کسی کے ہجر کا صحرا بجھا نہیں سکتا
سمندر آنکھ میں رکھ کر بھی جا نہیں سکتا
میں اپنے زخم کو سینے میں پال لیتا ہوں
کوئی بھی شخص مجھے آزما نہیں سکتا
وہ ایک شخص مرے دل میں اس طرح اترا
کہ اب کوئی بھی اسے یوں ہٹا نہیں سکتا
یہ دل عجیب قبیلہ ہے اپنی مٹی کا
کسی بھی شہر میں پورا سما نہیں سکتا
جو میرے اشک کی قیمت لگا رہا ہے ابھی
وہ میری پیاس کا مفہوم پا نہیں سکتا
ترے بغیر بھی جینے کا فن تو آ جائے
مگر یہ دل کبھی خود کو منا نہیں سکتا
ہر ایک شخص یہاں آئینہ لیے ہوئے ہے
مگر کوئی بھی حقیقت دکھا نہیں سکتا
یہ عمر ریت کی مانند ہاتھ سے پھسلی
کوئی بھی لمحہ پلٹ کر آ نہیں سکتا
میں اپنے آپ سے برسوں سے ہم کلام بھی ہوں
مگر میں خود کو مکمل سنا نہیں سکتا
ترے فراق نے بخشی ہے ایسی گہرائی
میں سطح پر کبھی بھی واپس آ نہیں سکتا
ہر ایک زخم نے سکھلائی ہے نئی حکمت
یہ تجربہ کوئی مکتب سکھا نہیں سکتا
غزل میں سورتِ یونس کا ورد کرتا ہوں
نگل تو سکتا ہے یہ عشق، کھا نہیں سکتا
مزمل حسین چیمہ








Leave a Reply