ترقی کے سفر میں جوابدہی کا اگلا قدم
پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس لیے یہاں کی حکمرانی کا معیار صرف ایک صوبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات قومی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں ہر نئی حکومت سے عوام کی توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے دورِ حکومت میں انتظامی اصلاحات، ڈیجیٹل گورننس، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور شہری سہولتوں کے شعبوں میں متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں پر سیاسی اختلاف رائے اپنی جگہ موجود ہے، لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت نے سرکاری نظام میں رفتار اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
ڈیجیٹل نظام کی طرف پیش رفت دراصل وقت کی ضرورت ہے۔ دنیا تیزی سے ای گورننس کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں شہری کو سرکاری دفتر کے بجائے موبائل فون اور کمپیوٹر کے ذریعے خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر سرکاری فائلیں، درخواستیں، ریکارڈ اور نگرانی کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے تو نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ کرپشن اور غیر ضروری تاخیر کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے مختلف شعبوں میں اسی سمت میں پیش رفت کی ہے، جسے مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
صحت کے شعبے میں سرکاری ہسپتالوں کی بہتری، جدید طبی سہولتوں کی فراہمی اور مریضوں کو بہتر خدمات دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح تعلیم کے میدان میں سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے، بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور تعلیمی معیار بلند کرنے کے لیے بھی مختلف اقدامات سامنے آئے ہیں۔ شہری انفراسٹرکچر، صفائی، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبے بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل رہے ہیں۔ ان تمام اقدامات کا اصل مقصد عوام کی زندگی کو آسان بنانا ہے، اور یہی کسی بھی حکومت کی کامیابی کا بنیادی معیار ہونا چاہیے۔
تاہم اچھی حکمرانی صرف ترقیاتی منصوبوں سے مکمل نہیں ہوتی۔ اگر سڑکیں بن جائیں، عمارتیں کھڑی ہو جائیں اور ڈیجیٹل پورٹل بھی قائم ہو جائیں، لیکن ایک عام شہری کو سرکاری دفتر میں انصاف نہ ملے، اس کی شکایت نہ سنی جائے یا کرپشن کے خلاف کارروائی نہ ہو تو گورننس کا نظام ادھورا رہ جاتا ہے۔ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد اسی وقت قائم ہوتا ہے جب عوام کو یقین ہو کہ ان کی آواز سنی جائے گی اور قانون بلاامتیاز نافذ ہوگا۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ آج بھی مختلف سرکاری اداروں کے خلاف شکایات عام ہیں۔ کہیں فائلیں غیر ضروری طور پر روکی جاتی ہیں، کہیں اختیارات کا ناجائز استعمال ہوتا ہے، کہیں شہریوں کو دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور کہیں شکایت درج ہونے کے باوجود کارروائی میں تاخیر ہوتی ہے۔ ایسے مسائل صرف ایک محکمہ یا ایک ضلع تک محدود نہیں بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک چیلنج ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پنجاب حکومت ایک ایسی اصلاح متعارف کرا سکتی ہے جو ترقیاتی منصوبوں سے بھی زیادہ دیرپا اثرات مرتب کرے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب کے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پبلک کمپلینٹ اینڈ اکاؤنٹیبلٹی سیل قائم کیا جائے۔ یہ سیل ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں کام کرے، لیکن اس کا پورا نظام ڈیجیٹل، شفاف اور قابلِ نگرانی ہو۔ شہری گھر بیٹھے موبائل ایپ، ویب پورٹل، ہیلپ لائن یا تحصیل سہولت مرکز کے ذریعے اپنی شکایت درج کرا سکے۔ ہر درخواست کو فوری طور پر ایک ٹریکنگ نمبر جاری کیا جائے تاکہ درخواست گزار ہر مرحلے پر اپنی شکایت کی پیش رفت سے آگاہ رہے۔
تمام سرکاری محکموں کو اس نظام سے منسلک کرنا ناگزیر ہونا چاہیے۔ پولیس، ریونیو، صحت، تعلیم، بلدیات، زراعت، آبپاشی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ترقیاتی ادارے اور دیگر محکمے ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے جوابدہ ہوں۔ ہر شکایت کے لیے قانونی مدت مقرر کی جائے۔ اگر متعلقہ افسر مقررہ وقت میں کارروائی نہ کرے تو معاملہ خودکار طور پر اعلیٰ افسر کے پاس منتقل ہو جائے۔
اس کے ساتھ ہر ضلع کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ بھی عوام کے سامنے پیش کی جائے، جس میں یہ واضح ہو کہ کتنی شکایات موصول ہوئیں، کتنی نمٹائی گئیں، کتنی زیرِ التوا ہیں اور کن محکموں کے خلاف سب سے زیادہ شکایات سامنے آئیں۔ ایسی شفافیت نہ صرف عوام کا اعتماد بحال کرے گی بلکہ سرکاری اداروں میں صحت مند مقابلے کی فضا بھی پیدا کرے گی۔
اس مقصد کے لیے پنجاب اسمبلی کو ایک جامع قانون منظور کرنا چاہیے، جس کے تحت ہر سرکاری ادارہ شکایات کے بروقت ازالے کا پابند ہو۔ شکایت کنندہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، بدنیتی پر مبنی جھوٹی شکایات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ثابت شدہ غفلت یا کرپشن پر متعلقہ افسر کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کو لازمی قرار دیا جائے۔ اسی قانون کے تحت ایک صوبائی مانیٹرنگ اتھارٹی قائم کی جا سکتی ہے، جو تمام اضلاع کے شکایتی نظام کی نگرانی کرے اور سالانہ رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عوام کے ٹیکس سے چلنے والے اداروں کی پہلی ذمہ داری عوام کی خدمت ہے۔ جب شہری ٹیکس ادا کرتا ہے تو وہ دراصل ریاست کے ساتھ ایک سماجی معاہدہ کرتا ہے۔ اس معاہدے کا تقاضا ہے کہ اسے بروقت، شفاف اور باوقار خدمات فراہم کی جائیں۔ اگر کسی ادارے میں بدانتظامی، کرپشن یا اختیارات کا غلط استعمال ہو تو شہری کو فوری اور مؤثر داد رسی ملنی چاہیے۔
پنجاب میں اگر ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ جوابدہی کے اس تصور کو بھی عملی شکل دے دی جائے تو یہ اصلاح صرف ایک انتظامی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ گورننس کے پورے نظام میں ایک مثبت انقلاب ثابت ہو سکتی ہے۔ ترقی کی اصل منزل وہی معاشرہ ہوتا ہے جہاں قانون کی حکمرانی مضبوط ہو، ادارے جوابدہ ہوں اور عام آدمی کو یہ یقین ہو کہ ریاست اس کی محافظ بھی ہے اور اس کی آواز سننے والی بھی۔








Leave a Reply