منڈی بہاءالدین ۔۔ خرم شہزاد

Muzammal Hussain Cheema May 14, 2026 1 min read

منڈی بہاءالدین

تحریر: خرم شہزاد

منڈی بہاؤالدین… پنجاب کی سرزمین کا وہ خوبصورت اور اہم ضلع جس کی پہچان صرف اس کی زمینیں، بازار یا عمارتیں نہیں بلکہ یہاں بسنے والے لوگ، ان کی روایات، ثقافت، محنت، محبت اور خلوص ہیں۔

یہ ضلع تین بڑی تحصیلوں — تحصیل منڈی بہاؤالدین، تحصیل ملکوال اور تحصیل پھالیہ — پر مشتمل ہے، جہاں ہر شہر اپنی الگ تاریخ، تہذیب اور پہچان رکھتا ہے۔

یہ دھرتی زرخیز کھیتوں، لہلہاتی فصلوں، دریاۓ جہلم، رسول بیراج، نہروں، سرسبز راستوں، پرانی گلیوں، مصروف بازاروں اور پنجابی ثقافت کی خوبصورت تصویر پیش کرتی ہے۔ صبح کے وقت اذانوں کی آواز، دودھ والوں کی صدائیں، بازاروں کی رونق، کھیتوں میں کام کرتے کسان اور شام کے وقت چائے خانوں پر بیٹھکیں اس ضلع کی اصل خوبصورتی ہیں۔

منڈی بہاؤالدین کی گلیاں صرف راستے نہیں بلکہ یادوں، رشتوں اور جذبات کا عکس ہیں۔ یہاں ہر چوک کی اپنی کہانی ہے، ہر بازار کی اپنی پہچان ہے، ہر گلی میں محبت اور اپنائیت کا احساس ملتا ہے۔ یہاں لوگ دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا جانتے ہیں۔

یہ ضلع ہمیشہ سے زراعت، تجارت، تعلیم، سیاست اور بیرون ملک روزگار کے حوالے سے اہم رہا ہے۔ ہزاروں لوگ یورپ، برطانیہ، اٹلی، اسپین، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں رہتے ہوئے بھی اپنے شہر، اپنی گلیوں اور اپنی مٹی کو نہیں بھولے۔ عید، شادی یا کسی خوشی کے موقع پر واپس اسی دھرتی کا رخ کرتے ہیں۔

منڈی بہاؤالدین میں کسان اس معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہی کی محنت سے کھیت سرسبز رہتے ہیں اور معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ مزدور طبقہ دن رات محنت کرکے اپنے خاندانوں کا سہارا بنتا ہے جبکہ دکاندار، تاجر اور کاروباری افراد ضلع کی معاشی سرگرمیوں کو زندہ رکھتے ہیں۔

یہاں کے اساتذہ نئی نسل کے معمار ہیں جو علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے نوجوانوں کے خوابوں کو تعبیر دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل کھیل، تعلیم، کاروبار، سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

منڈی بہاؤالدین کی صحافت بھی ہمیشہ اہم رہی ہے۔ صحافی معاشرے کی آواز سمجھے جاتے ہیں جو عوامی مسائل، ظلم، ناانصافی اور معاشرتی برائیوں کو سامنے لاتے ہیں۔ ایک سچا صحافی معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے۔

اسی طرح وکلا برادری اور عدلیہ انصاف کے نظام کا اہم ستون ہیں۔ عدالتوں میں آنے والے لوگ انصاف کی امید لے کر آتے ہیں۔ اگر وکیل حق اور سچ کیلئے کھڑے ہوں اور عدلیہ میرٹ پر فیصلے کرے تو معاشرے میں قانون کی حکمرانی مضبوط ہوتی ہے۔

؎

“عدل ہو تو ریاستیں قائم رہتی ہیں

ظلم بڑھ جائے تو تخت بھی گر جاتے ہیں”

پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ضلع کے امن کیلئے دن رات خدمات انجام دے رہے ہیں۔ عوام کی یہی خواہش ہے کہ ادارے سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر صرف قانون اور انصاف کی بنیاد پر کام کریں تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

منڈی بہاؤالدین کے ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور محکمہ صحت سے وابستہ افراد بھی قابلِ ذکر ہیں۔ ضلع کے بڑے ہسپتالوں سے لے کر چھوٹے دیہی مراکز صحت تک، ڈاکٹرز اور طبی عملہ ہزاروں مریضوں کی خدمت میں مصروف رہتا ہے۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاؤالدین، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ملکوال اور پھالیہ سمیت مختلف سرکاری و نجی ہسپتال عوام کیلئے صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

اگرچہ طبی شعبے کو سہولیات، ڈاکٹروں کی کمی اور وسائل جیسے مسائل کا سامنا ہے، مگر اس کے باوجود بہت سے ڈاکٹرز دن رات انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔

“درد بانٹنے والے لوگ کم نہیں ہوتے

بس دل سے انسان ہونا ضروری ہوتا ہے”

اسی طرح سماجی کارکن، فلاحی تنظیمیں، مذہبی شخصیات، تاجر تنظیمیں، کھلاڑی، فنکار اور عام شہری بھی اس معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ ہر طبقہ اپنے انداز میں اس ضلع کی ترقی اور خوبصورتی میں کردار ادا کر رہا ہے۔

لیکن دوسری طرف منشیات، بے روزگاری، غیر قانونی اسلحہ، سوشل میڈیا پر نفرت، جھوٹا پروپیگنڈا، غیر قانونی امیگریشن اور “ڈنکی” مافیا جیسے مسائل نوجوان نسل کیلئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

اسی لیے حالیہ عرصے میں اینٹی نارکوٹکس فورس اور کاؤنٹر نارکوٹکس اداروں کی کارروائیاں عوام کیلئے امید کی ایک نئی کرن بنی ہیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف سخت ایکشن وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

آج ایک اور اہم ضرورت منڈی بہاؤالدین میں ایف آئی اے کے مستقل دفتر کا قیام ہے۔ کیونکہ ضلع میں غیر قانونی ایجنٹ، جعلی ویزہ مافیا، آن لائن فراڈ اور ڈنکی مافیا کے بڑھتے کیسز عوام کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

ایک باقاعدہ ایف آئی اے آفس نہ صرف شہریوں کیلئے آسانی پیدا کرے گا بلکہ انسانی سمگلنگ اور فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

“اندھیروں سے کہہ دو بچا کر رکھیں خود کو

ہم نے چراغ جلانے کا ہنر سیکھ لیا ہے”

منڈی بہاؤالدین کے لوگ باشعور، محنتی، غیرت مند اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ اگر ادارے مضبوط ہوں، نوجوان تعلیم اور ہنر کی طرف آئیں، سیاست خدمت بن جائے، صحافت سچ بولے، عدلیہ انصاف دے، ڈاکٹر انسانیت کی خدمت کریں، پولیس قانون کی پاسداری کرے اور عوام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو یہ ضلع پنجاب کے بہترین اضلاع میں شمار ہو سکتا ہے۔

یہ شہر صرف اینٹوں، سڑکوں اور بازاروں کا نام نہیں…

یہ ایک احساس ہے، ایک ثقافت ہے، ایک محبت ہے، ایک پہچان ہے۔

یہاں کی گلیاں، بازار، نہریں، دریا، کھیت، لوگ، لہجے اور روایتیں آج بھی اس دھرتی کی خوبصورتی بیان کرتی ہیں۔

اور حقیقت یہی ہے کہ

“شہر تب ترقی کرتے ہیں جب وہاں کے لوگ صرف شکایت نہیں بلکہ کردار بھی ادا کرتے ہیں۔”

Muzammal Hussain Cheema
Author: Muzammal Hussain Cheema

Foundar of Findora Directory

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *