دینی فکر کا ارتقاء: متن سے روایت تک
قسط نمبر 3: مہدی کا عقیدہ — ہدایت یا تاریخی انتظار؟
جب بھی امتیں زوال، انتشار، ظلم یا سیاسی بحران کا شکار ہوتی ہیں تو ان کے اندر ایک نجات دہندہ کے انتظار کا تصور پیدا ہونے لگتا ہے۔ تاریخ میں یہ رجحان صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہا۔ یہودیوں نے مسیح موعود کا انتظار کیا، عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کی واپسی کا عقیدہ اختیار کیا، اور مختلف تہذیبوں میں ایک ایسے رہنما کی امید پائی جاتی ہے جو آئے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ اسلامی روایت میں یہ کردار امام مہدی کے نام سے معروف ہے۔
آج دنیا کے کروڑوں مسلمان اس عقیدے پر یقین رکھتے ہیں کہ قیامت سے پہلے ایک عظیم رہنما ظاہر ہوگا، جسے مہدی کہا جائے گا۔ وہ ظلم سے بھری دنیا کو عدل سے بھر دے گا، امت کو متحد کرے گا اور حق کا غلبہ قائم کرے گا۔ سنی اور شیعہ مکاتب فکر دونوں مہدی کے عقیدے کو تسلیم کرتے ہیں، اگرچہ ان کی تفصیلات مختلف ہیں۔ شیعہ عقیدے میں مہدی ایک متعین شخصیت ہیں، جبکہ سنی روایت میں وہ مستقبل میں پیدا ہونے والے یا ظاہر ہونے والے ایک صالح رہنما کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔
لیکن ہمارا سوال وہی ہے جو اس پوری سیریز کا بنیادی سوال ہے۔ اگر ہم صرف قرآن کو معیار بنائیں تو کیا ہمیں امام مہدی کا عقیدہ ملتا ہے؟
جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے۔ قرآن میں “امام مہدی” کا نام کہیں موجود نہیں۔ نہ کسی ایسے شخص کا ذکر ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا، نہ کسی عالمی اسلامی حکومت کی تفصیل ہے، نہ اس شخصیت کی نسل، مقامِ ظہور یا اس کی حکومت کا نقشہ بیان کیا گیا ہے۔
یہ بات خود اس عقیدے کے ناقدین ہی نہیں بلکہ بہت سے روایتی علماء بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مہدی کا تصور بنیادی طور پر حدیثی روایت سے اخذ کیا گیا ہے، قرآن سے نہیں۔
یہاں بعض لوگ فوراً چند آیات پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورۂ قصص کی آیت:
“اور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں کمزور بنا دیے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں وارث بنا دیں۔”
بعض مفسرین اس آیت کو مستقبل میں حق کے غلبے کی بشارت سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر آیت کے سیاق کو دیکھا جائے تو یہ بنی اسرائیل اور فرعون کے واقعے کے بارے میں ہے۔ یہاں کسی مہدی نامی شخصیت کا ذکر نہیں۔
اسی طرح سورۂ نور میں اللہ فرماتا ہے:
“اللہ نے تم میں سے ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں خلافت عطا کرے گا۔”
بعض لوگ اس آیت کو بھی مہدی کے ظہور سے جوڑتے ہیں۔ لیکن آیت کا متن کسی ایک مخصوص فرد کے بارے میں نہیں بلکہ مومن جماعت کے بارے میں ہے۔ اس میں کسی آخری زمانے کے نجات دہندہ کا نام یا تفصیل موجود نہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن حق کے غلبے کی بات ضرور کرتا ہے، لیکن وہ اس غلبے کو کسی ایک پراسرار شخصیت کے ساتھ وابستہ نہیں کرتا۔ قرآن کا زور ایمان، عمل صالح، صبر، جہد اور اخلاقی اصلاح پر ہے۔
قرآن کی پوری دعوت کا مطالعہ کریں تو ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔ قرآن انسانوں کو مستقبل میں آنے والی شخصیات کے انتظار کی تعلیم نہیں دیتا۔ وہ بار بار کہتا ہے کہ تم اپنی اصلاح کرو، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو، عدل قائم کرو، ظلم سے بچو اور اپنی ذمہ داری ادا کرو۔
اگر قرآن کا بنیادی پیغام یہی ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی شعور میں مہدی کا تصور اتنا مرکزی کیسے بن گیا؟
اس سوال کا جواب اسلامی تاریخ میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سیاسی اختلافات پیدا ہوئے۔ خلافت کے مسئلے پر نزاعات ہوئے، جنگیں ہوئیں، سلطنتیں قائم ہوئیں، خاندانوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش پیدا ہوئی۔ ان حالات میں بہت سے مسلمانوں کے دل میں یہ امید پیدا ہوئی کہ ایک دن کوئی مثالی رہنما آئے گا جو تمام اختلافات ختم کر دے گا اور عدل قائم کرے گا۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو مختلف ادوار میں درجنوں افراد نے خود کو مہدی قرار دیا۔ بعض کو لوگوں نے مہدی سمجھا، بعض نے خود دعویٰ کیا، بعض تحریکوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اس تصور کو استعمال کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہدی کا عقیدہ صرف مذہبی نہیں بلکہ تاریخی اور سیاسی عوامل سے بھی متاثر رہا ہے۔
اب اگر ہم دوبارہ قرآن کی طرف لوٹیں تو ہمیں ایک مختلف تصویر نظر آتی ہے۔
قرآن میں نجات کسی آنے والی شخصیت سے وابستہ نہیں بلکہ اللہ کے ساتھ انسان کے تعلق سے وابستہ ہے۔ قرآن کہتا ہے:
“انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔”
یہ آیت ایک بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔ قرآن کے مطابق انسان کی کامیابی کسی مستقبل کے رہنما کے ظہور پر منحصر نہیں بلکہ اس کے اپنے ایمان اور عمل پر منحصر ہے۔
اسی طرح قرآن بار بار کہتا ہے:
“کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔”
یہ اصول بھی قابل غور ہے۔ اگر ہر انسان اپنی ذمہ داری کا خود جواب دہ ہے تو قرآن کی توجہ کسی نجات دہندہ کے انتظار پر نہیں بلکہ فرد کی اصلاح پر ہونی چاہیے، اور حقیقت میں قرآن کا عمومی مزاج یہی ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔
قرآن میں جب بھی انبیاء کا ذکر آتا ہے تو ان کی اصل دعوت یہ ہوتی ہے کہ لوگ خود اللہ کی طرف رجوع کریں۔ نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد علیہم السلام سب کی دعوت کا مرکز اللہ کی بندگی اور اخلاقی اصلاح ہے۔
قرآن میں کہیں ایسا نہیں ملتا کہ نبی لوگوں کو یہ تعلیم دے رہے ہوں کہ مستقبل میں ایک خاص شخصیت آئے گی اور تمہاری تمام مشکلات حل کر دے گی۔
بلکہ قرآن کا پیغام یہ ہے کہ ہر دور کے لوگ خود اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔
اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر قرآن میں مہدی کا واضح ذکر نہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مہدی کا وجود ناممکن ہے؟
قرآنی نقطۂ نظر سے اس سوال کا جواب محتاط ہونا چاہیے۔ قرآن کسی مہدی کے آنے کی واضح خبر نہیں دیتا، لیکن نہ ہی اس کی صریح نفی کرتا ہے۔ اس لیے علمی دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ کہا جائے: قرآن اس عقیدے کو اپنے بنیادی اور واضح عقائد میں شامل نہیں کرتا۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
ایک بات کا قرآن میں نہ ہونا اور ایک بات کی قرآن کی طرف سے نفی ہونا، دونوں الگ چیزیں ہیں۔
اسی لیے زیادہ درست بات یہ ہوگی کہ مہدی کا عقیدہ قرآن سے براہِ راست ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کی بنیاد بنیادی طور پر حدیثی اور روایتی ذخیرے پر ہے۔
اگر ایک شخص صرف قرآن کی بنیاد پر دین کو سمجھنا چاہے تو وہ توحید، رسالت، آخرت، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، عدل، تقویٰ اور اخلاقی ذمہ داری جیسے عقائد تک تو یقیناً پہنچ جائے گا، لیکن مہدی کے تفصیلی تصور تک نہیں پہنچ سکے گا۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کا زور ہمیشہ موجودہ ذمہ داری پر ہے، مستقبل کے انتظار پر نہیں۔
قرآن گویا انسان سے کہتا ہے کہ تم اپنے کردار کو درست کرو، اپنی نیت کو پاک کرو، انصاف قائم کرو اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا شعور پیدا کرو۔ اگر تم نے یہ سب کر لیا تو تمہاری نجات کسی آنے والی شخصیت پر منحصر نہیں ہوگی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک اور معروف عقیدہ سامنے آتا ہے۔ مہدی کے ساتھ جس شخصیت کا ذکر تقریباً ہمیشہ کیا جاتا ہے، وہ دجال ہے۔ روایتی اسلامی فکر میں دجال کو تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں بے شمار تفصیلات بیان کی جاتی ہیں، اس کی جسمانی علامات بیان کی جاتی ہیں، اس کے خروج کے مقامات اور اس کے کارناموں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
لیکن سوال وہی ہے جو ہم اب تک ہر قسط میں پوچھتے آئے ہیں۔
اگر صرف قرآن ہمارے پاس ہو تو کیا ہم دجال کے عقیدے تک پہنچ سکتے ہیں؟
کیا قرآن دجال کا ذکر کرتا ہے؟
یا یہ تصور بھی بنیادی طور پر روایتی روایت کا حصہ ہے؟
اگلی قسط میں ہم دجال کے عقیدے کا قرآن کی روشنی میں تفصیلی جائزہ لیں گے۔
مزمل حسین چیمہ