Skip to content

Home

About Us

Advertisement

Contact Us

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • Pinterest
  • WhatsApp
  • RSS Feed
  • TikTok
نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری منڈی بہاءالدین

  • صفحہ اؤل
  • اسلامی مضامین
  • شاعری
  • مضامین
  • افسانہ
  • طنزومزاح
  • کالم
Search
چائے، منظور گوندل کی بیٹھک اور ہماری غیر سرکاری پارلیمنٹ

چائے، منظور گوندل کی بیٹھک اور ہماری غیر سرکاری پارلیمنٹ

چائے، منظور گوندل کی بیٹھک اور ہماری غیر سرکاری پارلیمنٹ

اگر دنیا کی تاریخ سے جنگیں، انقلاب، سازشیں اور معاہدے نکال دیے جائیں تو مؤرخوں کے پاس غالباً اتنا ہی مواد بچے جتنا ایک متوسط درجے کے ہوٹل والے کے پاس شام سات بجے کے بعد بسکٹ رہ جاتے ہیں۔ باقی تاریخ چند کپ چائے، چند ضدی دوستوں اور بے شمار ایسی گفتگوؤں میں سمٹ جائے گی جن کے نتائج کبھی برآمد نہ ہوئے، مگر جن پر بحثیں نسلوں تک جاری رہیں۔

ہمارے معاشرے میں چائے صرف ایک مشروب نہیں؛ یہ ایک تہذیب ہے، ایک رویہ ہے، ایک سماجی معاہدہ ہے۔ بعض لوگوں کا ایمان تو شاید نماز کے بعد تازہ ہوتا ہو، لیکن اکثریت کا حوصلہ پہلے کپِ چائے کے بعد بحال ہوتا ہے۔ ہماری قوم کے بیشتر اختلافات اگر عدالتوں میں نہیں سلجھتے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ قانون کمزور ہے، بلکہ اس لیے کہ فریقین ابھی تک ایک میز پر بیٹھ کر چائے نہیں پی سکے۔

ہماری اجتماعی زندگی کے دو بڑے مراکز ہیں۔ ایک وہ جہاں فیصلے ہونے چاہییں؛ وہاں فائلیں ہیں، ضابطے ہیں، قراردادیں ہیں، کارروائیاں ہیں اور ایسے سنجیدہ چہرے ہیں جنہیں دیکھ کر گھڑی بھی ٹِک ٹِک آہستہ کرنے لگے۔ دوسرا مرکز وہ ہے جہاں فیصلے حقیقتاً ہوتے ہیں؛ ایک کیتلی، ایک تھرمس، چند کپ، دو پلیٹ بسکٹ، تاش کی ایک گڈی، لڈو کا بورڈ اور چند ایسے دوست جنہیں دنیا بے کار سمجھتی ہے، لیکن وہ خود کو قوم کا آخری فکری سرمایہ تصور کرتے ہیں۔

یہ حضرات کسی جامعہ کے فارغ التحصیل نہیں ہوتے، بلکہ محلے کے ہوٹل سے عملی تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ ان کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ملک کی خارجہ پالیسی سے لے کر پڑوسی کے آم کے درخت تک، ہر مسئلے پر ایسی قطعیت سے رائے دیتے ہیں جیسے متعلقہ شعبے نے برسوں ان ہی کے مشورے پر گزارے ہوں۔ ان کے نزدیک اگر حکومت ایک کپ چائے کے دوران نہ بدلے تو یقیناً چائے میں پتی کم رہی ہوگی۔

دنیا کے ہر ملک میں قومی فیصلوں کے لیے پارلیمنٹ ہوتی ہے، لیکن ہمارے حلقۂ احباب نے برسوں پہلے دریافت کر لیا تھا کہ پارلیمنٹ کا سب سے کامیاب نعم البدل ایک گرم تھرمس، چند مخلص دوست اور فارغ وقت ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ وہاں قانون بنتے ہیں، یہاں لطیفے۔ وہاں بجٹ منظور ہوتا ہے، یہاں اگلے دورِ چائے کا۔ وہاں واک آؤٹ ہوتا ہے، یہاں صرف وہی شخص اٹھ کر جاتا ہے جسے اچانک یاد آ جائے کہ گھر میں بھی کوئی اس کا منتظر ہے۔

یوں ہماری غیر سرکاری پارلیمنٹ کبھی منظور احمد گوندل کی پرانی بیٹھک میں سجتی تھی، اور وقت کی رفتار نے جب ترقی کا پہیہ گھمایا تو یہی پارلیمنٹ بینک چوک میں واقع بیکن سائنس سکول بوسال کے دفتر میں منتقل ہو گئی۔ مقام بدل گیا، دیواروں کا رنگ بدل گیا، میزیں اور کرسیاں بدل گئیں، لیکن ایک چیز اپنی آئینی حیثیت کے ساتھ برقرار رہی؛ میز پر رکھا ہوا چائے سے لبریز تھرمس۔

اس تھرمس کے بارے میں میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ اگر کبھی اسے کھول کر دیکھا جائے تو اس میں چائے سے زیادہ قہقہے، ادھورے فیصلے، نامکمل منصوبے، دوستوں کی چھیڑ چھاڑ اور بے شمار ایسی باتیں برآمد ہوں گی جنہیں یاد کر کے آج بھی چائے ٹھنڈی ہونے لگتی ہے اور دل گرم۔

ہماری بیٹھک میں چائے صرف پی نہیں جاتی تھی، اس پر بحث بھی ہوتی تھی، فیصلے بھی صادر ہوتے تھے اور بعض اوقات قوم کی قسمت بھی بدل دی جاتی تھی—کم از کم گفتگو کے دائرے میں۔ عالمی سیاست سے لے کر محلے کے نلکے تک، کرکٹ ٹیم کے انتخاب سے لے کر چینی کی قیمت تک، ہر موضوع پر ایسی سنجیدہ مشاورت ہوتی کہ اگر کوئی اجنبی سن لیتا تو یقین کر لیتا کہ ملک کا اصل نظامِ حکومت یہی ہے اور باقی سب نمائشی انتظام ہے۔

اقوامِ متحدہ اگر کبھی دنیا میں پائیدار امن کا راز تلاش کرنا چاہے تو اسے ہمارے اجلاسوں کی کارروائی محفوظ کرنی چاہیے۔ یہاں ہر شخص دوسرے کی رائے سے شدید اختلاف کرتا تھا، لیکن چائے کا آخری گھونٹ ختم ہوتے ہی سب اختلافات اسی طرح تحلیل ہو جاتے جیسے گرم کپ میں ڈالی گئی چینی۔ شاید دوستی کی اصل تعریف یہی ہے کہ آدمی بحث جیتنے سے زیادہ دوست کو کھونا پسند نہ کرے۔

یہ بیٹھک محض بیٹھک نہیں تھی؛ یہ ایک غیر سرکاری تھنک ٹینک تھی، البتہ یہاں تحقیق کے لیے کسی گرانٹ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ سرمایہ صرف وقت تھا، اور منافع صرف مسکراہٹ۔ اجلاس کا ایجنڈا کبھی طے نہیں ہوتا تھا، لیکن اختتام ہمیشہ خالی کپوں، بلند قہقہوں اور اس یقین پر ہوتا تھا کہ اگر ملک ہماری مشاورت سے چلتا تو کم از کم چائے کی صنعت ضرور قومی ترقی کی علامت بن چکی ہوتی۔

اور پھر چائے کے بعد اگر کسی شے کو ہماری مجلس میں تقدس حاصل تھا تو وہ رمی تھی۔

رمی ہمارے نزدیک کھیل کم اور عمر بھر جاری رہنے والا تحقیقی منصوبہ زیادہ تھی۔ ہم نے اس کی جیت اور ہار کا ایسا مفصل ریکارڈ مرتب کیا کہ بعض سرکاری اداروں کے پاس بھی اپنی کارکردگی کا اتنا مکمل حساب نہ ہوگا۔ ایک رجسٹر بھرا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ اگر یہی محنت کسی تحقیقی مقالے پر کی جاتی تو شاید یونیورسٹی ہمیں ڈاکٹریٹ عطا کر دیتی۔ ہمارے نزدیک رمی کی شماریات بھی کم علمی سرمایہ نہ تھیں۔

ان رجسٹروں کے صفحات پلٹتے ہوئے یوں محسوس ہوتا جیسے کسی عظیم کھیل کی سرکاری تاریخ محفوظ ہو۔ فلاں نے اتنی بازی جیتی، فلاں اتنی ہارا، اور فلاں نے اتنی مرتبہ قسمت کو کوسا کہ اگر قسمت انسان ہوتی تو یقیناً ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کر چکی ہوتی۔

جہاں رمی نہ ہوتی وہاں لڈو اپنی بساط بچھا لیتا۔ لڈو وہ کھیل ہے جس میں ہر کھلاڑی اپنی ذہانت کا سہرا اپنے سر باندھتا ہے اور شکست کا سارا بوجھ بے زبان پاسے پر ڈال دیتا ہے۔ جیتنے والا خود کو حکمتِ عملی کا نابغہ سمجھتا اور ہارنے والا بڑے اعتماد سے اعلان کرتا کہ آج پاسا ہی مخالف جماعت کا رکن تھا۔

یوں چائے، رمی اور لڈو مل کر ہماری غیر سرکاری پارلیمنٹ کے تین بنیادی ستون تھے۔ اگر ان میں سے ایک بھی غائب ہوتا تو محفل کچھ ایسی ادھوری لگتی جیسے شعر سے قافیہ نکل جائے یا بریانی سے گوشت۔

ہر پارلیمنٹ کی کامیابی کا انحصار اس کے اراکین پر ہوتا ہے، اور ہماری اس غیر سرکاری پارلیمنٹ میں بھی کچھ ایسی شخصیات آباد تھیں جنہیں اگر قدرت مختلف زمانوں میں پیدا کرتی تو شاید تاریخ کی کتابوں میں ان کے نام کے ساتھ “عظیم مفکر”، “نامور سفارت کار” یا کم از کم “ناقابلِ یقین مبصر” ضرور لکھا جاتا۔ لیکن قدرت نے ان سب کو ایک ہی زمانے، ایک ہی قصبے اور ایک ہی تھرمس کے گرد جمع کر دیا۔ یوں ان کی ساری ذہانت چائے کی بھاپ کے ساتھ فضا میں تحلیل ہوتی رہی اور قوم اس عظیم علمی سرمایہ سے تقریباً محروم رہی۔

اس پارلیمنٹ کے غیر منتخب بلکہ تاحیات متفقہ صدر منظور احمد گوندل تھے۔

دنیا میں دو طرح کے سربراہ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں عوام منتخب کرتی ہے اور دوسرے وہ جنہیں چائے منتخب کرتی ہے۔ منظور صاحب دوسرے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کبھی کسی انتخابی مہم کی ضرورت محسوس نہیں کی، کیونکہ ان کے پاس وہ اختیار موجود تھا جس کے بعد ووٹ کی اہمیت کم رہ جاتی ہے؛ یعنی چائے کا تھرمس۔

میزبانی ایک الگ صفت ہے، لیکن مستقل میزبانی ایک عبادت ہے۔ منظور صاحب برسوں سے اس عبادت میں مشغول تھے۔ ان کے دفتر کا دروازہ شاید تالے سے کم اور دوستوں کی آمدورفت سے زیادہ کھلتا تھا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے معلم اور مزاج کے اعتبار سے معاشیات کے طالب علم تھے۔ اگر کبھی چند روپے جمع کر کے شرط والی بازی کھیلنی پڑتی تو وہ اس معمولی سی رقم کا بجٹ اس مہارت سے ترتیب دیتے کہ دیکھنے والا سوچنے لگتا، شاید عالمی مالیاتی ادارے بھی خسارے کے دنوں میں انہی سے مشورہ لیتے ہوں۔

ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ گفتگو میں کبھی اپنی رائے مسلط نہیں کرتے تھے، لیکن مجلس کے اختتام پر سب کو یہی محسوس ہوتا کہ فیصلہ وہی ہوا ہے جو منظور صاحب پہلے ہی سوچ چکے تھے۔ ایسے لوگ دنیا میں کم پیدا ہوتے ہیں؛ وہ اختلاف بھی برداشت کرتے ہیں اور آخر میں خاموشی سے اپنی بات بھی منوا لیتے ہیں۔


اگر منظور صاحب اس پارلیمنٹ کے اسپیکر تھے تو نوید احمد اختر گوندل اس کے بیک وقت وزیرِ اطلاعات، وزیرِ کھیل، وزیرِ صحت، وزیرِ توانائی اور ضرورت پڑنے پر وزیرِ خارجہ بھی تھے۔

ان کی معلومات کا دائرہ اتنا وسیع تھا کہ کبھی کبھی ہمیں شک ہونے لگتا کہ شاید دنیا کی ہر خبر پہلے انہی کے پاس آتی ہے، پھر اخبار والوں تک پہنچتی ہے۔

کرکٹ پر گفتگو شروع ہو تو وہ قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر معلوم ہوتے۔ سیاست کا ذکر چھیڑ دیجیے تو ایسے تجزیے کرتے جیسے گزشتہ شب کابینہ کے اجلاس میں خود شریک رہے ہوں۔ اگر کسی کو کھانسی آ جائے تو علاج بھی بتا دیتے، اور پنکھا بند ہو جائے تو بجلی کا نقص بھی تلاش کرنے لگتے۔ ان کی شخصیت میں اتنے شعبے جمع تھے کہ اگر سرکاری ملازمت میں ہوتے تو ایک تنخواہ پر کئی وزارتیں چل رہی ہوتیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست ان پر ذاتی حملے کے مترادف ہوتی۔ اس دن ان کی چائے بھی کچھ زیادہ تلخ محسوس ہوتی۔ اور اگر رمی کے دوران کسی نے مذاق ہی مذاق میں دھوکے کا الزام لگا دیا تو وہ اپنی صفائی میں ایسا مدلل بیان دیتے کہ الزام لگانے والا خود سوچنے لگتا کہ شاید غلطی واقعی اسی سے ہوئی ہوگی۔


رانا ایاز بدر اس مجلس کے ان لوگوں میں سے تھے جن کی موجودگی سے محفل مکمل محسوس ہوتی تھی۔

دوستی ان کے لیے محض تعلق نہیں، ذمہ داری تھی۔ اگر کسی دوست کو آدھی رات بھی ضرورت پڑ جاتی تو رانا صاحب بغیر سوال کیے حاضر ہو جاتے۔ ایسے لوگ زندگی میں بہت کم ملتے ہیں؛ جو خوشی میں کم اور ضرورت میں زیادہ یاد آتے ہیں۔

البتہ رمی کی میز پر بیٹھتے ہی ان کے اندر ایک آئینی ماہر بیدار ہو جاتا تھا۔ اگر کسی نے غلط پتہ پھینک دیا یا کسی اصول کی ذرا سی خلاف ورزی کر دی تو فوراً کھیل کے بنیادی حقوق، آئینی روایات اور اخلاقی تقاضوں پر ایسی تقریر شروع ہو جاتی کہ نئے آنے والے کو گمان ہوتا شاید سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس چل رہا ہے۔

دل کے اتنے صاف کہ ناراضی بھی دیر تک نہ رکھتے۔ پانچ منٹ پہلے جس کھلاڑی سے بحث ہو رہی ہوتی، اگلے ہی لمحے اسی کے کپ میں چائے انڈیل رہے ہوتے۔ شاید یہی دوستی کا اصل معیار ہے کہ اختلاف مستقل نہ ہو اور محبت کو کبھی وقفہ نہ ملے۔


ڈاکٹر اسد اللہ صرف ہمارے دوست نہیں، میرے برسوں کے ہمسائے بھی ہیں۔

اچھے ہمسائے نعمت ہوتے ہیں، اور ڈاکٹر صاحب ان نعمتوں میں شامل ہیں جن پر آدمی روز شکر ادا نہ کرے تو کم از کم عید کے دن ضرور کرے۔ اگر صبح سلام نہ ہو تو شام کو خود دریافت کرتے کہ خیریت تو ہے؟

رمی کھیلتے وقت ان کی سنجیدگی دیکھ کر کئی مرتبہ یوں محسوس ہوتا جیسے کسی بین الاقوامی شطرنج مقابلے کا فائنل جاری ہو۔ پتہ اٹھانے سے پہلے اتنا غور کرتے کہ باقی کھلاڑیوں کو اپنے فیصلے پر شک ہونے لگتا۔

گفتگو میں ان کی اصل طاقت ان کے بے ساختہ جملے تھے۔ وہ ایک ایسا فقرہ کہتے جس پر پہلے سب ہنس دیتے، پھر دو منٹ خاموش رہتے، اور اچانک اس کے دوسرے معنی سمجھ آتے تو دوبارہ قہقہہ لگ جاتا۔ ان کی باتیں چائے کی خوشبو کی طرح تھیں؛ ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک فضا میں رہتی تھیں۔

آج کل وہ لاہور میں مقیم ہیں۔ لاہور نے انہیں اپنا لیا یا انہوں نے لاہور کو، اس کا فیصلہ ابھی تک ادبی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہوا کہ لاہور نے انہیں صرف رہائش ہی نہیں دی بلکہ زندگی کا شریکِ سفر بھی وہیں عطا کر دیا۔ یوں ہمارے دوست نے شہر بھی منتخب کیا اور دل بھی۔


رانا محمد اقبال اس پارلیمنٹ کے ان معدودے چند اراکین میں تھے جنہوں نے شاید یہ راز بہت پہلے جان لیا تھا کہ ہر کھیل کھیلنا ضروری نہیں، بعض اوقات صرف دیکھنا زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔

رمی ہو یا لڈو، وہ عموماً تماشائی کی نشست پر تشریف فرما رہتے، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کھیلنے والوں سے زیادہ قواعد انہی کو یاد ہوتے۔

بارعب داڑھی، شائستہ گفتگو، متوازن لہجہ اور ایسا وقار کہ پہلی ملاقات میں آدمی انہیں کسی دینی ادارے کا مہتمم سمجھ بیٹھے۔ لیکن چند لمحوں بعد ان کی مسکراہٹ بتا دیتی کہ سنجیدگی اور خوش مزاجی ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ پرانی دوست ہیں۔

وہ کم بولتے تھے، لیکن جب بولتے تو جملہ اپنی ضرورت سے ایک لفظ بھی زیادہ نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ محفلوں میں شور نہیں بڑھاتے، معیار بڑھاتے ہیں۔ ان کی خاموشی بھی گفتگو کا حصہ ہوتی تھی، بلکہ بعض اوقات سب سے وزنی حصہ۔

اگر ہر محفل میں ایک ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جو باتوں سے زیادہ اپنی شخصیت کے ذریعے مسکراتا ہے، تو ہماری بیٹھک میں یہ منصب ممتاز بشیر ثانی کے حصے میں آیا تھا۔

ثانی صاحب نفاست کے اس درجے پر فائز تھے جہاں اکثر لوگ صرف خواب میں پہنچتے ہیں۔ ان کے کپڑوں کی شکنیں بھی شاید اجازت لے کر پڑتی تھیں۔ کرسی پر اس انداز سے بیٹھتے جیسے ابھی کسی ادبی کانفرنس کی صدارت فرمانے والے ہوں، اور چائے کا کپ یوں تھامتے گویا کسی نادر مخطوطے کے اوراق الٹ رہے ہوں۔ مجھے کئی مرتبہ شبہ ہوا کہ اگر کبھی ہوا ذرا تیز چل جائے تو وہ پہلے اپنے بال سنبھالیں گے یا اپنی شائستگی۔

ان کا حافظہ بھی عجیب نعمت تھا۔ ان کے نزدیک ہر واقعہ “بس کل کی بات” ہوتا تھا، خواہ اسے گزرے دو دہائیاں ہی کیوں نہ بیت چکی ہوں۔ تاریخ ان کے حافظے میں کیلنڈر کے حساب سے نہیں، دلچسپی کے حساب سے محفوظ رہتی تھی۔ اگر کسی بحث میں دلائل کم پڑ جاتے تو فوراً ایک واقعہ سناتے، اور اس واقعے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہوتی کہ اس کے واحد عینی شاہد بھی وہ خود ہوتے۔

ہم کبھی ان سے یہ نہیں پوچھتے تھے کہ واقعہ کتنا سچا ہے، کیونکہ اچھی محفلوں میں سچائی سے زیادہ اہم اسلوب ہوتا ہے۔ اور ثانی صاحب کے پاس اسلوب کی کمی کبھی نہیں رہی۔

رمی میں اگر بازی ہار جائیں تو قصور تاش کی گڈی کا نکلتا، اور اگر جیت جائیں تو یہ ان کی غیر معمولی حکمتِ عملی کا ثبوت قرار پاتا۔ گویا قسمت صرف دوسروں کے لیے تھی، اپنی کامیابی ہمیشہ عقل کا کرشمہ ہوتی تھی۔


کبھی کبھی ہماری پارلیمنٹ میں خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوتے تھے۔ ان میں مستقل اراکین کے علاوہ چند معزز مہمان بھی شریک ہوتے، جن کی آمد سے مجلس میں ایسا وقار پیدا ہو جاتا جیسے کسی عام اجلاس میں اچانک صدرِ مملکت تشریف لے آئے ہوں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں سکیورٹی کلیئرنس کی جگہ ایک اضافی کپ چائے کافی سمجھا جاتا تھا۔

ان معزز مہمانوں میں مسرت حسین بوسال کا ذکر سب سے پہلے آتا ہے۔

پولیس کی وردی میں انہیں دیکھ کر ہمیشہ حیرت ہوتی تھی۔ نرم گفتاری، متانت اور تحمل کو اگر کسی پیشے میں سب سے زیادہ آزمائش برداشت کرنا پڑتی ہے تو شاید وہ پولیس ہی ہے، لیکن مسرت صاحب نے یہ امتحان بھی خندہ پیشانی سے پاس کیا۔

اگر کسی اجنبی کو ان کی ملازمت نہ بتائی جائے تو وہ انہیں زیادہ سے زیادہ کسی کالج کے استاد، کسی لائبریری کے نگران یا کسی محقق کا درجہ دے گا۔ ان کے چہرے پر قانون کی سختی سے زیادہ علم کی نرمی دکھائی دیتی تھی۔

ایمانداری ان کی شخصیت کا وہ وصف تھا جس کے لیے مبالغے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بعض لوگ اپنی دیانت داری کا اعلان خود کرتے ہیں، بعض کی دیانت داری ان کے خاموش رویے سے ظاہر ہوتی ہے۔ مسرت صاحب دوسرے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔


پھر تشریف لاتے ایڈووکیٹ ڈاکٹر جاوید اقبال گوندل۔

وہ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے قانون بھی پڑھا، تحقیق بھی کی اور وقت کی پابندی کو بھی زندگی کا مستقل ضابطہ بنا لیا۔ اگر گھڑی پانچ منٹ پیچھے رہ جائے تو شاید سب سے پہلے وہی اس کے خلاف مقدمہ درج کرائیں۔

وقت کی پابندی ان کے نزدیک محض اچھی عادت نہیں بلکہ آئینی تقاضا تھی۔ اگر کوئی دوست دیر سے پہنچتا تو ان کے چہرے پر وہی تاثرات نمودار ہوتے جو کسی جج کے سامنے غیر حاضر ملزم کی فائل دیکھ کر پیدا ہوتے ہیں۔

لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ ان کی یہ سختی صرف اصولوں تک محدود رہتی۔ دوستی میں وہ اتنے ہی نرم دل تھے جتنے قانون میں مضبوط مؤقف رکھتے تھے۔ شاید اسی امتزاج نے انہیں سب کا محترم بنا رکھا تھا۔


اور پھر آتے تھے ایڈووکیٹ مظہر قیوم گوندل، جنہیں سب محبت سے “استاد جی” کہتے تھے۔

استاد جی گفتگو میں دلیل اس مہارت سے پروتے کہ اختلاف کرنے والا بھی پہلے احترام سے سر ہلاتا، پھر سوچتا کہ اختلاف آخر تھا کس بات پر۔

ان کی گفتگو میں آواز کبھی بلند نہیں ہوتی تھی، لیکن وزن ہمیشہ بلند رہتا تھا۔ وہ ایسے لوگوں میں سے تھے جو دلیل سے قائل کرتے ہیں، لہجے سے نہیں۔

محفل میں ان کی موجودگی سے گفتگو کا معیار خودبخود بلند ہو جاتا۔ غیر ضروری جملے آہستہ آہستہ رخصت ہو جاتے اور بات میں ایک علمی وقار شامل ہو جاتا۔ ایسے لوگ ہر مجلس کا توازن ہوتے ہیں؛ نہ زیادہ بولتے ہیں، نہ کم، مگر جب بولتے ہیں تو محفل دیر تک ان کے جملوں کی بازگشت سنتی رہتی۔


اور آخر میں اگر اس داستان کا ایک معمولی سا کردار باقی رہ جاتا ہے تو وہ یہ خاکسار، مزمل حسین چیمہ ہے۔

میری حیثیت اس بیٹھک میں کچھ ایسی تھی جیسے اسمبلی میں اپوزیشن کی ہوتی ہے؛ موجود بھی، باخبر بھی، اکثر متفق بھی، مگر اختیار ہمیشہ دوسروں کے پاس۔

میں بظاہر چائے پینے آتا تھا، لیکن حقیقت میں میری اصل دلچسپی چائے سے زیادہ چہروں میں تھی۔ میں خاموشی سے دوستوں کے جملے، ان کی عادتیں، ان کی بے ساختگیاں، ان کے قہقہے اور ان کے درمیان چلنے والی محبت کو جمع کرتا رہتا تھا۔ شاید اسی لیے آج برسوں بعد بھی وہ محفل میرے ذہن میں کسی پرانی تصویر کی طرح دھندلی نہیں ہوئی، بلکہ ہر یاد اپنے اصل رنگ کے ساتھ محفوظ ہے۔

اس بیٹھک نے مجھے دو ایسی باتیں سکھائیں جو شاید کسی درس گاہ میں نہیں ملتیں۔

پہلی یہ کہ چائے صرف پانی، دودھ اور پتی کا نام نہیں؛ یہ تعلقات کو گرم رکھنے کا سب سے سستا اور سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

اور دوسری یہ کہ محفل میں اصل فاتح وہ نہیں ہوتا جو رمی کی سب سے زیادہ بازیاں جیت لے یا لڈو میں سب سے پہلے گھر پہنچ جائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے دوسرے لوگ ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹیں۔

آج کبھی بیکن سائنس سکول بوسال کے دفتر میں رکھا ہوا وہی پرانا تھرمس نظر آ جاتا ہے تو دل عجب کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے صرف پتہ تبدیل کیا ہے، دوستی نہیں۔ وہی قہقہے، وہی ادھورے منصوبے، وہی بے نتیجہ مگر نہایت ضروری مشورے، وہی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا، اور ضرورت پڑنے پر اسی ٹانگ کو سہارا دے کر کھڑا بھی کر دینا۔

زندگی عجیب حساب رکھتی ہے۔ ہمیں اس وقت اندازہ نہیں ہوتا کہ کون سا لمحہ یاد بننے جا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم صرف ایک کپ چائے پی رہے ہیں، حالانکہ وقت ہماری عمر کے بہترین دن خاموشی سے ہمارے نام لکھتا جا رہا ہوتا ہے۔

آج رمی کے وہ رجسٹر شاید کسی الماری کے نچلے خانے میں خاموش پڑے ہوں گے۔ ان کے اعداد و شمار اب کسی مقابلے کی حیثیت نہیں رکھتے، لیکن ان کے ہر صفحے کے پیچھے ایک قہقہہ، ایک بحث، ایک ناراضی، ایک صلح اور ایک دوستی سانس لے رہی ہے۔

اگر دوستی کی کوئی یونیورسٹی قائم ہوتی تو میرا دعویٰ ہے کہ ہماری یہ بیٹھک اس کی قدیم ترین فیکلٹی قرار پاتی۔ اور اگر کبھی اس جامعہ کا کانووکیشن منعقد ہوا تو ڈگریاں یقیناً کاغذ پر نہیں، چائے کے کپوں میں تقسیم ہوں گی۔ وہاں سند پر مہر کی جگہ چائے کا ہلکا سا داغ ہوگا، اور شاید یہی داغ اس ڈگری کا سب سے معتبر اعزاز بھی ہوگا۔

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Featured Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Search

Author Details

مزمل حسین چیمہ

بوسال سکھا

  • X
  • Instagram
  • TikTok
  • Facebook

Follow Us on

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • VK
  • Pinterest
  • Last.fm
  • TikTok
  • Telegram
  • WhatsApp
  • RSS Feed

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)

Archives

  • July 2026 (33)
  • June 2026 (34)
  • May 2026 (14)
  • April 2026 (1)

Tags

آزاد حسین آزاد (1) آغر ندیم سحر (1) امرتا پریتم (4) اکرم جاذب (9) دائم اقبال دائم (1) سید حسنین محسن (1) شعیب الحسن بوسال (1) عقیل عباس (13) فرح گوندل (2) محبوب زاہد (1) مزمل حسین چیمہ (26) مستنصر حسین تارڑ (13) مظہر اقبال گوندل (1) ندیم اکرم ورک (1) نعیم رضا بھٹی (2) ڈاکٹر فاخرہ نورین (1) یسریٰ وصال (1)

About Us

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری پر “نگارشاتِ منڈی بہاءالدین” کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے؛ ایک ایسا ادبی پلیٹ فارم جہاں منڈی بہاءالدین سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادباء، لکھاری، کالم نگار، محققین اور اہلِ قلم کی تخلیقات کو ایک باوقار اور مستقل جگہ فراہم کی جائے گی۔

یہ پلیٹ فارم نئی اور سینئر دونوں نسلوں کے تخلیق کاروں کے لیے یکساں طور پر وقف ہے، تاکہ ان کی علمی و ادبی خدمات زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکیں اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہیں۔

اگر آپ کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے اور آپ شاعری، افسانہ، مضمون، کالم، تحقیق یا کسی بھی ادبی صنف میں تخلیق کرتے ہیں، تو ہم آپ کو اس ادبی سفر کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔

Latest Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)
  • Instagram
  • Facebook
  • LinkedIn
  • X
  • VK
  • TikTok

Proudly Powered by Findora Directory | Managed by: Muzammal Hussain Cheema (Busal)

Scroll to Top