پشت پر جھولتے پراندے کو | غزل | عقیل عباس
پشت پر جھولتے پراندے کو دیکھ اس اژدہے...
پشت پر جھولتے پراندے کو دیکھ اس اژدہے...
ہجر پرداز کی سفارت کو بادشاہا! نبیڑ وحشت...
غار تھا غار کی تنہائی تھی آگے میں...
زخم کے ہونٹ پر لعاب اس کا خوش...
گھر سے نکلی کہا سہیلی کا پھول ہم...
اشوک و پورس و گوتم کی سرزمین سے...
دینی فکر کا ارتقاء: متن سے روایت تک ...