منڈی بہاءالدین کے تاریخی مقامات: سکندر اعظم سے برطانوی دور تک ایک تحقیقی سفر

Muzammal Hussain Cheema June 6, 2026 1 min read

منڈی بہاءالدین کے تاریخی مقامات: سکندر اعظم سے برطانوی دور تک ایک تحقیقی سفر

تعارف

پنجاب کے قلب میں واقع ضلع منڈی بہاءالدین کو عام طور پر ایک زرعی ضلع کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ یہ خطہ برصغیر کی چند اہم ترین تاریخی، عسکری اور تہذیبی روایات کا امین ہے۔ دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان واقع چج دوآب کا یہ علاقہ صدیوں سے مختلف تہذیبوں، سلطنتوں اور اقوام کی آمد و رفت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں سکندر اعظم اور راجہ پورس کی جنگ کے آثار سے منسوب مقامات موجود ہیں، سکھ سلطنت اور برطانوی راج کی خونریز لڑائیوں کی یادگاریں موجود ہیں، مغل دور کے مزارات موجود ہیں اور نوآبادیاتی دور کی نہری اور ریلوے انجینئرنگ کے نشانات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کے اکثر تاریخی مطالعات میں منڈی بہاءالدین کا ذکر سرسری طور پر کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ خطہ کم از کم دو ہزار سال سے زیادہ عرصے سے تاریخ کے دھارے میں موجود ہے۔ اس مضمون میں ہم منڈی بہاءالدین کے اہم تاریخی مقامات، ان کی تاریخی حیثیت، مقامی روایات اور ان سے جڑی تہذیبی اہمیت کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔


چج دوآب: منڈی بہاءالدین کی تاریخی جغرافیہ

کسی بھی علاقے کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اس کی جغرافیائی حیثیت کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ منڈی بہاءالدین چج دوآب کے وسطی حصے میں واقع ہے، جو دریائے چناب اور دریائے جہلم کے درمیان پھیلا ہوا زرخیز میدان ہے۔ یہی جغرافیائی محلِ وقوع اس علاقے کو قدیم زمانے سے اہم بناتا رہا۔

قدیم دور میں دریا صرف پانی کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ تجارت، سفر، فوجی نقل و حرکت اور تہذیبی تبادلوں کی شاہراہیں بھی تھے۔ اسی وجہ سے مختلف سلطنتوں نے اس خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یونانی، ہند آریائی، مغل، سکھ اور برطانوی حکمران سب اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت سے واقف تھے۔


مونگ: سکندر اعظم اور راجہ پورس کی جنگ کا میدان

منڈی بہاءالدین کا سب سے اہم تاریخی مقام بلا شبہ “مونگ” ہے۔

ضلع کے شمال مغرب میں واقع یہ قدیم بستی ان مقامات میں شمار ہوتی ہے جنہیں بہت سے مورخین 326 قبل مسیح کی مشہور جنگِ ہائیڈیسپس (Battle of Hydaspes) سے جوڑتے ہیں۔ یہ وہ جنگ تھی جس میں مقدونیہ کے فاتح سکندر اعظم کا سامنا پنجاب کے حکمران راجہ پورس سے ہوا تھا۔

یونانی مؤرخین کے مطابق یہ جنگ دریائے جہلم (قدیم ہائیڈیسپس) کے کنارے لڑی گئی۔ اگرچہ جنگ کے درست مقام پر آج بھی علمی بحث جاری ہے، لیکن متعدد برطانوی دور کے ماہرین آثارِ قدیمہ، خصوصاً الیگزینڈر کننگھم، مونگ کو اس تاریخی جنگ اور بعد ازاں قائم ہونے والے یونانی شہر “نیکایا” سے منسلک کرتے ہیں۔

اس جنگ کی اہمیت صرف ایک فوجی معرکے تک محدود نہیں۔ یہی وہ لڑائی تھی جس کے بعد سکندر کی فوج نے مزید مشرق کی طرف پیش قدمی سے انکار کر دیا۔ راجہ پورس کی مزاحمت نے یونانی فوج کو یہ احساس دلایا کہ برصغیر کی مزید فتوحات آسان نہیں ہوں گی۔ یوں پنجاب کی سرزمین عالمی تاریخ کے ایک اہم موڑ کی گواہ بنی۔

آج مونگ ایک عام دیہی بستی دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی زمین کے نیچے تاریخ کی کئی تہیں دفن ہیں جن پر مزید آثارِ قدیمہ کی تحقیق کی ضرورت ہے۔


پھالیہ: بوسیفیلا کی گمشدہ یاد

منڈی بہاءالدین کی تحصیل پھالیہ کا نام بھی قدیم یونانی تاریخ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

سرکاری تاریخی روایات کے مطابق سکندر اعظم نے راجہ پورس کے خلاف فتح کے بعد دو شہر قائم کیے تھے۔ ان میں ایک “نیکایا” اور دوسرا “بوسیفیلا” تھا۔ بوسیفیلا کا نام سکندر کے محبوب گھوڑے بوسیفالس (Bucephalus) کے نام پر رکھا گیا تھا، جو روایت کے مطابق اسی مہم کے دوران مر گیا تھا۔ بعض محققین جدید پھالیہ کے علاقے کو اسی قدیم شہر سے منسلک کرتے ہیں۔

اگرچہ اس نظریے کے حق میں مکمل آثارِ قدیمہ کے شواہد دستیاب نہیں، لیکن برطانوی دور کے متعدد گزٹیئرز اور بعد کی تحقیق میں پھالیہ کا ذکر یونانی دور کے تناظر میں ملتا ہے۔

پھالیہ کی اہمیت صرف یونانی روایات تک محدود نہیں۔ مغل دور اور بعد کے ادوار میں بھی یہ علاقہ ایک اہم زرعی اور تجارتی مرکز کے طور پر ابھرتا رہا۔


چلیانوالہ: وہ جنگ جس نے برطانوی سلطنت کو ہلا دیا

اگر منڈی بہاءالدین کا کوئی مقام عالمی عسکری تاریخ میں سب سے زیادہ معروف ہے تو وہ چلیانوالہ ہے۔

13 جنوری 1849ء کو یہاں دوسری اینگلو-سکھ جنگ کا مشہور معرکہ پیش آیا۔ سکھ فوج کی قیادت شیر سنگھ اٹاری والا کر رہے تھے جبکہ برطانوی فوج جنرل ہیو گف کے ماتحت تھی۔ جنگ انتہائی خونریز ثابت ہوئی اور برطانوی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ کئی برطانوی مؤرخین نے اسے ہندوستان میں برطانوی فوج کی مشکل ترین لڑائیوں میں شمار کیا ہے۔

چلیانوالہ کی جنگ اس لحاظ سے منفرد تھی کہ اگرچہ برطانوی سلطنت بالآخر پنجاب پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئی، لیکن اس معرکے نے برطانوی فوجی قیادت کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے۔ جنگ کے بعد برطانیہ میں شدید تنقید ہوئی اور فوجی حکمتِ عملی پر نظرثانی کی گئی۔

آج بھی چلیانوالہ میں موجود “گورا قبرستان” اور جنگی یادگار اس خونریز معرکے کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔ یہاں برطانوی افسروں اور سپاہیوں کی قبریں موجود ہیں جنہیں دیکھ کر ڈیڑھ صدی پرانی تاریخ زندہ محسوس ہوتی ہے۔


ہیلان اور شیخ علی بیگ کا مقبرہ

تحصیل پھالیہ کا قصبہ ہیلان ضلع کے قدیم ترین آباد مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اس علاقے کی اصل تاریخی اہمیت شیخ علی بیگ کے مقبرے کی وجہ سے ہے۔

شیخ علی بیگ مغل دور کے ایک اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ان کا مقبرہ پنجاب کے تاریخی ورثے کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ عمارت مغل فنِ تعمیر کی مقامی شکل کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگرچہ اسے لاہور یا جہانگیر کے مقبرے جیسی شہرت حاصل نہیں، لیکن علاقائی تاریخ میں اس کی اہمیت مسلم ہے۔

مقبرے کی تعمیر میں استعمال ہونے والی اینٹیں، محرابیں اور گنبد اس دور کے تعمیراتی ذوق کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس مقام پر مزید تحفظ اور تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کی تاریخی حیثیت بہتر طور پر دستاویزی شکل اختیار کر سکے۔

Muzammal Hussain Cheema
Author: Muzammal Hussain Cheema

Foundar of Findora Directory

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ہماری ایپ انسٹال کریں