کو ایک جامع انداز میں قلم بند کیا، جسے علمی حلقوں میں بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
✍️ تراجم و تحقیقی کام
فارسی ادب پر مہارت کی وجہ سے ڈاکٹر نوشاہی نے کئی اہم کتب کے تراجم بھی کیے۔
📚 اہم تراجم
- میر علی شیر قانع کی معروف تصنیف “معیارِ سالکان”
- صوفی شاعر بیدل فقیر کی کتب
- غلام علی مداح کے علمی و ادبی کام
ان کے تراجم نہ صرف ادبی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ برصغیر کے روحانی و تاریخی شعور کو محفوظ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
🕌 سندھ اور ٹھٹھہ سے وابستگی
اگرچہ ڈاکٹر خضر حیات نوشاہی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے، مگر سندھ خصوصاً ٹھٹھہ سے ان کی محبت اور وابستگی غیر معمولی تھی۔
وہ سندھ کے:
- آثارِ قدیمہ
- تاریخی مقامات
- مزارات
- قدیم علمی مراکز
کا مسلسل دورہ کرتے رہے تاکہ سندھ کی مکمل اور مستند تاریخ مرتب کی جا سکے۔
سندھی ادبی و علمی حلقے انہیں “سندھ کا سچا فرزند” قرار دیتے تھے۔
🤝 علمی شخصیات سے تعلق
ڈاکٹر نوشاہی کو اپنے دور کے کئی عظیم محققین اور دانشوروں کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل رہا، جن میں:
- Anne Marie Schimmel
- Hakim Muhammad سعيد
- ہاشم الدین راشدی
جیسی علمی شخصیات شامل ہیں۔
🌟 شخصیت و علمی مقام
ڈاکٹر خضر حیات نوشاہی نہایت منکسر المزاج، محنتی اور علم دوست شخصیت تھے۔
ان کی نمایاں خصوصیات:
- تحقیق میں گہرائی
- تاریخی شعور
- صوفیانہ فکر
- تہذیبی مطالعہ
- فارسی زبان پر عبور
- سندھ سے روحانی وابستگی
تھیں۔
⚰️ وفات
ڈاکٹر خضر حیات خان نوشاہی مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
انہیں ان کے آبائی گاؤں سہانپال، ضلع منڈی بہاؤالدین کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
ان کی وفات علمی، ادبی اور تحقیقی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان تصور کی گئی۔
ڈاکٹر خضر حیات خان نوشاہی ایک ایسے محقق اور مؤرخ تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق، تصوف اور تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔
انہوں نے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی ثقافتی و روحانی تاریخ کو نئی نسل تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی علمی خدمات ہمیشہ جنوبی ایشیا کی ادبی و تحقیقی دنیا میں یاد رکھی جائیں گی۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.





