زخم کے ہونٹ پر لعاب اس کا
خوش بہت ہے مجھے خوش آب اس کا
اس نے اُپلوں پر دیگچی رکھی
اور پکنے لگا شباب اس کا
معتبر ہو گیا ہے پھولوں میں
تذکرہ چھیڑ کر گلاب اس کا
مل گئی لاش بے بدن اس کی
ہو گیا خوف بازیاب اس کا
دائرہ دائرے کو چھوتا ہوا
اور قوسین پر حجاب اس کا
چیرتا ہے سکوت کا سینہ
گاہے گاہے گلہ خراب اس کا
پدرے پہلے وہ معبدوں میں جلی
پھر دھواں بڑھ گیا جناب اس کا
عقیل عباس








Leave a Reply