Skip to content

Home

About Us

Advertisement

Contact Us

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • Pinterest
  • WhatsApp
  • RSS Feed
  • TikTok
نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری منڈی بہاءالدین

  • صفحہ اؤل
  • اسلامی مضامین
  • شاعری
  • مضامین
  • افسانہ
  • طنزومزاح
  • کالم
Search
ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

ایک لڑکی ایک جام

مشہور مصور سمیت نندا کی یہ کہانی دراصل میں نے پچھلے برس لکھی تھی۔ دلی میں اُن کی تصویروں کی نمائش ہو رہی تھی۔ ہفتہ بھر لگا تار کسی نہ کسی اخبار میں اُن کے فن پر تبصرہ شائع ہوتا تھا۔ بڑے بڑے دانشور یہ تعریفی تنقید لکھتے تھے۔ مجھے فن مصوری سے متعلق صرف اتنی ہی واقفیت تھی جتنی کہ فن سے بے بہرہ مگر حساس شخص کو ہوتی ہے۔
نمائش میں رکھی گئی تصویروں کی خاموشی سے تعریف کرتے ہوئے میری آنکھیں سمیش نندا کی دو تصویروں پر جم کر رہ گئیں۔ ایک تصویر کے نیچے لکھا تھا “ڈھائی پتیاں، ڈیڑھ پتی“ اور دوسری تصویر کے نیچے لکھا تھا “ایک لڑکی ایک جام“۔
پہلی تصویر چائے کے باغ میں چائے کی پتیاں چنتی ہوئی دو پہاڑی دوشیزاؤں کی تھی اور اس تصویر کا مفہوم مصور نے کچھ یوں سمجھایا تھا۔ “چائے کے پودے کی آخری کونپل صرف ڈیڑھ پتی ہوتی ہے۔ ایک پوری پتی اور اس سے جڑی ہوئی ایک نتھی سی پتی۔ اس ڈیڑھ پتی کی آب و تاب ذرا مختلف ہی ہوتی ہے۔ اس آخری کونپل کے نیچے ڈھائی پتیاں اگتی ہیں، نہایت نرم، اور پھر اس سے نیچے موٹی پتیوں کی کئی ڈالیاں ہوتی ہیں۔ ڈھائی پتیاں اور ڈیڑھ پتی توڑ کر الگ رکھ لیتے ہیں۔ ان پتیوں سے جو چائے بنتی ہے وہ بہت مہنگی ہوتی ہے۔ ہم لوگ جو چائے پیتے ہیں وہ موٹی پتیوں کی ہوتی ہے۔ ایک ایک ثابت و سالم پودے سے چائے کی صرف چار سنہری پتیاں اترتی ہیں۔ سارے باغ سے آخر کتنی پتیاں حاصل کی جا سکتی ہیں؟ وہ چائے ساٹھ روپے پونڈ سے بھی مہنگی ملتی ہے۔“
سمیش نندا کی تصویر میں ادھر جو پہاڑی دوشیزہ تھی اس کا چہرہ نصف سے بھی کم دکھائی دیتا تھا۔ دیکھنے والے کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ لیکن پھر بھی اس کے حسن کا جو انداز نظر آتا تھا، اس سے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے تمام پہاڑی دوشیزائیں چائے کا ایک پودا ہوں، بکھرا اور پھیلا ہوا پودا۔ اور اس طرف کھڑی ہوئی وہ لڑکی جیسے اس پودے کی آخری کونپل تھی۔ مگر میں نے اپنی یہ رائے اپنے دل ہی میں محفوظ رکھی اور مصور سے کچھ نہ کہا۔
دوسری تصویر جس کے نیچے “ایک لڑکی ایک جام“ لکھا تھا، پہاڑی دوشیزہ کے انوکھے حسن کی حامل تھی۔ جیسا کہ لوگ کہتے ہیں “منہ بولتی تصویر“، سچ مچ میں نے ایسی منہ بولتی تصویر پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بارے میں مصور نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی تھی۔ میں نے یہی کہا “ایسا جام پینے کے لئے ایک عمر بھی کم ہے“۔
مصور نے ٹھٹھک کر میری طرف دیکھا۔ مصور کی عمر ساٹھ برس کے لگ بھگ ہوگی۔ نہ جانے شباب کا کون سا عالم ابھر کر اس کی آنکھوں میں آگیا تھا۔ وہ بولا “اس تصویر کی آج تک ایسی ترجمانی کسی اور نے نہیں کی۔ یہ تو دراصل وہی بات ہے جسے میں کہنا چاہتا تھا۔ اور تو اور میرے احباب نے بھی اس تصویر کے یہ معنی نہیں نکالے۔ کچھ لوگ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں ‘ایک لڑکی ایک جام، جام تو ہر روز نیا میسر آسکتا ہے‘۔“
نہ جانے اس تصویر میں کون سی کشش تھی کہ نمائش ہفتہ بھر رہی اور میں وہ نمائش تین بار دیکھنے گئی۔ دراصل وہ نمائش ہی “ایک لڑکی، ایک جام“ تھی۔
وہ کوئی فنی اور شعوری بات نہیں تھی۔ میں نے اپنے دل سے اٹھی ہوئی ایک سادہ سی بات سمیش نندا کی تخلیق سے متعلق کہہ دی تھی۔ یہ سادہ سی بات مصور کا دل ٹٹول کر اس کے ہونٹوں پر لے آئی۔
“میں کانگڑہ کے فن مصوری کی تحقیق کے لیئے ایک گاؤں میں ٹھہرا ہوا تھا۔ پالم پور کے چائے کے باغات کچھ زیادہ دور نہیں تھے۔ یہ تصویر ‘ڈھائی پتیاں ڈیڑھ پتی‘ میں نے وہیں بنائی تھی۔ یہ لڑکی جو اس طرف کھڑی ہے، دراصل وہی لڑکی ہے جسے میں نے دوسری تصویر ‘ایک لڑکی ایک جام‘ میں دکھایا ہے۔“
“یہ بات تو میں نے آپ کے بتانے سے پہلے نہیں پہچانی تھی۔ لیکن پہلے ہی دن یہ تصویر دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا تھا جیسے تمام لڑکیاں چائے کا پودا ہوں اور یہ لڑکی اس پودے کی بالائی کونپل ہو، سبز، نتھی، اور چمکتی ہوئی۔“
سمیش نندا کی بوڑھی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی اور انہوں نے کہا۔ “اب تو مجھے اور بھی یقین ہو گیا ہے۔ تم نے تو مجھ سے میرے دل کی بات کہلوالی ہے۔ تم نے جس انداز میں میری دونوں تصویروں کا مطلب بیان کیا ہے اس سے میری کہانی سننے کا تمہیں حق حاصل ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے میری کہانی کوئی نہیں سن سکا۔“
“میں نے اس لڑکی کو ‘ٹونی‘ کے نام سے پکارا تھا۔ میں نے اس کا اصل نام پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ اس نے چائے کی پتیاں چنتے ہوئے ‘ڈھائی پتیاں اور ڈیڑھ پتی‘ والی بات مجھے سنائی تھی اور میں نے اس سے کہا تھا کہ تو بھی تو ان دوشیزاؤں کے پودے کی بالائی کونپل ہے، بہت مہنگی، خبر نہیں یہ چائے کون پئے گا؟“
“برسات کے دن تھے۔ ایک نالے میں باڑھ آگئی اور آس پاس کے دیہات کو آپس میں ملانے والی سڑک زیر آب ہو گئی۔ تین روز کے بعد اس سڑک کا بدن دکھائی دیا۔ ادھر سے میں جا رہا تھا، اور ادھر سے ٹونی آرہی تھی۔ میں نے کہا، آخر بارش تھم ہی گئی، ایک بار تو یوں محسوس ہوا تھا جیسے یہ طغیانی رکے گی نہیں۔“
“کچھ خبر ہے کہ ٹونی نے کیا کہا؟ ‘بابو! یہ بھی کوئی انسان کے آنسو ہیں جو کبھی خشک نہیں ہوتے‘۔“
“میں ٹونی کے منہ کی طرف دیکھتا رہ گیا۔ اس کی صورت بے حد حسین تھی۔ وہ ایسی بات بھی کہہ سکتی ہے، میں یہ سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ ایسی بات میں نے ایک بنگالی ناول میں پڑھی تھی۔ مگر ٹونی نے تو کبھی بنگالی ناول نہیں پڑھا تھا۔ شاید سارے دیشوں کے دکھ کی ایک ہی زبان ہوتی ہے۔“
“میں اس کے گھر بھی گیا۔ اس کا باپ تھا، ماں تھی، بہن تھی، دو بھائی تھے۔ میں نے اس کے سارے گھر کا اچھی طرح جائزہ لیا۔ یہ بات نہ جانے اس کے دل کے کس گوشے سے ابھری تھی۔ میں نے اس کے دکھ کے بیج ڈھونڈ لئے۔ اس کے باپ کے سر پر قرضہ کا بھاری بوجھ تھا۔ وہاں لڑکیوں کی قیمت پڑتی تھی، تین چار سو روپے سے ایک ہزار روپے تک۔ اور ایک قرض خواہ نے پندرہ سو روپے کے بدلے میں اسے مانگ لیا تھا۔ ٹونی کہتی تھی، ‘وہ انسان نہیں دیو ہے۔ مجھے خواب میں بھی اس سے خوف آتا ہے‘۔“
“یک دن میں نے ٹونی سے تنہائی میں پوچھا، ‘اگر میں تیرے خوف کے بندھن کاٹ دوں تو؟‘”
“‘وہ کیسے بابو؟‘”
“‘میں پندرہ سو روپے دئے دیتا ہوں۔ تم اپنے باپ سے کہہ کر وہ منگنی توڑ دو‘۔“
“اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو میرے پاؤں پکڑ لیتی۔ مگر ٹونی نے سیدھا میرے دل پر ہاتھ ڈال دیا اور کہنے لگی، ‘بابو! کیا تم مجھ سے شادی کرو گے؟‘”
“کبھی میں نے کہا تھا، ‘ٹونی تو چائے کے پودے کی بالائی کونپل یعنی سب سے بیش بہا کونپل ہے، بہت ہی مہنگی، خبر نہیں یہ چائے کون پئے گا؟‘ اور آج ٹونی نے اپنی ہٹ دھرمی سے اس پتی کی چائے تیار کر دی تھی۔ میں نے یہ بات نہ سوچی تھی نہ کہی تھی۔ میں نے اسے یہ سمجھانا چاہا کہ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ لیکن اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور اس نے کہا، ‘بابو! کیا میں بھکارن ہوں؟‘”
“میری اپنی زندگی بھی کچھ اچھی نہیں تھی۔ کتنی ہی لڑکیاں میری زندگی میں آئی تھیں اور چلی گئی تھیں۔ میں صرف تھوڑی دور تک ہی ان کے ساتھ چل سکا تھا۔ ان کے ساتھ طویل مسافت طے نہیں کی تھی۔ اور اب میرا اعتماد ہی اٹھ چکا تھا کہ میں زندگی بھر کسی کا ہم سفر ہو سکوں گا۔“
“‘میری زندگی بہت گرم ہے، ٹونی تو اسے نہیں پی سکے گی، تیرے ہونٹ جھلس جائینگے۔‘ اور میں نے اس کا دل رکھنے کے لئے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔“
“‘میں پھونک پھونک کر اسے پی جاؤں گی بابو‘۔“
“میں نے اس کی یہ بات سنی۔ اس گھڑی اس کے چہرے کا جو انداز تھا اس سے مجھے محسوس ہوا کہ یہی وہ ٹونی ہے جس کے ساتھ میں زندگی کی طویل مسافت طے کر سکتا ہوں۔“
“اپنے فیصلہ کو میں نے چاندی کے سکے کی طرح ٹنکا کر دیکھا۔ میں نے کہا، ‘تمہیں شاید معلوم نہیں میری زندگی میں کتنی ہی لڑکیاں آچکی ہیں۔ ہر ایک لڑکی کو میں نے شراب کے جام کی طرح پیا اور اپنا جام شراب سے دوبارہ لبریز کر لیا‘۔“
“وہ ہنس پڑی اور بولی، ‘کیوں بابو! کیا تمہاری پیاس نہیں بجھتی؟‘ میں نے اس سے کچھ نہ کہا اور وہ بولی، ‘بہت اچھا بابو، ایک بار جام بھر لو اور جب تک میرے دل کا یہ جام ختم نہ ہو جائے تب تک کسی اور جام سے اپنے ہونٹ نہ لگانا‘۔“
“مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں نے اب تک جتنے جام پئے تھے وہ اجسام کے جام تھے، دل کے جام نہیں تھے۔ اگر کوئی ایسا جام ہوتا تو پھر جب تک اس کی شراب ختم نہ ہو جاتی تب تک میں کسی دوسرے جام سے منہ نہ لگا سکتا، شاید دل کے جام کی شراب کبھی ختم نہ ہوتی۔“
“میں نے اپنے فیصلہ کا روپیہ ٹنکا کر دیکھ لیا تھا۔ ٹونی کا فیصلہ تو درست تھا ہی، ٹونی کے ماں باپ نے ہم دونوں کا فیصلہ تسلیم کر لیا۔ اور میں روپوں کا انتظام کرنے کے لئے شہر واپس آگیا۔“
سمیش نندا نے جب اپنی کہانی کا آغاز کیا تھا تو اس وقت آٹھ بجنے والے تھے۔ آٹھ بجے نمائش کا وقت ختم ہو جاتا تھا۔ اس لئے تصویریں دیکھنے والے لوگ لوٹ گئے تھے۔ کسی نئے شخص کو وہاں آنا نہیں تھا۔ کہانی اپنے انجام کو نہیں پہنچی تھی۔ مگر کہانی کو یہاں تک لاکر مصور نے اسے وہیں روک دیا تھا۔
میں مصور کی طرف دیکھتی رہی، رکی ہوئی اس کہانی کے بارے میں سوچتی رہی۔ مصور جیسے بیخودی کے عالم میں کھو گیا تھا۔
چپڑاسی نمائش گاہ کا دروازہ بند کرنے کے لئے دہلیز میں آکھڑا ہوا تھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش رہنے کی تنبیہہ کی اور انتظار کرتی رہی کہ شاید رکی ہوئی کہانی آگے چل پڑے۔
مصور کی بند آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے۔ اشکوں کی روانی نے کہانی کو بھی آگے بڑھا دیا۔
“میں جب روپے لے کر واپس گیا تو قسمت میرا جام میرے ہاتھوں سے چھین چکی تھی۔“
“کیا باپ نے ٹونی کا درپردہ بیاہ کر دیا تھا؟“ میں نے کانپتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں! اس سے زیادہ بھیانک حادثہ ہوا۔ ٹونی جس شخص کو دیو کہا کرتی تھی اس ساہوکار نے اپنا سودا ٹوٹنے کی خبر سن لی تھی اور اس نے دھوکے سے کسی کے ہاتھوں ٹونی کو زہر پلوا دیا تھا۔“
“ٹونی کی چتا میں ابھی کچھ آنچ باقی تھی، تھوڑی سی آگ۔ میں نے اس آگ کو گواہ بنایا اور چتا کے گرد گھوم کر جیسے پھیرے لے لئے۔“
مصور نے شاید تیس پینتیس برس کی عمر میں وہ پھیرے لیئے ہوں گے۔ اگلے تیس برس تک نہ جانے کیسے اس نے ان پھیروں کی لاج رکھی ہوگی۔ یہ بات اس کے ساٹھویں برس سے بھی صاف ظاہر ہو رہی تھی، پوچھنے والی کوئی بات ہی نہیں تھی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ بیسویں صدی اسے سلام کر رہی ہو۔ آہستہ آہستہ مصور کے ہونٹ پھڑکے۔
“ٹونی نے کہا تھا، ‘ایک اقرار کرو بابو، جتنی دیر تک میرے دل کا جام ختم نہ ہو اتنی دیر تک کسی اور جام سے اپنے ہونٹ نہ لگانا‘۔ وہ سامنے کھڑی ہوئی لڑکی گواہ ہے کہ میں نے کسی اور جام سے ہونٹ نہیں لگائے۔ اور….”
سامنے ٹونی کی تصویر تھی۔ ٹونی “ایک لڑکی، ایک جام“۔ موت نے مصور کے ہاتھوں سے وہ جام چھین لیا لیکن کوئی موت اس کے تصور سے وہ جام نہ چھین سکتی۔ اور مصور کی ساری عمر اسے پیتے گزر گئی، اس صراحی کی شراب ختم نہ ہوئی۔
لگ بھگ ایک برس ہو چکا ہے۔ میں نے سمیش نندا کی زبان سے یہ کہانی سنی تھی۔ اور پھر اگلے ہفتہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ لیکن انہوں نے مجھے اسے چھاپنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس وقت میں نے کہانی میں ان کا نام بدل کر لکھا تھا۔ مگر انہوں نے کہا تھا کہ جب تک میری عمر کا آخری دن نہیں آتا تب تک میرا اس پر کوئی حق نہیں۔ اس جام کو پیتے ہوئے مجھے آخری سانس لینے دو، پھر اس کہانی کو شائع کرنا، ابھی نہیں، اس وقت میرا نام بھی بدل کر نہ لکھنا۔
پچھلے ہفتہ آپ نے اخباروں میں پڑھا ہوگا “مشہور مصور سمیش نندا وفات پا گئے“۔ مصور کے فن سے متعلق اخباروں نے یہ بھی لکھا تھا “جس کمرے میں مصور نے آخری سانس لیا، اس کمرے میں صرف ایک ہی تصویر ٹنگی ہوئی تھی ‘ایک لڑکی، ایک جام‘”۔
عمر چھوٹی تھی، جام بڑا تھا۔ آج مصور کا وہ دعویٰ درست ثابت ہوا۔ میں نے اس کہانی میں کوئی تبدیلی نہیں کی، صرف ان کا اصل نام لکھا ہے ان کے کہنے کے مطابق۔

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Featured Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Search

Author Details

مزمل حسین چیمہ

بوسال سکھا

  • X
  • Instagram
  • TikTok
  • Facebook

Follow Us on

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • VK
  • Pinterest
  • Last.fm
  • TikTok
  • Telegram
  • WhatsApp
  • RSS Feed

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)

Archives

  • July 2026 (33)
  • June 2026 (34)
  • May 2026 (14)
  • April 2026 (1)

Tags

آزاد حسین آزاد (1) آغر ندیم سحر (1) امرتا پریتم (4) اکرم جاذب (9) دائم اقبال دائم (1) سید حسنین محسن (1) شعیب الحسن بوسال (1) عقیل عباس (13) فرح گوندل (2) محبوب زاہد (1) مزمل حسین چیمہ (26) مستنصر حسین تارڑ (13) مظہر اقبال گوندل (1) ندیم اکرم ورک (1) نعیم رضا بھٹی (2) ڈاکٹر فاخرہ نورین (1) یسریٰ وصال (1)

About Us

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری پر “نگارشاتِ منڈی بہاءالدین” کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے؛ ایک ایسا ادبی پلیٹ فارم جہاں منڈی بہاءالدین سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادباء، لکھاری، کالم نگار، محققین اور اہلِ قلم کی تخلیقات کو ایک باوقار اور مستقل جگہ فراہم کی جائے گی۔

یہ پلیٹ فارم نئی اور سینئر دونوں نسلوں کے تخلیق کاروں کے لیے یکساں طور پر وقف ہے، تاکہ ان کی علمی و ادبی خدمات زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکیں اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہیں۔

اگر آپ کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے اور آپ شاعری، افسانہ، مضمون، کالم، تحقیق یا کسی بھی ادبی صنف میں تخلیق کرتے ہیں، تو ہم آپ کو اس ادبی سفر کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔

Latest Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)
  • Instagram
  • Facebook
  • LinkedIn
  • X
  • VK
  • TikTok

Proudly Powered by Findora Directory | Managed by: Muzammal Hussain Cheema (Busal)

Scroll to Top