لال مرچ
افسانہ : امرتا پریتم
ڈاکٹروں کے انجکشن کو چھوڑو یار ، جس گھر کے کتنے نے کاٹا ہے اس گھر کی لال مرچیں اپنے زخم پر لگا لو۔ ایک دوست نے کہا۔
جس گھر کے کتے نے کاٹا ہے ، اگر اُس گھر کی کوئی خوبصورت لڑکی تمہارے زخم پر پٹی باندھ دے ۔۔۔ لڑکیاں بھی تو لال مرچ ہوتی ہیں۔ دوسرے دوست نے کہا
کالج کے تمام دوست لڑکے ہنس پڑے۔
اور وہ جسے کتے نے کاٹا تھا ہنس کر کہنے لگا۔ نسخہ تو اچھا ہے، مگر یہ تمہارا آزمودہ ہے نا؟
گوپال نے عمر کی اٹھارہویں سیڑھی پر پاؤں رکھا ہوا تھا، اور گوپال کو محسوس ہوا کہ اس سیڑھی پر جوانی کے احساس کا ایک کتا دبک کر بیٹھا ہوا تھا، اور آج اس نے اچانک پاگلوں کی طرح اٹھ کر اس کی ٹانگ میں سے گوشت نوچ لیا تھا۔ اس روز سے گوپال کا دل اپنے زخم پر لگانے کے لئے ایک لال مرچ جیسی لڑکی تلاش کرنے میں لگ گیا تھا۔
لڑکیاں تو گوپال کے کالج میں بھی تھیں، پڑوس کے گھروں میں بھی، اس شہر کی گلیوں میں بھی، اور دوسرے تمام شہروں میں بھی۔ مگر جس لڑکی کو میں تلاش کر رہا ہوں وہ کون ہے؟ گوپال اکثر یہ سوچتا۔ اور پھر گوپال لڑکیوں کو ایسے دیکھتا جیسے تھالی میں دال کو چنا جاتا ہے۔ چھوٹے قد کی، موٹی، چپٹی ناک والی، لمبی، گول مٹول۔ اور جب ایسی لڑکیوں کو وہ دال میں کنکروں کی طرح چن لیتا تو اسے تمام پرانی تشبیہیں یاد آجاتیں، لچکتی ہوئی ٹہنی جیسی لڑکی، چندن جیسی لڑکی، دیودار کے پیڑ جیسی لڑکی، چاند کی پھانک جیسی لڑکی سوچتا، لڑکی کوئی بھی نہیں۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ مجھے تو صرف لال مرچ جیسی لڑکی چاہیئے۔
ویسے تو کالج کے تمام لڑکوں میں کتابوں اور کورس کے بجائے لڑکیوں کی باتیں لمبی ہوگئی تھیں۔ مگر گوپال کی ہر بات کو جیسے پر نور جہاں کی آواز آتی ہے — او منڈا سیالکوٹیاموٹے کالے تل کو انگلی سے ٹٹولنے لگتا اور پھر جیسے نور جہاں سے مخاطب ہو کر کہتا، کے لڑکے، سیالکوٹ کے لڑکے، کبھی اس کی جگہ لائل پور کے لڑکے تو کہا کر
نور جہاں نے تو گوپال کی بات کبھی نہیں سنی، مگر کالج کے لڑکوں نے ضرور گانا شروع کر دیا۔
بھنے ہوئے چنے بیچنے والا کہتا، گیااس کی لڑکی بھگا کر لے گیا ہے۔
عینکوں والی لڑکیاں گوپال کو لڑکیاں نہیں لگتی تھیں، کو دیکھنا ہو پہلے شیشے کی دیوار پار کرنی پڑتی ہےکہتا اور ان لڑکیوں کو لڑکیوں کی فہرست میں سے ہی نکال دیتا۔
کسی لڑکی نے اونچی ساڑھی باندھی ہوئی ہوتی، پاؤں میں موزے پہنے ہوئے ہوتے، ہاتھ میں چھتری پکڑی ہوتی تو گوپال ہنس کر منہ پھرا لیتا، طالب علم حساب میں کمزور ہو وہ ماسٹرنی سے شادی کرلے۔
کوئی لڑکی گہرے رنگوں کے کپڑے پہنے ہوتی یا بانہوں میں چوڑیاں ہی بہت زیادہ ہوتیں تو گوپال کہتا، اشتہار ہے۔ لڑکی تو دکھائی دیتی ہی نہیں، بس پوری کی پوری چوڑیوں کی دوکان ہے
کسی کی بارات جا رہی ہوتی تو اسے دیکھ کر گوپال اداس ہو جاتا۔ گوپال کہتا، تو سمجھو اب بیچارے کے پاس صبر کی پونجی بالکل ختم ہوگئی۔ اور اس نے گھبرا کر دیوالیہ ہونے کی درخواست دے دی ہے۔
شاید وہ اپنی محبوبہ سے ہی شادی کرنے جارہا ہو۔ گوپال کا کوئی دوست کہتا۔
“نہیں یار زلف کو سر کرنے میں عمر لگتی ہے۔ غالب کی ڈوم لڑکی اور لورکاکی خانہ بدوش لڑکی۔ ان کے دروازے پر کبھی بارات نہیں آتی۔
اور گوپال سالہا سال اس زلف کی باتیں کرتا رہا جس کے سر کرنے میں اُسے عمر گزارنی تھی۔
اور گوپال تشبیہوں میں کھو گیا۔ کالی رات جیسے بادل، مگر اسے کسی رات نے نیند نہیں دی، گھنے جنگل جیسے بال، مگر وہ کسی جنگل میں کھو نہ سکا، سمندر کی لہروں جیسے بال، مگر وہ کسی لہر میں غوطہ نہیں لگا سکا۔ اور گوپال کو عمر کے جو سال ایک زلف کو سر کرنے میں لگانے تھے، وہ زلف کو تلاش کرنے میں ہی کھوتے رہے اپنے سالوں کے کھو جانے سے گھبرا گیا۔
“تم بھی اب ہماری طرح دیوالیہ پن کی درخواست دے دو“ دوبارہ کالج کے پرانے دوستوں میں سے جب کوئی ملتا تو گوپال سے مذاق کرتا۔
عمر کے اٹھارہویں سال میں جوانی کے پاگل کتے نے گوپال کی ٹانگ کو کاٹا تھا اور زخم پر لگانے کے لئے گوپال ایک لال مرچ جیسی لڑکی تلاش کر رہا تھا، مگر اب عمر کے تیسویں سال میں اس زخم کا زہر اس کے تمام جسم میں پھیلنا شروع ہو گیا تھا۔
اب گوپال سوچنے لگا تھا۔ وہ نہ غالب ہے نہ لورکا۔ وہ صرف گوپال ہے یا ایک ایشور داس یا ایک شیر سنگھ یا ایک اللہ رکھا۔ اور اس نے سرنگوں ہو کر دیوالیہ ہونے کی درخواست دے دی۔
“کیوں یار۔ آج ڈوم لڑکی کے گھر بارات جائے گی یا خانہ بدوش کے گھر میں؟“
“سناؤ بھائی، کیسی ہے؟“
“اور کچھ نہیں تو ہم تمہاری لال مرچ کے دیور تو بن ہی جائینگے“
“بیشک سونے کی انگوٹھی کی بجائے ہیرے کی انگوٹھی ہی دینی پڑے، بھائی کا گھونگھٹ ضرور اٹھائیں گے۔“
گوپال اپنے دوستوں کے مذاق کو اپنے ہاتھ پر شادی کے لال ڈورے کی طرح باندھے جا رہا تھا اور ہنستا ہوا کہتا جاتا تھا، “ماسٹرنی ہے ماسٹرنی۔ عینک بھی لگاتی ہے تمہاری بھابھی۔“
ماں نے جب رشتہ طے کیا تھا تو گوپال سے کہا تھا کہ اگر وہ چاہے تو کسی بہانے وہ لڑکی کو دکھا دے گی۔ مگر گوپال نے خود ہی انکار کردیا تھا۔ “جب دیوالیہ ہی ہونے کی عرضی دینی ہے تو ….”
ڈولی دروازہ پر آگئی۔
“خوبصورت ہے بہو۔ گھر کا سنگار ہے۔“ اسے منہ دکھائی کے روپے دیتے وقت گوپال کی طائی کہہ رہی تھی۔
اور گوپال سوچ رہا تھا، جب لوگ دروازے کے سامنے کوئی بھینس لا کر باندھتے ہیں تب بھی یہی بات کہتے ہیں، “بھینس تو گھر کا سنگار ہوتی ہے“۔ اور جب لوگ ڈولی لیکر آتے ہیں تب بھی یہی بات کہتے ہیں، “بہو تو گھر کا سنگار ہوتی ہے،“ اور پھر بھینس اور بہو میں جو فرق ہوا وہ کہاں گیا؟ اور پھر گوپال خود ہی ہنس دیتا، “یہ بھی وہی فرق ہے جو ایک عاشق اور ایک دولھا میں ہوتا ہے“۔
گوپال کی بیوی نہ اتنی خوبصورت تھی اور نہ ہی اتنی بدصورت، عام طور سے جیسی لڑکیاں ہوا کرتی ہیں۔ دیکھنے میں بس ٹھیک ہی لگتی تھی۔ اور گوپال کو نہ کوئی چاؤ تھا نہ کوئی شکایت۔ وہ قسم قسم کی پوشاک پہنتی مگر گوپال اسے کبھی “رنگوں کا اشتہار“ نہ کہتا تھا، اور وہ سہاگ کی چوڑیاں اور جہیز کے کڑے سب کچھ ایک ساتھ پہن لیتی، گوپال اسے کبھی “زیورات کی دوکان“ کا طعنہ نہ دیتا۔
آجکل گوپال کو جوانی کے شروع دنوں میں پڑھا ہوا ایک انگریزی ناول یاد آیا کرتا تھا، جس میں اپنے خوابوں کی لڑکی تلاش کرنے کے لئے شاعر عمر لگا دیتا ہے مگر اسے تلاش نہیں کر سکتا۔ اور پھر مرتے وقت اپنے بیٹے کو اپنے تمام تصور اور اپنی تمام لگن دیکر وصیت کر جاتا ہے کہ وہ اس قسم کی آنکھوں والی، اس قسم کے ناک نقشے والی، اور اس قسم کے بالوں والی لڑکی کو ضرور تلاش کرے، اور تمام عمر تلاش کرنے کے بعد اس کا بیٹا مرتے وقت یہی بات اپنے بیٹے کو وصیت کر جاتا ہے۔
“زلف کو سر کرنے میں غالب نے تو صرف ایک ہی عمر کا اندازہ لگایا تھا“ مگر گوپال سوچتا، “زندگی کی شکست، غالب کے اندازہ سے بہت بڑی ہے“۔ اور آج کل گوپال سوچ رہا تھا، اس کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا، اس کی شکل ہو بہو، اس کا دل ہو بہو اس کے جیسی۔ اور پھر اس کا لڑکا جوان ہوگا، وہ ایک لال مرچ جیسی لڑکی ضرور تلاش کرے گا اور پھر وہ تمام دنیا کو اپنے بیٹے کی آنکھوں سے دیکھے گا۔
“آج میں برف والا پانی نہیں پیوں گی“۔ ایک روز گوپال کی بہو نے شکنجبین کا گلاس اپنی ساس کو واپس کرتے ہوئے کہا۔ اور ماں جب اس کے لئے چائے بنانے رسوئی گھر میں گئی تو گوپال نے اپنی بہو سے ہار کا سا مذاق کیا، “ممیں تمام مہینے سپنے جمع کرتا ہوں اور تم مہینے کے آخر میں سارے سپنے توڑ دیتی ہوں“۔
شائد انہیں الفاظ کا اثر تھا کہ اگلے مہینے گوپال کی بہو کو دن لگ گئے اور گوپال کی باہوں میں جیسے ابھی سے اس کا بیٹا کھیلنے لگا۔
“دکھٹی یا نمکین چیز تو کبھی مانگتی ہی نہیں، ہمیشہ اس کا دل میٹھی چیزوں کے لئے چلتا ہے، ضرور بیٹا ہوگا، تمہارے پیدا ہونے کے وقت مجھے بھی گڑ کی کھیر اچھی لگتی تھی“۔ ماں جب کہتی تو گوپال کو لگتا اب تو اس کا بیٹا توتلی باتیں بھی کرنے لگ گیا ہے۔
یہ نو مہینے گوپال کو پچھلے نو سال کی طرح معلوم ہوئے۔ اور پھر گھر میں گھی، گڑ اور اجوائن اکٹھی ہونے لگی۔
کمرے کا دروازہ بند کیا ہوا تھا۔ گوپال نے باہر برآمدے میں بیٹھ کر کاغذ، قلم اور ایک کتاب اپنے سامنے اس طرح رکھی ہوئی تھی جس سے دیکھنے والے کو لگے گویا اسے سر اٹھانے کی فرصت نہیں تھی۔ مگر گوپال کتاب کا کبھی کوئی ورق الٹتا کبھی کوئی۔ اور پھر جو صفحہ سامنے آجاتا اس کو ہی کاغذ پر نقل کرنے لگتا۔
دروازے کے پاس وہ جم کر بیٹھ گیا تھا۔ اور اس کے کان اندر کی آواز سننے کے لئے کھڑے تھے اور گوپال انتظار کر رہا تھا۔ ابھی ابھی دائی کہے گی، “لاکھ لاکھ مبارکبادیاں، گوپال کی ماں …. یہ لو بیٹا“۔
ایک مرتبہ دائی باہر آئی بھی تھی، کہنے لگی، “بیٹا گوپال۔ ذرا جا کر تھوڑا سا شہد تو لا دے۔ دیکھ کر لانا شہد نیا ہو۔“
گوپال وہاں سے جانا نہیں چاہتا تھا، کیا پتہ اس کے پیچھے …. جلدی ہی کچھ ہو جائے …. میں اس کی پہلی آواز سنوں گا، یہ سوچ کر اس نے دائی کو ڈانٹا۔ “شہد کی یاد اب تمہیں آئی ہے؟ یہ تمام کام پڑا ہوا ہے میرے سامنے، کل مجھے یہ کام دفتر میں دینا ہے“۔
“تم مردوں کو تو اپنے کام کی ہی پڑی رہتی ہے۔ آخر بوڑھی عمر ہے، کئی باتیں بھول جاتی ہوں“۔
دائی یہ کہہ ہی رہی تھی کہ گوپال کی ماں نے مشکل حل کر دی۔ کہنے لگی، “ہمارے یہاں کبھی کسی نے شہد وہ نہیں دیا، ہم تو انگلی پر تھوڑا سا گڑ لگا کر منہ میں ڈال دیتے ہیں۔“
“اچھا گڑ ہی سہی“ اور دائی اندر چلی گئی تھی۔
گوپال کے کان پھر دروازے کی طرف لگے ہوئے تھے اور اچانک بچے کی رونے کی آواز آئی۔ گوپال کا سانس جیسے کسی نے ہاتھ میں پکڑ لیا ہو۔ وہ نہ نیچے آرہا تھا اور نہ اوپر جا رہا تھا۔ اور ابھی تک دائی کی آواز نہیں آئی تھی، اسے بچے کی آواز کی نسبت دائی کی آواز کا زیادہ انتظار تھا۔
اور پھر دائی کی آواز آئی “لڑکی“ کی!
گوپال کی کرسی کانپ گئی۔ اس کی ماں شاید پانی یا تولیہ لیے باہر آئی ہوئی تھی۔ گوپال کے ہونٹ کانپے، “ماں، لڑکی؟“
“نہیں بیٹا نہیں، تو بھی پاگل ہے۔ دائیاں یہی کہتی ہیں۔ اگر یہ کہوں کہ بیٹا ہوا ہے تو زیادہ خوشی کی وجہ سے بہو کی جان کا خطرہ ہے،“ اور جلدی جلدی اندر چلی گئی۔ گوپال کی کرسی اب پہلے کی نسبت اتنی نہیں کانپ رہی تھی، مگر پھر بھی گوپال نے اسے دیوار کے سہارے لگا دیا تھا، “بیٹی ہو یا بیٹا، جو بھی ہو قسمت والا ہو۔“ دائی کی آواز آئی۔
“بیٹی تو لکشمی ہوتی ہے۔ اس مرتبہ بیٹی تو دوسرے سال بیٹا“۔ ماں دائی سے کہہ رہی تھی۔
“لڑکی ہے کہ ریشم کا دھاگا ہے ….” ماں کہہ رہی تھی یا دائی کہہ رہی تھی، اس مرتبہ گوپال سے آواز پہچانی نہیں گئی۔ اس کی کرسی کانپی اور کرسی کی وجہ سے ساری دیوار ہل گئی۔ اسے محسوس ہوا وہ بوڑھا ہو گیا تھا۔ لالہ گوپال داس اور اس کی بیوی اپنے گھٹنوں کو دباتی ہوئی کہہ رہی تھی، “لڑکی اتنی بڑی ہو گئی ہے۔ کوئی لڑکا دیکھو نا۔ کہاں چھپاؤں اس آنچل کی آگ کو؟ ایسا روپ …. اوپر سے زمانہ برا ہے“
اور پھر جیسے اس کے دروازے پر بارات آگئی۔ اس کے داماد نے اس کے پاؤں چھوئے۔ اس کی بیٹی لال کپڑوں میں لپٹی ہوئی تھی۔ وہ ڈولی کے پاس جا کر اسے دلاسہ دینے لگا …. اس کی بیٹی …. بالکل لال مرچ ….
لال مرچ …. لڑکی …. لال مرچ …. اور گوپال کو محسوس ہوا آج …. آج کسی نے مرچیں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھونک دی تھیں۔







Leave a Reply