اشوک و پورس و گوتم کی سرزمین سے میں
حضور! آپ کا خادم ہوں منکرین سے میں
سنہری جالیاں چھوتا ہوں اور سوچتا ہوں
ملے بغیر چلا جاؤں گا مکین سے میں
قسم ہے شانِ کریمی کی کبریائی کی
لپٹ کے رو نہیں پڑتا مرے امین سے میں
حضور آپ کی سیرت مطالعہ ہے مرا
حضور ڈرتا نہیں ہوں کسی لعین سے میں
حضور امتیں جس روز ساری جمع ہوئیں
تو صاف جان لیا جاؤں گا جبین سے میں
اڑن کھٹولے پہ نکلا حجازِ اقدس کو
فلک پہ آ گیا، ہوتا ہوا زمین سے میں
عقیل عباس








Leave a Reply