کیا آپ جانتے ہیں؟ 1920 میں تحصیل پھالیہ(منڈی بہاءالدین) کیسی دکھائی دیتی تھی؟ گجرات گزٹیئر 1921 کے آئینے میں ایک تاریخی سفر
آج کا ضلع منڈی بہاء الدین پنجاب کے زرخیز ترین اور تاریخی خطوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اب سے ایک صدی قبل، یعنی 1920 کے آس پاس، یہ علاقہ کیسا تھا؟ اس وقت منڈی بہاء الدین نام کا کوئی الگ ضلع وجود نہیں رکھتا تھا، بلکہ یہ پورا علاقہ “گزٹیئر آف گجرات ڈسٹرکٹ 1921” کے مطابق ضلع گجرات کی ایک وسیع اور اہم تحصیل “پھالیہ” (Phalia) کہلاتا تھا۔آئیے وقت کے پہیے کو 100 سال پیچھے گھماتے ہیں اور گجرات گزٹیئر 1921 (جسے برطانوی ہند کی انتظامیہ نے دسمبر 1920 میں مرتب کیا) کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اس دور کی تحصیل پھالیہ کا جغرافیہ، طرزِ زندگی، معیشت اور معاشرت کیسی تھی۔
1۔ چج دوآب کا دل: پھالیہ کا جغرافیائی منظرنامہ
1920 کے گزٹیئر کے مطابق، تحصیل پھالیہ دو عظیم دریاؤں—دریائے جہلم اور دریائے چناب—کے درمیان واقع خطے “چج دوآب” (Chaj Doab) کا ایک مرکزی اور اہم ترین حصہ تھی۔ اس دور میں تحصیل کا بڑا حصہ گھنے جنگلات، جھاڑیوں اور وسیع میدانوں پر مشتمل تھا جسے مقامی زبان میں “گوندل بار” (Gondal Bar) کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ اپنی قدرتی جڑی بوٹیوں، خودرو نباتات اور گھنے درختوں (جیسے ون، کریر، اور جنڈ) کے لیے مشہور تھا۔
2۔ منڈی بہاء الدین کا جنم: ایک نئی منڈی کا آغاز
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1920 سے پہلے منڈی بہاء الدین محض ایک چھوٹا سا چاک (چک نمبر 51) تھا۔ لیکن اسی دور یعنی 1920 میں ہی یہاں باقاعدہ طور پر ایک بڑی غلہ منڈی (Grain Market) قائم کی گئی۔ چونکہ یہ غلہ منڈی پاس ہی واقع قدیم گاؤں “پنڈی بہاء الدین” کے نزدیک تھی، اس لیے اس کا نام “منڈی بہاء الدین” پڑ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ غلہ منڈی تحصیل پھالیہ کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بن کر ابھری، جہاں دور دور سے تاجر برادری (جن میں مسلم، سکھ اور ہندو شامل تھے) آ کر آباد ہونے لگی۔
3۔ نہری نظام اور زراعتی انقلاب
1920 کا دور تحصیل پھالیہ کے لیے ایک بڑے معاشی انقلاب کا دور تھا۔ اس سے قبل یہ علاقہ زیادہ تر بارانی (بارش پر منحصر) یا پھر کنوؤں کے ذریعے سیراب ہوتا تھا۔ لیکن برطانوی راج کے دوران لوئر جہلم کینال (Lower Jhelum Canal) اور رسول ہیڈورکس (Rasul Headworks) کے قیام نے یہاں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ گزٹیئر کے مطابق، نہری پانی کی فراوانی کے باعث پھالیہ کی زرخیز زمینوں پر بڑے پیمانے پر کاشتکاری شروع ہو چکی تھی۔ اس دور کی اہم ترین فصلوں میں شامل تھیں:
- گندم (Wheat): جو یہاں کی سب سے بڑی اور نقد آور فصل تھی۔
- باجرہ، کپاس اور گنا: جن کی کاشت نے مقامی کسانوں کی معاشی حالت کو بدلنا شروع کر دیا تھا۔
4۔ 1920 کا طرزِ زندگی اور اہم برادریاں
ایک صدی قبل تحصیل پھالیہ کی آبادی زیادہ تر دیہی طرزِ زندگی کی حامل تھی، جہاں لوگ مٹی کے بنے روایتی گھروں میں رہتے تھے۔ گزٹیئر 1921 کے مطابق، اس خطے کی سب سے بااثر اور بڑی برادری “گوندل” (Gondal) تھی، جن کا ہاتھی ونڈ (شاہپور) سے پھیل کر اس بار کے علاقے پر کنٹرول تھا۔ گونڈل برادری اپنی بہادری، سخاوت اور زمینداری کے لیے مشہور تھی اور برطانوی فوج میں بھی ان کی بڑی تعداد شامل تھی۔ ان کے علاوہ تارڑ (Tarar)، رانجھا اور دیگر جٹ و راجپوت قبائل بھی یہاں آباد تھے جنہوں نے پھالیہ کے مختلف محلوں (جیسے پھالیہ امیر، پھالیہ کیمن وغیرہ) کی بنیاد رکھی۔
5۔ ذرائع آمد و رفت اور ریلوے کا جال
1920 کے گزٹیئر کے مطابق، اس دور میں کچی سڑکوں اور گھوڑا گاڑیوں کے علاوہ ریلوے لائن اس علاقے کی سب سے بڑی لائف لائن بن چکی تھی۔ غلہ منڈی کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ریلوے نیٹ ورک کو مضبوط کیا جا رہا تھا (جس کے نتیجے میں آگے چل کر 1924 میں پنڈی بہاء الدین ریلوے اسٹیشن کا نام باقاعدہ ‘منڈی بہاء الدین ریلوے اسٹیشن’ رکھا گیا)۔ اس نہری اور ریل کے نظام نے پھالیہ کو لاہور اور دیگر بڑے شہروں کی مارکیٹوں سے جوڑ دیا تھا۔
6۔ سکندرِ اعظم کی نشانیاں اور تاریخی ورثہ
پھالیہ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ گزٹیئر میں بھی اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ یہ شہر سکندرِ اعظم کے دور (326 قبل مسیح) کے تاریخی واقعات کا امین ہے۔ مانا جاتا ہے کہ سکندرِ اعظم کے مشہور گھوڑے “بوسیفلس” (Bucephalus) کی موت اسی علاقے کے قریب ہوئی تھی، جس کی یاد میں بوسیفلا شہر آباد ہوا جو وقت کے ساتھ بدل کر “پھالیہ” بن گیا۔ 1920 میں بھی یہاں قدیم تہذیبی ٹیلے (Mounds) موجود تھے، جو اس کے شاندار ماضی کی گواہی دیتے تھے۔
آج کا منڈی بہاء الدین اور اس کی قدیم تحصیل پھالیہ اگرچہ جدید عمارتوں، سڑکوں اور کمرشلائزیشن کا روپ دھار چکے ہیں، لیکن 1920 کا پھالیہ اپنی سادگی، زرخیز نہری کلچر، گونڈل بار کے گھنے جنگلات اور ایک نئی غلہ منڈی کے عروج کی دلفریب داستان سمیٹے ہوئے تھا۔ گجرات گزٹیئر 1921 کی یہ دستاویز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اس مٹی نے کتنے تاریخی ادوار دیکھے ہیں اور یہ کس طرح ایک چھوٹے سے زرعی خطے سے ترقی کر کے آج کے اس مقام تک پہنچی ہے۔

Leave a Reply