بکرمی تقویم: برصغیر کی قدیم شمسی جنتری
بکرمی تقویم برصغیر پاک و ہند کی قدیم ترین اور معروف شمسی تقاویم میں سے ایک ہے، جو صدیوں سے دیہی اور زرعی معاشرت میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس تقویم کو بکرمی کلینڈر، دیسی سال یا جنتری بھی کہا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق اس کا آغاز راجہ بکرم اجیت کے دور سے منسوب کیا جاتا ہے۔ بکرمی سال کا آغاز وساکھ کے مہینے سے ہوتا ہے، جو بہار کے موسم اور نئی فصلوں کی آمد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
بکرمی سال کی ساخت
بکرمی تقویم ایک شمسی نظام پر مبنی ہے اور اس میں مجموعی طور پر 365 دن ہوتے ہیں۔ اس کلینڈر میں:
- 9 مہینے 30 دنوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
- وساکھ کا مہینہ 31 دنوں کا ہوتا ہے۔
- جیٹھ اور ہاڑھ کے مہینے 32، 32 دنوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
یہ نظام زرعی سرگرمیوں، موسمی تبدیلیوں اور مقامی روایات کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔
بکرمی سال کے بارہ مہینے
بکرمی تقویم کے بارہ مہینے درج ذیل ہیں:
| مہینہ | گریگورین کیلنڈر کے مطابق |
|---|---|
| وساکھ | اپریل تا مئی |
| جیٹھ | مئی تا جون |
| ہاڑھ | جون تا جولائی |
| ساون | جولائی تا اگست |
| بھادوں | اگست تا ستمبر |
| اسوں | ستمبر تا اکتوبر |
| کاتک (کتی) | اکتوبر تا نومبر |
| مگھر | نومبر تا دسمبر |
| پوھ | دسمبر تا جنوری |
| مانگھ | جنوری تا فروری |
| پھاگن | فروری تا مارچ |
| چیتر | مارچ تا اپریل |
یہ مہینے آج بھی پنجاب، سندھ اور شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں روایتی طور پر پہچانے جاتے ہیں۔
بکرمی گھڑیاں
بکرمی جنتری میں وقت کو صرف دن اور رات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے گھڑیوں میں بھی تقسیم کیا گیا ہے۔
- ایک دن میں 64 گھڑیاں ہوتی ہیں۔
- ایک گھڑی تقریباً 22.5 منٹ کے برابر سمجھی جاتی ہے۔
قدیم زمانے میں روزمرہ کے اوقات، عبادات، سفر اور زرعی سرگرمیوں کے تعین میں گھڑیوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔
بکرمی پہر یا ویلھے
بکرمی تقویم میں دن اور رات کو آٹھ برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جنہیں پہر یا ویلا کہا جاتا ہے۔ ہر ویلا تقریباً تین گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
1۔ دھمی ویلا
صبح 6 بجے سے 9 بجے تک کا وقت
2۔ دوپہر ویلا
صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک کا وقت
3۔ پیشی ویلا
دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک کا وقت
4۔ دیگر ویلا
سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت
5۔ نماشاں ویلا
شام 6 بجے سے رات 9 بجے تک کا وقت
6۔ کفتاں ویلا
رات 9 بجے سے رات 12 بجے تک کا وقت
7۔ ادھ رات ویلا
رات 12 بجے سے صبح 3 بجے تک کا وقت
8۔ اسور ویلا
صبح 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کا وقت
لفظ “ویلا” کی اہمیت
لفظ ویلا برصغیر کی متعدد زبانوں، خصوصاً پنجابی، سرائیکی اور دیگر مقامی بولیوں میں “وقت” یا “مخصوص وقت” کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بکرمی تقویم میں وقت کی تقسیم کے لیے “ویلا” کی اصطلاح کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
بکرمی تقویم صرف ایک کیلنڈر نہیں بلکہ برصغیر کی ثقافتی، زرعی اور تاریخی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اس کے مہینے، گھڑیاں اور پہر مقامی زندگی، موسمی نظام اور روایتی علم کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج بھی دیہی علاقوں میں بکرمی مہینوں اور ویلھوں کا استعمال روزمرہ گفتگو، زراعت اور ثقافتی روایات میں نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply