محمد رفیق تارڑ
سابق صدرِ پاکستان | جج سپریم کورٹ | چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ
محمد رفیق تارڑ پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کی ایک اہم شخصیت تھے۔ ان کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے تھا۔ انہوں نے وکالت، عدلیہ، سپریم کورٹ اور پھر ایوانِ صدر تک مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو طویل عدالتی تجربہ اور پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت میں ان کا کردار تھا۔
ذاتی زندگی اور ابتدائی تعلیم
محمد رفیق تارڑ 2 نومبر 1929ء کو منڈی بہاؤالدین میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1949ء میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ سے اسلامیات میں بی اے کیا۔
بعد ازاں 1951ء میں پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور اسی سال لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کا آغاز کیا۔
قیامِ پاکستان سے قبل وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی سرگرمیوں سے وابستہ رہے۔ تقسیمِ ہند کے دوران مہاجرین کی امداد اور خدمت بھی ان کی عملی زندگی کا حصہ رہی۔
عدالتی سفر
محمد رفیق تارڑ نے وکالت سے عدلیہ تک کا سفر طے کیا اور پاکستان کے عدالتی نظام کے مختلف اہم مناصب پر خدمات انجام دیں۔
- 1951ء: لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کا آغاز
- 1966ء: عدلیہ میں شمولیت، سیشن جج کے طور پر خدمات
- 1971ء: چیئرمین پنجاب لیبر کورٹ مقرر ہوئے
- 1974ء: لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے
- 1989ء تا 1991ء: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ
- 1992ء تا 1994ء: جج سپریم کورٹ آف پاکستان
اس طویل عدالتی سفر کے دوران انہوں نے ماتحت عدلیہ سے لے کر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تک مختلف ذمہ داریاں نبھائیں۔
سیاست میں آمد
سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد محمد رفیق تارڑ نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ وہ میاں محمد نواز شریف کے قریبی سیاسی رفقا میں شمار ہوئے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہو گئے۔
1997ء میں وہ پنجاب سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ اسی سال مسلم لیگ (ن) نے انہیں صدارتی امیدوار نامزد کیا۔
صدرِ پاکستان
محمد رفیق تارڑ 1997ء میں پاکستان کے صدر منتخب ہوئے اور 1998ء میں منصبِ صدارت سنبھالا۔ وہ پاکستان کے نویں صدر تھے۔
ان کے دورِ صدارت میں پاکستان میں اہم آئینی اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ انہوں نے بطور صدر آئینی معاملات اور ریاستی امور میں اپنا کردار ادا کیا۔
ان کے دور میں 13ویں، 14ویں اور 15ویں آئینی ترامیم سمیت اہم آئینی اقدامات ہوئے۔ ان کا صدارتی دور پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم اور غیر معمولی مرحلے سے عبارت تھا۔
1999ء کی فوجی مداخلت
1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ محمد رفیق تارڑ نے اس تبدیلی کو آئینی طور پر قبول کرنے کے حوالے سے اپنا موقف برقرار رکھا اور بعد ازاں 2001ء میں صدارت سے سبکدوش ہوئے۔
یوں ان کا صدارتی دور پاکستان کی جمہوری اور آئینی تاریخ کے ایک اہم باب کے طور پر سامنے آتا ہے۔
شخصیت اور طرزِ زندگی
محمد رفیق تارڑ کو ان کے طویل عدالتی تجربے، قانونی پس منظر اور سادہ طرزِ زندگی کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت میں قانون، آئین، عدالتی روایت اور ریاستی ذمہ داریوں کا امتزاج نمایاں تھا۔
عدالت سے ایوانِ صدر تک ان کا سفر اس لحاظ سے منفرد تھا کہ انہوں نے پاکستان کے ریاستی نظام کے مختلف اہم اداروں میں خدمات انجام دیں۔
وفات
محمد رفیق تارڑ 7 مارچ 2022ء کو لاہور میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 92 برس تھی۔
ان کی وفات کے بعد پاکستان کی سیاسی و عدالتی شخصیات کی جانب سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ان کا تدفین لاہور میں ہوا۔
شخصی معلومات
- نام: محمد رفیق تارڑ
- تاریخ پیدائش: 2 نومبر 1929ء
- جائے پیدائش: منڈی بہاؤالدین
- پیشہ: وکیل، جج، سیاستدان
- چیف جسٹس: لاہور ہائی کورٹ
- جج: سپریم کورٹ آف پاکستان
- سینیٹر: پنجاب، 1997ء
- صدرِ پاکستان: 1998ء تا 2001ء
- سیاسی جماعت: پاکستان مسلم لیگ (ن)
- تاریخ وفات: 7 مارچ 2022ء
- جائے وفات: لاہور
- عمر: 92 برس
محمد رفیق تارڑ منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی ان نمایاں شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے وکالت، عدلیہ اور سیاست کے تین اہم میدانوں میں خدمات انجام دیں۔ سیشن جج سے اپنے عدالتی سفر کا آغاز کرنے والے رفیق تارڑ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے منصب تک پہنچے۔ بعد ازاں انہوں نے سیاست میں قدم رکھا، سینیٹر منتخب ہوئے اور پاکستان کے نویں صدرِ مملکت کی حیثیت سے 1998ء سے 2001ء تک ملک کی نمائندگی کی۔ ان کی زندگی منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والی ان شخصیات کی ایک اہم مثال ہے جنہوں نے قومی سطح پر اعلیٰ ترین ریاستی اور عدالتی مناصب تک رسائی حاصل کی۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.




