Profile
حاجی احمد خان نمبردار
خادمِ حرم شریف – فخرِ ریڑکا زیریں، ضلع منڈی بہاؤالدین
تعارف
حاجی احمد خان قندال نمبردار کا تعلق ضلع منڈی بہاؤالدین کے تاریخی گاؤں ریڑکا زیریں سے ہے۔ وہ ان خوش نصیب شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہیں چار دہائیوں سے زائد عرصہ مسجد الحرام اور خانہ کعبہ کی خدمت کا شرف حاصل رہا۔ ان کی زندگی خدمت، عاجزی، محنت اور اللہ تعالیٰ کے گھر سے والہانہ محبت کی ایک روشن مثال ہے۔
مکہ مکرمہ کا سفر
حاجی احمد خان قندال نوجوانی میں، تقریباً 1983ء میں، روزگار اور خدمتِ حرم کے جذبے کے ساتھ سعودی عرب گئے۔ ابتدا میں انہوں نے اپنے والدین سے جلد واپسی کا وعدہ کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے نصیب میں حرم شریف کی دائمی خدمت لکھ دی۔ وقت گزرتا گیا اور وہ مکہ مکرمہ ہی سے وابستہ ہو گئے۔
خدمتِ مسجد الحرام
انہوں نے مسجد الحرام کے بیرونی صحنوں کی صفائی سے اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کیا۔ اپنی دیانت، محنت اور ذمہ داری کے باعث ترقی کرتے ہوئے بعد ازاں سینیٹیشن سپروائزر کے عہدے تک پہنچے۔
خدمت کے دوران انہیں اسلام کی معاصر تاریخ کے کئی اہم واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا، جن میں:
- مسجد الحرام کی دوسری سعودی توسیع
- مسجد الحرام کی تیسری سعودی توسیع
- خانہ کعبہ کی تاریخی مرمت و بحالی
- لاکھوں زائرین کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے منصوبے
وہ ان تمام تاریخی مراحل کے عینی شاہد رہے اور انہیں اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادت قرار دیتے ہیں۔
اللہ کے گھر سے محبت
حاجی احمد خان قندال ہمیشہ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں کبھی سعودی عرب میں اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ ان کے بقول:
“مجھے ہمیشہ ایسا محسوس ہوا جیسے میں اپنے ہی گھر میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے چار دہائیوں تک اپنے گھر کی خدمت کا شرف عطا کیا، اس سے بڑی خوش نصیبی کوئی نہیں۔”
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا بھر سے آنے والے مسلمان جب انہیں حرم شریف کی خدمت کرتے دیکھتے تو انہیں خوش نصیب قرار دیتے، اور یہی احساس ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز تھا۔
شخصیت
حاجی احمد خان قندال نہایت سادہ، مخلص، دیانت دار اور عبادت گزار شخصیت کے مالک ہیں۔ رسمی تعلیم محدود ہونے کے باوجود ان کی عملی زندگی خدمت، محنت اور اخلاص کا بہترین نمونہ ہے۔
ان کا ایک مشہور جملہ آج بھی لوگوں کو متاثر کرتا ہے:
“جب تک کمپنی مجھے نہیں نکالے گی، میں پاکستان واپس نہیں جاؤں گا۔”
یہ الفاظ ان کی مسجد الحرام اور خانہ کعبہ سے غیر معمولی محبت اور وابستگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
خاندانی زندگی
حاجی احمد خان قندال کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ ان کے ایک صاحبزادے بھی مسجد الحرام میں شعبۂ الیکٹریکل میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ خاندان کے دیگر افراد پاکستان میں مقیم ہیں۔
آخری خواہش
ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ زندگی کا اختتام بھی اسی مقدس شہر میں ہو جہاں انہوں نے اپنی عمر کا بہترین حصہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت میں گزارا۔ ان کا کہنا ہے کہ:
“جو شخص حرمین شریفین کی خدمت کرتا ہے، وہ کبھی تنہائی یا اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ یہاں ہر طرف محبت، سکون، رحمت اور اللہ کی یاد ہے۔”
اعزاز
حاجی احمد خان قندال نمبردار صرف ریڑکا زیریں یا ضلع منڈی بہاؤالدین ہی نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ ان کی چار دہائیوں پر محیط خدمت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اخلاص، محنت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کیا گیا کام انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں عزت عطا کرتا ہے۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے خدمت، عاجزی، استقامت اور عشقِ حرم کا روشن نمونہ ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






