Profile
محبوب عالم (محبوب زاہد)
تخلص: زاہد
قلمی نام: محبوب زاہد
تاریخ پیدائش: 1 مئی 1962ء
جائے پیدائش: ضلع نواب شاہ، سندھ
موجودہ سکونت: منڈی بہاءالدین، پنجاب
تعارف
محبوب عالم المعروف محبوب زاہد اردو ادب، صحافت اور تحقیق کے میدان میں ایک معتبر اور شناخته نام ہیں۔ وہ ان اہلِ قلم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکری، ادبی اور صحافتی خدمات کے ذریعے نہ صرف ادب کے دامن کو وسعت دی بلکہ نئی نسل کے لیے بھی ایک روشن مثال قائم کی۔ ان کی شاعری میں محبت، احساس، انسانی جذبات، سماجی شعور اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔
بچپن ہی سے ادب اور شاعری سے گہرا لگاؤ رکھنے والے محبوب زاہد نے کم عمری میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا، تاہم میٹرک کے بعد باقاعدہ طور پر شاعری کو اپنا ادبی سفر بنایا۔ ان کے شعری استاد معروف شاعر خانزادہ سمیع الوری تھے، جن کی رہنمائی نے ان کی فنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیم
- میٹرک
- فاضل طب و الجراحت
تعلیمی ادارے
- گورنمنٹ ہائی سکول دوڑ، ضلع نواب شاہ، سندھ
- سندھ طبیہ کالج، حیدرآباد
ادبی سفر
محبوب زاہد کا پہلا کلام 1981ء میں ملک کے معروف اخبار روزنامہ نوائے وقت کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہوا، جس کے بعد ان کی ادبی شناخت مسلسل مضبوط ہوتی گئی۔ ان کا کلام پاکستان کے تقریباً تمام بڑے اخبارات، رسائل اور ادبی جرائد میں شائع ہوتا رہا ہے۔
1990ء میں وہ منڈی بہاءالدین منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے مقامی ادبی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی اور جلد ہی شہر کی ادبی و صحافتی برادری میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔
شعری خدمات
محبوب زاہد نے اردو شاعری کی تقریباً تمام اہم اصناف میں طبع آزمائی کی، جن میں شامل ہیں:
- غزل
- نظم
- حمد
- نعت
- سلام
- قصیدہ
- گیت نگاری
انہوں نے صرف اردو ہی نہیں بلکہ:
- پنجابی
- سرائیکی
- سندھی
زبانوں میں بھی گیت اور شاعری تخلیق کی، جس سے ان کی لسانی مہارت اور ادبی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔
صحافتی خدمات
ادب کے ساتھ ساتھ محبوب زاہد صحافت کے شعبے میں بھی متحرک رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف اخبارات، رسائل اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ وابستہ رہ کر صحافتی ذمہ داریاں انجام دیں اور معاشرتی، ادبی اور ثقافتی موضوعات پر اپنی تحریروں کے ذریعے قارئین کو متاثر کیا۔
مطبوعہ کتب
محبوب زاہد کے تین شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں:
1۔ اوراقِ دل
جذبات، احساسات اور انسانی کیفیات پر مبنی خوبصورت شعری مجموعہ۔
2۔ اور گرہ کھل گئی
فکری اور سماجی موضوعات کو شاعرانہ انداز میں پیش کرنے والی اہم تصنیف۔
3۔ سکوت
داخلی احساسات، خاموشیوں اور زندگی کے فلسفے کی ترجمان شاعری کا مجموعہ۔
ادبی خصوصیات
محبوب زاہد کی شاعری میں:
- سادگی اور اثر انگیزی
- محبت اور انسان دوستی
- سماجی شعور
- فکری گہرائی
- کلاسیکی اور جدید رنگ کا امتزاج
واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ان کا اسلوب رواں، دلنشین اور قاری کے دل میں اتر جانے والا ہے۔ ان کی تخلیقات جذبات کی صداقت اور مشاہدے کی گہرائی کی آئینہ دار ہیں۔
مشاعروں اور ادبی سرگرمیوں میں کردار
محبوب زاہد نے ملک بھر میں منعقد ہونے والے متعدد:
- قومی مشاعروں
- ادبی نشستوں
- ثقافتی پروگراموں
میں شرکت کی اور اپنی شاعری کے ذریعے سامعین سے بھرپور داد وصول کی۔
محبوب زاہد کی شخصیت ادب دوستی، خلوص، محنت، انکساری اور علمی وقار کا حسین امتزاج ہے۔ وہ منڈی بہاءالدین کی ادبی شناخت کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی خدمات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں بلکہ قومی ادبی حلقوں میں بھی ان کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔
آج محبوب زاہد ایک شاعر، محقق، صحافی اور ادبی شخصیت کی حیثیت سے اردو ادب کے افق پر اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں اور ان کی تخلیقی خدمات ادب دوست حلقوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






