The Gondal Tribe’s Lifestyle in Bar, Phalia Tehsil : A Historical Journey from Pastures to Farms

Muzammal Hussain Cheema May 4, 2026 1 min read

تحصیل پھالیہ کے بار میں گوندل قبیلے کا طرزِ زندگی — چراگاہوں سے کھیتوں تک ایک تاریخی سفر

منڈی بہاؤالدین اور اس کے گردونواح کی تاریخ صرف زمین اور بستیوں کی کہانی نہیں بلکہ یہاں آباد قبائل کی زندگی، ان کے معاشی ڈھانچے اور ماحول کے ساتھ ان کے تعلق کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ گزٹیئر آف گجرات 1921 کے مطابق تحصیل پھالیہ کے بار کے علاقے میں آباد گوندل قبیلے کا طرزِ زندگی اس وقت کے قدرتی حالات کے مطابق مکمل طور پر مختلف تھا۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب نہری نظام موجود نہیں تھا اور زمین اپنی اصل صلاحیت کے باوجود پانی کی کمی کی وجہ سے غیر آباد دکھائی دیتی تھی۔

بار کا علاقہ بنیادی طور پر نیم بنجر زمینوں پر مشتمل تھا جہاں درخت کم اور جھاڑیاں زیادہ ہوتی تھیں۔ یہاں زراعت کا انحصار مکمل طور پر بارشوں پر تھا جو نہ صرف کم ہوتی تھیں بلکہ غیر یقینی بھی تھیں۔ اس وجہ سے فصل اگانا ایک خطرناک عمل سمجھا جاتا تھا کیونکہ کسان کو یہ یقین نہیں ہوتا تھا کہ اس کی محنت کا نتیجہ نکلے گا یا نہیں۔ اسی طرح آبپاشی کے لیے نہریں یا کنوئیں بھی موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے زمینیں وسیع پیمانے پر بنجر پڑی رہتی تھیں۔ ان حالات میں زراعت کو بطور پیشہ اپنانا نہایت مشکل اور غیر مستحکم فیصلہ ہوتا۔

ایسے ماحول میں گوندل قبیلے نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا جو اس خطے کے لیے زیادہ موزوں تھا۔ یہ قبیلہ بنیادی طور پر چرواہا قبیلہ تھا اور اس کی معیشت کا دارومدار مویشی پالنے پر تھا۔ گائے، بھینسیں، بکریاں اور دیگر جانور ان کے لیے صرف خوراک کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی استحکام کی بنیاد تھے۔ ان کی زندگی زمین کے بجائے مویشیوں کے گرد گھومتی تھی، اور یہی وجہ تھی کہ ان کی بستیاں بھی مستقل نوعیت کی نہیں تھیں۔ وہ عموماً ڈھوکوں میں رہتے تھے، جو عارضی قیام گاہیں ہوتی تھیں اور مویشیوں کے باڑوں کے ساتھ قائم کی جاتی تھیں۔ جب کسی علاقے میں چارہ کم ہو جاتا تو یہ لوگ اپنے مویشیوں کے ساتھ دوسری جگہ منتقل ہو جاتے تھے۔

بار کے وسیع میدان اس طرزِ زندگی کے لیے نہایت موزوں تھے۔ یہاں میلوں تک پھیلی چراگاہیں موجود تھیں جہاں مویشیوں کو چرنے کے لیے کسی خاص بندوبست کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اس کے مقابلے میں زراعت ایک مشکل اور مہنگا عمل تھا، جبکہ مویشی پالنا نسبتاً آسان اور فوری فائدہ دینے والا پیشہ تھا۔ اسی لیے گوندل قبیلے نے فطری طور پر اس پیشے کو اپنایا اور اسے اپنی شناخت کا حصہ بنا لیا۔

گزٹیئر کے مطابق اس دور میں مویشیوں کی چوری بھی اس قبیلے کی معاشی سرگرمیوں میں شامل تھی۔ یہ پہلو اگرچہ منفی سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے پیچھے بھی اس وقت کے حالات کارفرما تھے۔ جب وسائل محدود ہوں اور معیشت غیر مستحکم ہو تو بعض قبائل ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں جو انہیں فوری فائدہ دے سکیں۔ اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اتنے مضبوط نہیں تھے، اور قبائلی نظام زیادہ اثر انداز تھا، جس کی وجہ سے ایسے رجحانات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا تھا۔

1916 میں اپر جہلم کینال کی تعمیر نے اس پورے خطے کی تقدیر بدل دی۔ یہ ایک ایسا سنگ میل تھا جس نے نہ صرف زمین بلکہ یہاں کے لوگوں کی زندگی کو بھی یکسر تبدیل کر دیا۔ نہر کے ذریعے دریائے جہلم کا پانی بار کے علاقے تک پہنچا، اور وہ زمین جو پہلے بنجر سمجھی جاتی تھی اچانک زرخیز ہو گئی۔ پانی کی دستیابی نے کاشتکاری کو ممکن ہی نہیں بلکہ منافع بخش بھی بنا دیا۔

جیسے ہی نہری پانی آیا، چراگاہیں آہستہ آہستہ کھیتوں میں تبدیل ہونے لگیں۔ جہاں پہلے مویشی چرائے جاتے تھے وہاں اب گندم، کپاس اور دیگر فصلیں اگائی جانے لگیں۔ اس تبدیلی نے گوندل قبیلے کو بھی متاثر کیا اور انہوں نے اپنے روایتی طرزِ زندگی کو بدلنا شروع کر دیا۔ انہوں نے مویشی پالنے کے ساتھ ساتھ زراعت کو اپنایا اور رفتہ رفتہ مکمل طور پر کاشتکاری کی طرف منتقل ہو گئے۔

یہ تبدیلی صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بھی تھی۔ پہلے جو لوگ عارضی ڈھوکوں میں رہتے تھے انہوں نے مستقل مکانات بنانا شروع کیے۔ دیہات وجود میں آئے، اور ایک منظم سماجی ڈھانچہ تشکیل پانے لگا۔ تعلیم، تجارت اور دیگر سرگرمیوں نے بھی اس خطے میں قدم رکھنا شروع کیا۔ اس طرح ایک خانہ بدوش طرزِ زندگی رکھنے والا قبیلہ ایک مستحکم زرعی معاشرے کا حصہ بن گیا۔

آج اگر ہم منڈی بہاؤالدین اور اس کے گردونواح کو دیکھیں تو ہمیں ایک سرسبز اور زرخیز علاقہ نظر آتا ہے جہاں کھیت لہلہاتے ہیں اور زرعی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ لیکن اس ترقی کے پیچھے ایک طویل تاریخی سفر چھپا ہوا ہے جس میں گوندل قبیلے جیسے قبائل نے اپنے حالات کے مطابق خود کو ڈھالا اور وقت کے ساتھ آگے بڑھے۔

یہ کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ انسانی معاشرے ہمیشہ جامد نہیں ہوتے بلکہ حالات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ جہاں پانی نہیں تھا وہاں زراعت ممکن نہیں تھی، اور جہاں پانی آیا وہاں زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ گوندل قبیلے کی یہ تبدیلی اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح قدرتی وسائل اور انفراسٹرکچر کسی بھی خطے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

منڈی بہاؤالدین کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اس قسم کے واقعات نہایت اہم ہیں کیونکہ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ موجودہ ترقی کس طرح ماضی کی بنیادوں پر قائم ہے۔ گوندل قبیلے کا چراگاہوں سے کھیتوں تک کا سفر دراصل اس پورے خطے کی اجتماعی ترقی کی علامت ہے، جو آج بھی اپنی روایات اور تاریخ کو اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔

تحریر: مزمل حسین چیمہ (بانی فائنڈور دائریکٹری منڈی بہاءالدین)

Muzammal Hussain Cheema
Author: Muzammal Hussain Cheema

Foundar of Findora Directory

One response to “The Gondal Tribe’s Lifestyle in Bar, Phalia Tehsil : A Historical Journey from Pastures to Farms”

  1. sami khokhar Avatar
    sami khokhar

    well written…keep it up and next khokhar cast.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *