تجارت کا سوال
افسانہ: امرتا پریتم
بندو کی ماں اپنے پیار کی شدت کو ظاہر کرنے کے لئے ہمیشہ اسے ”بندی“ کے نام سے پکارا کرتی تھی۔ بندو کے اس کے تراشے ہوئے بال ایک جھالر کی شکل میں ہلتے رہتے تھے۔ اور اس کی موٹی موٹی آنکھوں پر پلکوں کے لمبے لمبے بال چھوٹی چھوٹی جھالریں بن جایا کرتے تھے۔ ان سیاہ چھالروں میں اس کا گورا چٹا رنگ اور بھی کھل اٹھتا تھا اور ہونٹوں کا سرخ رنگ اور گہرا سرخ دکھائی دینے لگتا تھا۔
بندو کی ہم جماعت لڑکیاں ابھی جمع تفریق کے سوالوں تک ہی پہنچی تھیں کہ وہ ضرب کے سوال حل کرنے لگی۔ اگلی جماعت میں پہنچ کر جب وہ ضرب کے سوال حل کرنے لگیں تو بندو تقسیم کے سوالوں کی مشکل منزلوں میں سے گزر رہی تھی۔ اور پھر جب ان کے ناپختہ ذہن تقسیم کے سوالوں کے ساتھ زور آزمائی کرنے لگے تو بندو بٹوں کے سوالوں میں مہارت حاصل کر چکی تھی۔ اپنی محنت اور قابلیت کی وجہ سے وہ ہر جماعت میں استانیوں کی منظور نظر بنی رہی تھی اور محبت کے جذبے کے تحت استانیاں بھی اسے ”بندو“ کی بجائے ”بندی“ کے نام سے پکارنے لگی تھیں۔
سریندر بندو کے مکان کے بالکل سامنے والے مکان میں رہا کرتا تھا۔ عمر میں وہ بندو سے تین چار سال بڑا تھا۔ دونوں گھروں میں کوئی خاص راہ و ربط نہ تھا۔ معمولی پڑوسیوں کے سے تعلقات تھے۔ ایک دن سریندر کی والدہ اس کی ماں کے ساتھ باتیں کرتے کرتے ایک دم بندو سے کہنے لگی۔
”بیٹی تم ہمارے ہاں کبھی نہیں آئیں کبھی کوئی سوال وغیرہ سمجھنا ہو تو ہمارے ’سندی‘ سے پوچھ لیا کرو۔ ہمارا سندی حساب میں بہت ہوشیار ہے۔“
سریندر کی والدہ کی یہ بات بندو کے دل میں گھر کر گئی۔ وہ اپنے مکان کی کھڑکی میں سے بجلی کی روشنی میں بیٹھے ہوئے سریندر کو دیکھتی رہتی۔ بار بار اس کے ذہن میں یہ خیال ابھرتا۔
”کاش بٹوں کا یہ سوال غلط ہو جائے تاکہ میں اپنی کاپی لے کر سریندر سے اس کا صحیح حل سمجھنے جا سکوں۔“
بندو اپنے سوال انتہائی لا پرواہی سے حل کرتی۔ اس غفلت کے باوجود جب وہ اپنا جواب حساب کی کتاب کے جواب کے ساتھ ملاتی تو ہر مرتبہ اس کا جواب صحیح نکلتا جھنجھلاہٹ میں وہ کاپی اور پنسل میز پر پٹک دیتی۔
وقت گزرتا گیا۔ نہ ہی کبھی بندو کے سوالوں کے جواب غلط ہوئے اور نہ ہی وہ اپنی کاپی سریندر کے سامنے رکھ سکی۔ ایک روز اس نے سنا کہ سریندر کی ٹانگ میں چوٹ آئی ہے سریندر کی ٹانگ سے لگا تار خون بہے جا رہا تھا۔ صبح سے دو ڈاکٹر سریندر کی ٹانگ کا معائنہ کر چکے تھے ۔بندو کی والدہ بھی سریندر کے گھر مزاج پرسی کے لئے ہو آئی تھی۔ بندو چاہتی تھی کہ وہ بھی جا کر ایک نظر سریندر کو دیکھ آئے لیکن اس کی والدہ نے اس سے ساتھ چلنے کے لئے پوچھا تک نہیں۔ اگلے روز اسے پتہ چلا کہ سریندر کی ٹانگ میں شیشے کا ٹکڑا چبھ گیا ہے۔ اسے نکلوانے کے لئے سریندر کو ہسپتال میں داخل کرانا ہوگا۔
”چاند ایسا خوبصورت لڑکا ہے۔ ایشور نہ کرے اس کے جسم میں کوئی کجی آئے۔“ ایک ہفتہ تک بندو کے گھر اور پڑوس میں ایسی باتیں ہوتی رہیں۔ اور پھر سریندر ہسپتال سے واپس گھر آگیا۔ بندو اپنے مکان کی کھڑکی میں سے پھر اسے دیکھنے لگی کبھی سریندر کی ماں اسے دوائی پلاتی ہوئی نظر آتی کبھی دودھ۔ اور کبھی آہستہ آہستہ سریندر کی ٹانگ کی مالش کرتی دکھائی دیتی سریندر سارا دن ساری رات کمبل اوڑھے چارپائی پر لیٹا رہا۔
کچھ عرصہ بعد سریندر کی پٹی کھول دی گئی۔ اب وہ بستر سے اٹھ کر کمرے میں ادھر ادھر تھوڑا بہت گھومنے بھی لگ گیا تھا۔ بندو نے کھڑکی میں سے دیکھا کہ سریندر کی بائیں ٹانگ قدرے لنگڑاتی ہے۔ اس حالت میں اس کے لئے سکول جانا ممکن نہ تھا۔ ماسٹر گھر پر آکر اسے پڑھانے لگا۔ لگا تار کئی کئی گھنٹے وہ اپنے بستر میں لیٹا ہوا پڑھتا رہتا تھا بندو نے سنا کہ سریندر کی ٹانگ کی کجی فی الحال کئی سال تک دور نہ ہوگی۔ جوں جوں جسم میں طاقت بھرتی جائے گی، اس کی ٹانگ ٹھیک ہوتی جائے گی۔
بندو سکول میں اب تجارت کے سوال کر رہی تھی پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا اسے، انتہائی کوشش اور پوری توجہ کے باوجود اس کے ہر سوال کا جواب غلط ہو جاتا تھا وہ دوسری بار کوشش کرتی مگر پھر بھی صحیح جواب نہ آتا۔ آخر ایک دن اس نے اپنی ماں سے پوچھ ہی لیا ”ماتا جی اگر آپ کہیں تو میں سریندر سے سوال سمجھ آیا کروں۔“
سریندر کا سکول جانا کھیلنا کودنا، غرضیکہ ہر قسم کی مصروفیات بند تھیں بستر میں لیٹ کر متواتر کئی کئی گھنٹے پڑھتے رہنا اس کا واحد شغل رہ گیا تھا۔ بندو کا اس کے پاس سوال سمجھنے کے لئے آنا سریندر کی محدود زندگی میں ایک نئی وسعت پیدا کرنے کے مترادف تھا۔
بندو اس وقت کا انتظار نہایت بے تابی سے کرتی جب وہ سریندر کے پاس پڑھنے جاتی تھی، سریندر بھی سارا دن اس کی راہ تکتا رہتا تھا۔ عمروں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے انتظار میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔
بندو کی پیشانی سے اب بچپن کی یادگار تراشیدہ بالوں کی جھالر اتر چکی تھی۔ اس کے بال اب کافی لمبے ہو گئے تھے۔ اس کالی جھالر کی جگہ اس کے ماتھے پر جوانی کے جذبات کی ریشمی جھالر لہرا اٹھی تھی جوانی نے اس کے حسن میں نیا رنگ بھرنا شروع کر دیا تھا۔ ماں اب بھی پیار سے اسے ”بندی“ کہہ کر پکارا کرتی تھی۔ سکول کی استانیاں بھی ابھی تک اس پیار بھرے نام ہی سے اسے بلاتیں لیکن پتہ نہیں سریندر کے ہونٹ اس سادہ سے لفظ میں کہاں سے اتنی مٹھاس بھر دیتے تھے۔ جب بندو اس کے منہ سے ”بندی“ کا لفظ سنتی تو اسے اپنی روح میں ایک شہد کا گھلتا محسوس ہوتا۔
پیار کے اس خوشگوار اور میٹھے ماحول میں ڈوبے ہوئے سریندر اور بندو نے سنا کہ بندو کی شادی ہونے والی ہے بندو کے ماں باپ نے اس کے لئے ایک نہایت لائق اور خوبصورت دولہا پسند کیا تھا۔ یہ خبر سنکر سریندر نے اپنی آنکھوں سے بہہ رہے آنسوؤں کی پروا نہ کرتے ہوئے بندو کے آنسو اپنے ہونٹوں سے چوم کر کہا۔ ”بندی جاؤ۔ آخر میرے پاس تمہیں خوش رکھنے کے لئے رکھا ہی کیا ہے۔ میں ایک اپاہج ہوں میری یہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ شاید کبھی بھی ٹھیک نہ ہوگی مجھ سے تو اپنا بوجھ بھی نہیں اٹھایا جا رہا۔ تمہارا بوجھ کیسے برداشت کر سکتا ہوں میرے جیسا اپاہج تمہیں کیا کھلائے گا میری خواہش یہ ہے کہ تم شادی کر لو۔ اور اپنی زندگی آرام اور چین سے گزارو۔“
ہچکیوں اور آنسوؤں کے ہجوم میں گھری ہوئی بندو کے گلے سے بمشکل تمام یہ الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے ”سندی ….
بندو کی بارات آگئی۔ مگر بندو اور سریندر دونوں غائب تھے۔ شادی کے گیت گا رہی ڈھولک ایک دم پھٹ گئی۔ حلوائیوں کی بھٹیوں پر یاس کا پانی پھر گیا اور بندو کی ماں کا آنچل اس کے آنسوؤں کی آگ میں جل اٹھا۔
بندو ماں بننے والی تھی سریندر شہر میں ایک صابن بنانے والے کارخانے میں ملازم تھا۔ انہوں نے ایک تنگ و تاریک مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔ مگر بندو کے حسن کی تابانی اور فراخ دلی نے اس مکان کو لا محدود وسعت اور بے پناہ اجالا بخش دیا تھا۔
کبھی کبھی بندو سریندر سے محبت بھرا اصرار کرتی ہوئی کہتی۔ ”میرے ساتھ چار پھیرے تو لے لو میرے ماتھے پر اپنے ہاتھوں سے سہاگ کی بندی تو لگا دو نہیں تو یہ لوگ مجھے رکھیلی کہیں گے، کوئی بھی مجھے تمہاری بیوی ماننے کے لئے تیار نہ ہوگا …. اور اب …. اب ۔۔۔تو ….“
سریندر اس آدھی بات کا مطلب خوب سمجھتا تھا، جو بندو کے جسم میں روز بروز بھرتا جا رہا تھا۔ ساری بات کو سمجھتے ہوئے بھی نہ جانے کیوں وہ بندو کے سوال کو ہر بار ٹال جاتا تھا۔ اپنے دل کی ڈھارس بندھانے کے لئے بندو خود ہی کہتی۔
”اچھا سندی …. اپنی پیشانی بھی میں خود ہی ہوں اور اپنی بندی بھی …. جیسے تم خوش ہو سکتے ہو اسی میں میری خوشی ہے۔“
پھر ایک خوشگوار تبدیلی رونما ہوئی۔ سریندر نے ایک کھلا ہوا ہوا دار مکان کرایہ پر لے لیا ہر روز کوئی نہ کوئی گھریلو ضرورت کی چیز گھر آنے لگی۔ بازار میں چیزوں کی قیمتیں ناقابل برداشت حد تک چڑھی ہوئی تھیں۔ اور ہر روز چڑھ رہی تھیں پھر بھی وہ ہر روز کوئی نہ کوئی نئی چیز خرید لاتا تھا بندو حیران تھی جب بھی اس نے سریندر سے اس معاملے میں بات کی تو وہ ہمیشہ ہنس کر کہا کرتا تھا۔
”میرے کام اور ایمانداری سے خوش ہو کر سیٹھ نے میری تنخواہ بڑھا دی ہے تنخواہ کے علاوہ کارخانے میں میرا حصہ بھی ہے۔ اب سب لوگ مجھے ’چھوٹے شاہ جی‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔“
بندو یہ جواب سن کر خوش ہو جاتی اور سوچتی ”کیا واقعی ہماری قسمت پلٹ چکی ہے۔“
مگر بندو کو یہ حیرانی تھی کہ جب اس نے اپنا دل کھول کر سریندر سے محبت کی ہے تو پھر اس کے دل میں گھبراہٹ سی کیوں پیدا ہو رہی تھی۔ سریندر پہلے بڑی نرم نرم باتیں کیا کرتا تھا۔ اب ان باتوں میں ایک تناؤ سا کیوں محسوس ہو رہا تھا۔
بندو کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ اس کی شکل ہو بہو سریندر سے ملتی تھی۔ بچے کو دیکھ دیکھ کر بندو سوچا کرتی ”اپنی شکل کی سب دلفریبی، سب خوبصورتی اپنے بیٹے کو سونپ کر اب خود مجھ سے پرے ہٹتے جا رہے ہو“ دل کے دامن کو وہ جس قدر مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھامنے کی کوشش کرتی، اتنی ہی تیزی سے وہ اس سے چھوٹتا جا رہا تھا۔
بچے کا نام رکھنے کی رسم سریندر نے خوب دھوم دھام سے منائی ایک نہایت ہی پر تکلف اور وسیع پیمانے کی دعوت دی گئی۔ جس میں اس کے کارخانے کے سب ساتھی اور دیگر بہت سے احباب نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر لکھنؤ کی ایک مشہور گانے والی طوائف بھی بلائی گئی بندو نے کہیں سے یہ سن رکھا تھا کہ سریندر ان دنوں شہر کی ایک گانے والی کے کوٹھے پر اکثر آتا جاتا ہے۔ بندو کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ ہو نہ ہو یہ گانے والی لکھنؤ کی نہیں بلکہ وہی طوائف ہے۔ اور یہ دعوت کا سارا اڈمبر صرف اسے گھر پر بلانے کے لئے رچا گیا ہے بندو نے اپنے اس شبہ کو ظاہر نہ کیا۔
تین گھنٹے مردانہ میں مہمانوں اور صاحب خانہ کی طبیعت خوش کرنے کے بعد جب گانے والی جانے لگی تو گھر کی مالکہ کو، سریندر کے بیٹے کی ماں کو سلام کرنے کے لئے بندو کے پاس آئی بندو نے بٹوے میں سے پچاس روپے نکال کر اسے بطور انعام دینا چاہے۔ وہ روپے لوٹاتی ہوئی کہنے لگی۔
”آپ کیوں خواہ مخواہ تکلیف فرما رہی ہیں۔ اس گھر کا دیا تو میں روز ہی کھاتی ہوں۔ شاہ جی ہر روز کچھ نہ کچھ دے ہی آتے ہیں۔“
گانے والی کے یہ الفاظ بندو کے احساسِ خود داری پر پتھر کی طرح پڑے، اور وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی ”تو جو افواہیں میں نے سنی تھیں وہ سچ نکلیں … یہ دعوت میرے بچے کی خوشی میں نہیں … یہ صرف اس …..“ مگر بندو اپنے دل کی ٹیس کو دبا کر اور اپنا سر بلند کر کے کہنے لگی۔
”رکھ بھی لو بتو، شاہ جی تو تمہیں ہر روز روپے دیتے رہتے ہیں، مگر میرے ہاتھوں سے کب کب ملیں گے۔“ اور پھر اس نے نوٹ ردی کاغذوں کی طرح مسل کر گانے والی کے دامن میں پھینک دیئے۔
مہمان رخصت ہو گئے سریندر اندر آیا بندو کے ضبط کا باندھ ٹوٹ گیا۔ اس کی گود میں سر رکھ کر اس نے روتے ہوئے پوچھا ”سندی میرے سندی۔ تم میرے ساتھ یہ کیا کر رہے ہو؟“
”آخر تمہیں کس بات کی کمی ہے تمام گھر تمہارا ہے تم ایک بیٹے کی ماں ہو۔ دنیا کے تمام سکھ میں تمہارے قدموں میں لا کر ڈال دیتا ہوں۔ تمہیں اور کیا چاہیے؟“
سریندر نے خالص تاجرانہ لہجے میں اس کے آنسوؤں کا جواب دیا۔ بندو کے آنسوؤں کی رفتار اور تیز ہوگئی۔
”تمہیں کھو کر ان دنیاوی سکھوں کا میں کیا کروں گی۔ سندی تم جانتے ہو کہ تجارت کا سوال میں کبھی ٹھیک حل نہیں کر سکی۔ یہ مجھے نہیں آتا …. نہیں آتا۔“
چند ماہ بعد کارخانے کے ایک آدمی نے بندو کو آکر بتایا کہ سیٹھ نے سریندر کو غبن کے الزام میں گرفتار کرا دیا ہے۔ پچھلے کافی عرصہ سے سیاہ بختی کے جو کالے سائے بندو کے گورے چہرے پر اپنی پرچھائیاں ڈال رہے تھے۔ آج وہ اسے چیل کی طرح جھپٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔ وہ ان پرچھائیوں سے ڈر رہی تھی لیکن اس اچانک حملے نے اس کی فطری کمزوری کو غصے میں تبدیل کر دیا۔ وہ سیاہ بختی کے ان کالے پروں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے مروڑ کر ان کی قوتِ پرواز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنا چاہتی تھی۔ اسی جوش کی حالت میں وہ کارخانے کے مالک سیٹھ کے پاس جا پہنچی۔ اور اس سے سریندر سے ملنے کی درخواست کی سیٹھ نے پولیس سے کہہ کر سریندر سے اس کی ملاقات کا انتظام کرا دیا۔
بندو جانتی تھی سریندر گناہ گار ہے۔ اس نے غبن کیا ہے۔ مگر پھر بھی نہ جانے کیوں وہ ایک بار اس کے منہ سے اس کا اقبالِ جرم سننا چاہتی تھی۔ سریندر کی حالت پر کٹے پرندے کی طرح تھی۔ ندامت کے احساس نے اسے گردن جھکانے پر مجبور کیا ہوا تھا۔ اس نے اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کر لیا۔ اور پھر ایک جھٹکے کے ساتھ اپنی گردن اٹھا کر کہنے لگا۔
”بندی میرا خیال چھوڑ دو۔ میں اپنا انجام جانتا ہوں۔ جاؤ …. جس قدر روپیہ تم اپنے ساتھ لے جا سکتی ہو لے جاؤ …. دور یہاں سے بہت دور …. مجھے اپنی موت مرنے دو ….“
بندو کے دل میں جذبات کا طوفان اٹھ رہا تھا۔ وہ سریندر سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس نے کچھ نہ کہا حوالات سے اٹھ کر سیدھی وہ کارخانے میں آئی اور سیٹھ جی کے پاؤں پر سر رکھ کر روتے ہوئے کہنے لگی۔
”سیٹھ جی اپنا تمام روپیہ واپس لے لو میرے بھرے گھر میں تالا لگا دو میں ان ہی تین کپڑوں میں شہر سے نکل جاؤں گی مگر ایشور کے لئے میرے سریندر کو رہائی دلوا دو … کسی طرح اسے چھڑا دو … مجھ پر ترس کھاؤ سیٹھ جی ….“
سیٹھ کی مکروہ ہنسی نے بندو کے دماغ کو ماؤف کر دیا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے موٹے موٹے قطرے نمودار ہوئے اور اس کا سارا جسم لرزنے لگا۔ کمرہ گھوم گیا …. اور … اور پھر اسے کچھ پتہ نہ رہا کہ وہ کہاں ہے ….
جب اسے ہوش آیا تو اسے محسوس ہوا جیسے کمرہ میں شراب کی لہریں ابھر رہی ہوں، جن میں وہ ڈوبی جا رہی تھی۔ پاس ہی کھڑا ہوا سیٹھ اسے ایک بھیانک کالا دیو لگ رہا تھا۔ مگر اس کالے دیو نے اس کے سریندر کو اپنی قید سے رہا کرنے کا وعدہ کر لیا تھا۔ بندی اس وعدے پر اپنی تمام زندگی نچھاور کرنے کو آمادہ تھی۔ اس نے شراب کی بڑھتی ہوئی لہروں اور سیٹھ کے بڑھتے ہوئے بازوؤں میں اپنے آپ کو غرق ہو جانے دیا۔
رات اپنی گردن جھکائے، اپنے چہرے پر سیاہ ماتمی نقاب اوڑھے چلی گئی۔ دن کی سفید روشنی میں بندو نے دیکھا کہ سریندر حوالات سے چھوٹ کر اس کے پاس آگیا ہے۔ اور اس کے بخار کی گرمی میں جلتے ہوئے ماتھے پر برف کی پٹیاں رکھ رہا ہے۔
سیٹھ نے سریندر کے خلاف غبن کا مقدمہ واپس لے لیا بندو کے جسم کے علاوہ ان کے گھر کا کل سامان اور سریندر کی نوکری بھی سیٹھ نے اپنے ہرجانے کے طور پر ان سے وصول کرلی سریندر اور بندو وہ شہر چھوڑ کر دوسرے شہر میں جا بسے مگر بندو کے مقدر کی تاریکی وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کی بجائے اور گہری ہوتی گئی سریندر اس کے نام ایک خط لکھ کر خود نہ جانے کہاں چلا گیا۔ خط میں لکھا تھا۔
”تم اگر اپنے لئے نہیں تو کم از کم اس معصوم اور خوبصورت بچے کی جان بچانے کے لئے ہی واپس اپنے ماں باپ کا دروازہ کھٹکھٹاؤ میں کسی اور شہر میں قسمت آزمانے جا رہا ہوں۔ اگر زندہ رہا تو ضرور واپس آؤں گا۔ اب …. کچھ نہیں کہہ سکتا۔“
یہ خط پڑھ کر بندو نے اپنے دل کے آئینے میں جھانکا۔ وہ حیران تھی کہ سریندر کی شخصیت کا وہ کون سا دھاگا تھا جسے تھامتے ہوئے اس نے ماں باپ سے، ساری دنیا سے اپنا رشتہ منقطع کر لیا تھا۔ اب اس موہوم سے دھاگے کے ٹوٹ جانے پر وہ کس منہ سے واپس ان کے پاس جا سکتی ہے۔ لیکن پھر اسے اپنے بچے کی بھولی بھالی شکل میں اس کا ایک نیا دولھا نظر آیا۔ اپنی محبت کے ٹوٹے ہوئے دھاگے کی اس نے اس نئے دھاگے کے ساتھ گرہ لگائی۔ اور اس گرہ شدہ دھاگے میں بندھی ہوئی وہ ماں باپ کے دروازے تک پہنچ گئی۔
ماں کے جسم میں سلگ رہی انتڑیوں سے ابھی تک دھواں اٹھ رہا تھا۔ وہ بندو کو اپنی روح کی تمام تر جلن اور کوفت کے ساتھ کوس بھی نہ پائی تھی کہ بندو کی زندگی میں اماوس کی رات سے بھی زیادہ سیاہ دن آگیا۔ اس کا بچہ بیمار ہوگیا۔ بندو کے غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے سینے کا دودھ بچے کے نازک جسم میں داخل ہوتا رہا تھا۔ ایسے زہریلے دودھ کو پی کر بچے کا تندرست رہنا ناممکن تھا۔ اور آخر اس کلی نے پھول بننے سے بہت عرصہ پہلے ہی ہسپتال میں سسک سسک کر اپنی جان دے دی۔
بچے کی موت کے بعد، اس بچے کی موت کے بعد جس کی شکل میں سریندر اپنے بچپن کی تمام معصومیت اور خوبصورتی کے ساتھ موجود تھا بندو کے لئے زندگی میں کوئی دلچسپی باقی نہ رہی مگر موت بھی تو اتنی ہی بے مقصد تھی جتنی زندگی اس تیرہ و تار دوراہے پر کھڑی بندو نے زندگی کا ایک تیسرا راستہ دیکھا ہسپتال میں اس کے بچے جیسے دوسرے بچے بھی تھے جو اپنے نازک نازک اعضا کے ساتھ موت کے خلاف جدوجہد میں مصروف تھے۔ بندو کو ان میں اپنے بچے کی شکل نظر آنے لگی۔ وہ دیوانیوں کی طرح ان کے چہروں کو تکتی رہی۔ اور پھر چند روز بعد بندو اپنے سیاہ مقدر کو نرس کے سفید لباس کے ذریعے چمکانے کی کوشش کرتی ہوئی دکھائی دی۔
سریندر کے ساتھ بھاگتے ہوئے بندو نے اپنے ماں باپ کا گھر رات کے اندھیرے میں، چھپ کر، چوری چوری چھوڑا تھا۔ مگر نرس کا سفید لباس زیب تن کرنے کے لئے اندھیرے میں چوری سے بھاگنے کی ضرورت نہ تھی۔ ہسپتال کی میٹرن نے اسے اپنے گھر میں جگہ دے دی۔ اور اس نے اپنے دن، اپنی نیندیں، اپنی راتیں، اپنے خواب سب کچھ مریضوں کو سونپ دیا۔
سال گزرتے گئے بندو کے لیے زندگی کا مقصد ایک مرتبہ ختم ہو چکا تھا لیکن جب وہ دوسروں کے لئے جینے کے راز سے واقف ہوئی تو اس کی زندگی دوبارہ معنی آفرین بن گئی بندو کے خلوص، محبت سے بھرے ہوئے رویے نے اسے مریضوں میں نہایت ہر دلعزیز بنا دیا۔ اسے دیکھنے سے ان کے چہروں پر آس اور صحت کی منور کرنیں رقص کرنے لگتیں۔
ہاں …. جس روز بندو کے بھائی نے اسے اخبار سے پڑھ کر یہ خبر سنائی کہ کان پور میں پولیس نے ایک مکان سے جعلی سکے بنانے والا گروہ گرفتار کیا ہے۔ ان کا سرغنہ سریندر بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس دن مریضوں نے دیکھا کہ تھرمامیٹر لگاتے وقت بندو کے ہاتھ بیدِ مجنوں کی طرح کانپ رہے تھے۔
میٹرن جس کی وساطت سے بندو نے زندگی کی کھوئی ہوئی خوبصورتی دوبارہ حاصل کی تھی۔ ایک بردبار، نیک سیرت با محبت مسیحی خاتون تھی بندو کے کانپتے ہاتھوں کو اس نے گورے گورے نرم و نازک ہاتھوں میں لے کر خداوندِ کریم سے دعا مانگی کہ وہ اپنے بیٹے کی محبت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس دکھیاری کے دل کو سکونِ کامل عطا فرمائے میٹرن کے خلوص اور ایمان پرستی نے بندو کے رحجان کو بھی خدا کی عبادت کی طرف راغب کیا۔ بندو جب ایک مریض کی چارپائی سے چل کر دوسرے کی چارپائی کی طرف جاتی تو پہلے مریض کو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ نہ صرف بیماری اور دکھ کے کانٹے چن کر لے گئی ہے، بلکہ صحت اور مسرت کے خوبصورت پھول بھی بانٹ گئی ہے۔
ایک رات بندو ڈیوٹی ختم کر کے جب گھر لوٹی تو اس نے دیکھا کہ ایک آدمی اس کے دروازے کا سہارا لئے بیٹھ ہے۔ ٹارچ جلا کر دیکھنے کے باوجود وہ اسے پہچاننے سے قاصر رہی۔ اس ہڈیوں کے ڈھانچے پر کھال کی باریک سی تہہ کے علاوہ گوشت کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس نے ایک پھٹا پرانا میلا سا کمبل اوڑھ رکھا تھا۔
ٹارچ کی تیز روشنی نے اس کی بند آنکھوں کو کھلنے پر مجبور کردیا۔ اور ”بندی“ کہہ کر اس کے تھرکتے ہوئے ہونٹ پھر بند ہو گئے۔
”بندی“، اس مختصر سے لفظ نے بندی کی روح کو جھنجھوڑ ڈالا۔ یہ لفظ جیسے اس کے کانوں میں جم کر رہ گیا ہو۔ اس لفظ میں خدا جانے روحوں کی کون سی مشترک خاصیتیں ڈھلی ہوئی تھیں۔ بندو کو یوں محسوس ہوا کہ یہ اشتراک اس کے روئیں روئیں میں جم گیا ہے۔ وہ جہاں کھڑی تھی، وہیں کھڑی رہ گئی۔
”بندی …. بندی …. بندی“ حالانکہ سریندر کی آنکھیں اور ہونٹ بند تھے لیکن پھر بھی اس کا کہا ہوا ایک لفظ بار بار بندو کے ذہن سے ٹکرا رہا تھا۔ جس نے بندو کے اعضا میں یہ سویا ہوا اشتراک جگا دیا تھا۔
واسطے وہ آواز اس کے کانوں میں پگھلتے ہوئے سیسے کی طرح ڈھلنے لگی پھر کسی غیبی قوت نے اس کے مفلوج اعضا میں حرکت پیدا کی۔ اس نے سریندر کو سہارا دیکر اٹھایا۔ کمزوری کی وجہ سے سریندر کی ٹانگ کا نقص پھر ابھر آیا تھا سہارے کے بغیر اس کے لئے ایک قدم بھی چلنا دوبھر تھا بندو نے اس کا سوکھا ہوا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھ لیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی کمر کو سہارا دیکر آہستہ آہستہ اسے کمرے میں لے آئی۔ چارپائی پر لیٹتے ہی سریندر نے بندو کا ہاتھ اپنی روتی ہوئی آنکھوں پر رکھ لیا۔
”لوگ کہتے ہیں اب تمہاری روح کو سکون مل گیا ہے۔ میں پھر تمہیں دکھی کرنے کے لئے آگیا ہوں لیکن تم ہی بتاؤ، میں اور کہاں جاؤں۔ اب اور کسی دروازے پر تو مجھے موت بھی نہ آئے گی بندی۔“
بندی کو یوں محسوس ہوا جیسے ان کی دونوں کی عمروں میں ایک دم کمی واقع ہوگئی ہو۔ اس کے سامنے سریندر چارپائی پر لیٹا ہوا پندرہ برس کا لڑکا بن گیا۔ جس کی ٹانگ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اور خود وہ بارہ برس کی ”بندی“ جو سریندر سے کہہ رہی ہو:
”مجھے تجارت کا سوال نہیں آتا۔“
اور پھر جب ننھے ہاتھوں سے کاپی سریندر کے سامنے رکھنے لگی تو سریندر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، جیسے وہ ہمیشہ پکڑا کرتا تھا۔
بندو نے گھبرا کر دیکھا۔ بڑے بڑے، ہڈیوں کے سے ہاتھوں نے اس کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔ اور سریندر کہہ رہا تھا:
”بندی تمہارے پاس آکر میں نے ٹھیک نہیں کیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی میں تمہارے پاس آگیا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم سے دور رہ کر میں مر بھی تو نہیں سکتا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ میرے آنے کی وجہ سے تمہارا سب سکون، سب شانتی جاتی رہے گی۔“
بندو نے سریندر کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ ”سندی تمہیں کھو کر بھلا مجھے سکون حاصل ہو سکتا ہے۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ یہ تجارت کا سوال مجھے نہیں آتا کبھی نہیں آئے گا۔“
چھوٹی عمر میں بندو کے ماتھے پر تراشیدہ زلفیں ایک جھالر سی بن کر لہراتی رہتی تھیں اور اس کالی جھالر میں اس کا گورا چٹا چہرہ اور بھی ابھر کر نظروں کو اپنی طرف کھینچ لیا کرتا تھا پھر جوانی نے جذبات کی ریشمی اور رنگین جھالر اس کے ماتھے پر لہرانی شروع کی تھی۔ اس نئی جھالر میں بندو پہلے سے کئی گنا خوبصورت نظر آنے لگی تھی۔
لیکن آج جب بندو نے افلاس، بیماری اور گناہوں کے بار تلے دبے ہوئے سریندر کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے، تو اس کی حسین و جمیل پیشانی پر شانتی کی، سکون کی سفید کرنیں ایک نئی جھالر بن کر لہرانے لگیں۔
اس نئی جھالر والی بندو پہلی دونوں جھالروں والی بندوؤں سے کہیں زیادہ حسین تھی۔ کہیں زیادہ خوبصورت تھی۔







Leave a Reply