تارڑ قبیلہ: تاریخ، شجرہ نسب، اہم شاخیں، ثقافت اور نمایاں شخصیات

Muzammal Hussain Cheema June 13, 2026 1 min read

تارڑ قبیلہ: تاریخ، شجرہ نسب، اہم شاخیں، ثقافت اور نمایاں شخصیات

تعارف

تارڑ (Tarar) پنجاب کے قدیم، بااثر اور وسیع قبائل میں شمار ہوتا ہے۔ یہ برادری پاکستان اور بھارت کے پنجاب کے مختلف علاقوں میں آباد ہے اور صدیوں سے زراعت، سماجی قیادت، فوجی خدمات، سیاست، ادب اور تعلیم کے میدان میں نمایاں کردار ادا کرتی آئی ہے۔ آج تارڑ برادری پنجاب کی ان ممتاز برادریوں میں شامل ہے جن کے افراد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف شعبوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

تارڑ قبیلے کے بارے میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ اس کی مکمل تاریخی اور شجراتی روایات تمام علاقوں میں یکساں نہیں ملتیں۔ مختلف مقامی روایات، برطانوی دور کے گزیٹیئرز، خاندانی شجرہ ہائے نسب اور زبانی روایات میں بعض اختلافات موجود ہیں۔ اس لیے درج ذیل معلومات کو روایتی شجراتی اور تاریخی روایت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔


تارڑ قبیلے کا نسب اور شجرہ

تارڑ برادری کی اکثریت اپنے آپ کو قدیم سورج بنسی (سوریہ ونشی) راجپوت نسل سے منسوب کرتی ہے۔ تاہم پنجاب میں آباد ہونے کے بعد یہ قبیلہ جٹ شناخت کے ساتھ بھی معروف ہوا اور آج عمومی طور پر جٹ قبیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

روایتی شجرہ نسب کے مطابق:

راجہ بھٹی

تارڑ بھٹی (جدِ اعلیٰ)

لوہی

بھیرا

جندا

سہا

کولو تارڑ

بعد ازاں مختلف شاخوں اور دیہات میں تقسیم

یہ شجرہ مختلف علاقوں میں کچھ فرق کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، تاہم کولو تارڑ کا نام تقریباً تمام روایات میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔


تاریخی پس منظر

ابتدائی دور

تارڑ قبیلے کی ابتدائی تاریخ کے متعلق روایات بتاتی ہیں کہ ان کا تعلق راجپوتانہ کے علاقے بھٹنیر سے تھا، جو موجودہ بھارت کے ضلع ہنومان گڑھ (راجستھان) میں واقع ہے۔

وقت کے ساتھ مختلف سیاسی اور معاشی عوامل کے باعث یہ خاندان شمال کی جانب ہجرت کرتا ہوا پنجاب میں داخل ہوا اور دریائے راوی اور چناب کے درمیانی علاقوں میں آباد ہو گیا۔


مغل دور

مغل عہد میں تارڑ قبیلہ وسطی پنجاب کے نمایاں زمیندار قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ متعدد روایات کے مطابق اس دور میں تارڑ خاندان مقامی سطح پر اثر و رسوخ رکھتے تھے اور بعض اوقات حکومتی محصولات اور لگان کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت بھی کرتے تھے۔

کولو تارڑ

تارڑ تاریخ میں کولو تارڑ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

مقامی روایات کے مطابق:

  • وہ ایک دلیر اور بااثر مقامی سردار تھے۔
  • انہوں نے مقامی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی۔
  • بعض روایات میں اکبر اعظم کے دور میں لگان کے خلاف مزاحمت کا ذکر بھی ملتا ہے۔
  • حافظ آباد اور گردونواح کے متعدد خاندان آج بھی اپنی شناخت کولو تارڑ سے جوڑتے ہیں۔

اگرچہ ان روایات کے تمام پہلوؤں کی مکمل تاریخی تصدیق دستیاب نہیں، تاہم تارڑ برادری کی اجتماعی یادداشت میں ان کا مقام انتہائی اہم ہے۔


سکھ دور

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جب پنجاب میں سکھ سلطنت قائم ہوئی تو تارڑ خاندانوں نے اپنی زرعی اور سماجی حیثیت برقرار رکھی۔ اس دور میں بھی وہ مقامی انتظامی اور معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔


برطانوی دور

1849ء میں پنجاب کے برطانوی قبضے کے بعد مختلف گزیٹیئرز اور نسلی مطالعات میں تارڑ قبیلے کا ذکر ایک اہم زرعی اور جنگجو برادری کے طور پر ملتا ہے۔

برطانوی دور میں:

  • تارڑ خاندان بڑے زمینداروں میں شمار ہوتے تھے۔
  • فوجی خدمات میں ان کی نمایاں نمائندگی تھی۔
  • کئی خاندان مقامی قیادت اور انتظامی معاملات میں سرگرم رہے۔

تارڑ قبیلے کی ہجرت

روایات کے مطابق تارڑ خاندانوں کی ہجرت کا سفر کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے:

  1. بھٹنیر (راجستھان)
  2. دریائے راوی اور چناب کے درمیانی علاقے
  3. حافظ آباد
  4. گوجرانوالہ
  5. منڈی بہاؤالدین
  6. گجرات
  7. سرگودھا

بعد ازاں مختلف خاندان پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی آباد ہو گئے۔


اسلام کی طرف رجحان

تارڑ برادری کے مسلمان خاندانوں کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے مختلف ادوار میں صوفیائے کرام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔

یہ عمل ایک ہی وقت میں نہیں ہوا بلکہ کئی نسلوں اور مختلف علاقوں میں بتدریج مکمل ہوا۔


تارڑ قبیلے کی اہم شاخیں

وقت گزرنے کے ساتھ مختلف علاقوں اور آبادیوں کی بنیاد پر تارڑ برادری کی متعدد ذیلی شاخیں وجود میں آئیں۔

اہم شاخوں میں شامل ہیں:

  • کولو تارڑ
  • ونیکے تارڑ
  • جلال پور تارڑ
  • رسول پور تارڑ
  • سدھواں تارڑ
  • ہیلان تارڑ
  • باہری تارڑاں
  • دریکاں تارڑ
  • ونگے تارڑ
  • چک تارڑ
  • مانگٹ 

یہ زیادہ تر جغرافیائی اور خاندانی شناختیں ہیں۔


ضلع حافظ آباد میں تارڑ برادری

حافظ آباد کو تارڑ قبیلے کا تاریخی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

اہم آبادیاں

  • ونیکے تارڑ
  • کولو تارڑ
  • جلال پور 
  • رسول پور تارڑ
  • سدھواں تارڑ

یہ علاقے زرعی ترقی، سماجی قیادت اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔


ضلع منڈی بہاؤالدین میں تارڑ برادری

ضلع منڈی بہاؤالدین تارڑ برادری کا ایک بڑا مرکز ہے۔

اہم دیہات

  • باہری تارڑاں
  • ہیلاں
  • دریکاں کلاں
  • ونگے تارڑ
  • چک رام داس
  • چک بساوا
  • پھالیہ کے نواحی علاقے

یہاں تارڑ خاندان زراعت، کاروبار، تعلیم اور سیاست میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔


ثقافتی خصوصیات

تارڑ برادری پنجابی ثقافت کی روایتی اقدار کی امین سمجھی جاتی ہے۔

ان کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں:

  • مہمان نوازی
  • باہمی تعاون
  • برادری نظام
  • جرگہ و پنچایت روایات
  • زمینداری ثقافت
  • سماجی ہم آہنگی

شادی بیاہ، میلوں، عرسوں اور مقامی تقریبات میں ان کی بھرپور شرکت دیکھی جاتی ہے۔


تعلیم اور جدید ترقی

گزشتہ چند دہائیوں میں تارڑ برادری نے تعلیم کے میدان میں نمایاں ترقی کی ہے۔

اس برادری کے افراد آج درج ذیل شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں:

  • سول سروس
  • فوج
  • پولیس
  • عدلیہ
  • طب
  • انجینئرنگ
  • اعلیٰ تعلیم
  • کاروبار
  • میڈیا
  • تحقیق

تقسیم ہند اور تارڑ برادری

1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد:

  • مسلمان تارڑ خاندان پاکستان میں آباد رہے۔
  • سکھ اور ہندو تارڑ خاندان بھارت کے پنجاب، ہریانہ اور راجستھان منتقل ہو گئے۔

آج بھی پاکستان اور بھارت کے تارڑ خاندان اپنے مشترکہ آبائی تعلقات کا ذکر کرتے ہیں۔


نمایاں شخصیات

محمد رفیق تارڑ

پاکستان کے نویں صدر، ممتاز قانون دان اور سابق جج، جنہوں نے ملکی سیاست اور عدالتی نظام میں اہم خدمات انجام دیں۔

مستنصر حسین تارڑ

اردو ادب کے معروف ناول نگار، سفرنامہ نگار، دانشور، اداکار اور ٹیلی وژن میزبان۔

عطاء اللہ تارڑ

پاکستان کے معروف سیاسی رہنما اور وفاقی سطح پر اہم ذمہ داریاں انجام دینے والی شخصیت۔

محمد فاروق تارڑ

معروف قانون دان اور سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب۔


عصرِ حاضر میں تارڑ برادری

آج تارڑ برادری پنجاب کی تعلیم یافتہ، منظم اور بااثر برادریوں میں شمار ہوتی ہے۔ زراعت سے لے کر جدید کاروبار، سیاست، فوج، عدلیہ، ادب، تحقیق اور میڈیا تک اس برادری کے افراد نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اپنی تاریخی روایات، مضبوط سماجی ڈھانچے، تعلیمی ترقی اور قومی خدمات کی بدولت تارڑ قبیلہ پنجاب کے اہم ترین قبائل اور سماجی اکائیوں میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔


تارڑ قبیلہ پنجاب کی تاریخ، ثقافت اور سماجی ارتقا کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگرچہ اس کی شجراتی روایات اور تاریخی بیانیوں میں بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم اس بات پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ یہ برادری صدیوں سے پنجاب کے سماجی، زرعی، تعلیمی اور سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔ آج بھی تارڑ خاندان اپنی تاریخی شناخت، تعلیمی کامیابیوں اور قومی خدمات کے باعث پاکستان اور بھارت دونوں میں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

Muzammal Hussain Cheema
Author: Muzammal Hussain Cheema

Foundar of Findora Directory

One response to “تارڑ قبیلہ: تاریخ، شجرہ نسب، اہم شاخیں، ثقافت اور نمایاں شخصیات”

  1. Great content! Keep up the good work!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×
Findora
Findora Directory
منڈی بہاءالدین