دینی فکر کا ارتقاء: متن سے روایت تک  : قسط نمبر 1 | مزمل حسین چیمہ

 دینی فکر کا ارتقاء: متن سے روایت تک 

قسط نمبر 1: حدیثی روایت کا مقام : قرآن کے مقابل یا قرآن کے تابع؟

اگر صرف قرآن ہمارے پاس ہوتا تو ہمارا دین کیسا ہوتا؟ یہ سوال بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت اسلامی فکر، عقائد، فقہ اور مذہبی روایت کی پوری عمارت کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ صدیوں سے مسلمان قرآن، حدیث، فقہ، اجماع، قیاس اور مختلف علمی روایتوں کے ذریعے دین کو سمجھتے آئے ہیں۔ لیکن اگر ایک لمحے کے لیے ہم تمام تفاسیر، فقہی مکاتب فکر، تاریخی روایات اور بعد کے مذہبی ذخیرے کو ایک طرف رکھ دیں اور صرف قرآن کو سامنے رکھ کر یہ سوال پوچھیں کہ دین کی بنیاد کیا ہے، تو کیا جواب سامنے آئے گا؟

یہ سوال کسی چیز کی نفی کے لیے نہیں بلکہ تحقیق کے لیے ہے۔ کیونکہ قرآن خود بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن کا انداز یہ نہیں کہ انسان آنکھیں بند کر کے مان لے بلکہ وہ کہتا ہے: “کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟”۔ گویا قرآن خود اپنے ماننے والوں سے تحقیق کا مطالبہ کرتا ہے۔

جب ہم قرآن کھولتے ہیں تو سب سے پہلے ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے۔ قرآن اپنے آپ کو محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کا مکمل سرچشمہ قرار دیتا ہے۔ سورہ مائدہ میں ارشاد ہوتا ہے: “آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔”

یہ آیت اسلامی فکر کی بنیادی آیات میں شمار ہوتی ہے۔ اگر دین مکمل ہو چکا تھا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تکمیل کا مرکز کیا تھا؟ اس وقت موجود چیز قرآن تھی۔ بعد کے صدیوں میں مرتب ہونے والی حدیث کی کتابیں، فقہی مجموعے، کلامی مباحث اور تفسیری ذخائر اس وقت موجود نہیں تھے۔ اس لیے کم از کم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ دین کی تکمیل کا اعلان کس بنیاد پر کیا گیا؟

اسی طرح سورہ نحل میں قرآن اپنے بارے میں کہتا ہے: “ہم نے تم پر یہ کتاب نازل کی جو ہر چیز کی وضاحت ہے۔”

یہاں ایک اہم نکتہ قابل غور ہے۔ اگر قرآن خود کو ہر چیز کی وضاحت قرار دے رہا ہے تو اس وضاحت کی حدود کیا ہیں؟ روایتی علماء عموماً کہتے ہیں کہ اس سے مراد دین کے بنیادی اصول ہیں، تمام جزئیات نہیں۔ جبکہ بعض دوسرے اہل فکر کہتے ہیں کہ جب قرآن خود اپنی جامعیت بیان کر رہا ہے تو کم از کم بنیادی عقائد اور نجات کے لیے ضروری تمام امور اس میں واضح ہونے چاہئیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہماری پوری تحقیق شروع ہوتی ہے۔

جب ہم مسلمانوں کی موجودہ مذہبی دنیا کو دیکھتے ہیں تو ہمیں دو بڑے ذخیرے نظر آتے ہیں۔ ایک قرآن اور دوسرا حدیث و روایت کا ذخیرہ۔ عملی طور پر آج کے مذہبی نظام میں اکثر مسائل حدیث کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ نماز کی تفصیلات، عقائد کی بہت سی تشریحات، قیامت کی علامات، مہدی، دجال، قبر کا عذاب، شفاعت کی تفصیلات، نزول عیسیٰ، منکر نکیر، پل صراط، حوض کوثر اور بے شمار موضوعات بنیادی طور پر روایات کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ یہ روایات درست ہیں یا غلط۔ سوال صرف یہ ہے کہ ان کی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ قرآن کے برابر دینی ماخذ ہیں یا قرآن کے بعد ثانوی درجے کی تشریحات ہیں؟

قرآن خود اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

سورہ انعام میں ارشاد ہوتا ہے: “کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں حالانکہ اسی نے تمہاری طرف یہ مفصل کتاب نازل کی ہے۔”

لفظ “مفصل” یعنی تفصیل سے بیان کی گئی کتاب۔ اسی طرح سورہ اعراف میں حکم دیا گیا: “جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔”

یہ آیات ایک بنیادی اصول قائم کرتی ہیں کہ اصل مرجع اور بنیادی ماخذ اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے۔

یہاں بعض علماء فوراً سورہ حشر کی آیت پیش کرتے ہیں: “رسول تمہیں جو دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔”

روایتی نقطہ نظر میں یہ آیت حدیث کی حجیت کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ لیکن بعض محققین کہتے ہیں کہ اس آیت کا سیاق جنگی اموال اور اجتماعی نظم سے متعلق ہے، نہ کہ دو سو سال بعد مرتب ہونے والے حدیثی ذخیرے سے۔

اس اختلاف سے قطع نظر ایک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ قرآن میں کہیں بھی “صحیح بخاری”، “صحیح مسلم”، “سنن ابو داؤد” یا کسی بعد کے حدیثی مجموعے کا نام نہیں لیا گیا۔ اس لیے ان کی دینی حیثیت کا تعین بعد کے علماء نے کیا، خود قرآن نے نہیں۔

یہ بات بھی تاریخی طور پر اہم ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد تقریباً ڈیڑھ سے دو صدیوں تک حدیث کی باقاعدہ تدوین جاری رہی۔ اس دوران مختلف علاقوں میں مختلف روایات گردش کرتی رہیں۔ پھر محدثین نے ان روایتوں کو جمع کیا، ان کی اسناد پر تحقیق کی اور انہیں مختلف درجات میں تقسیم کیا۔

یہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم علمی کارنامہ تھا، لیکن اس کے باوجود ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قرآن اور حدیث کی تاریخی حیثیت ایک جیسی نہیں۔ قرآن رسول اللہ کی زندگی میں ہی محفوظ اور اجتماعی طور پر معروف متن بن چکا تھا جبکہ حدیث کی تدوین بعد میں ہوئی۔

یہ فرق اپنی جگہ ایک علمی حقیقت ہے۔

اب اگر ہم صرف قرآن کو سامنے رکھ کر دین کا خاکہ بنائیں تو ہمیں سب سے پہلے کیا چیزیں نظر آتی ہیں؟

سب سے نمایاں عقیدہ توحید ہے۔

قرآن کا مرکزی موضوع اللہ کی وحدانیت ہے۔ سینکڑوں آیات انسان کو ایک خدا کی بندگی کی دعوت دیتی ہیں۔ اس کے بعد رسالت کا تصور آتا ہے۔ پھر آخرت، حساب، جنت، جہنم، اخلاق، عدل، احسان، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کا ذکر آتا ہے۔

یہ تمام موضوعات قرآن میں انتہائی وضاحت کے ساتھ موجود ہیں۔

لیکن اب ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے۔

کیا قرآن میں مہدی کا نام موجود ہے؟

نہیں۔

کیا قرآن میں دجال کا لفظ موجود ہے؟

نہیں۔

کیا قرآن میں منکر نکیر کے نام موجود ہیں؟

نہیں۔

کیا قرآن میں قبر کے سوالات کی تفصیلی گفتگو موجود ہے؟

نہیں۔

کیا قرآن میں پل صراط کا وہ تصور موجود ہے جو بعد کی روایات میں ملتا ہے؟

واضح طور پر نہیں۔

کیا قرآن میں قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد کی تفصیل موجود ہے؟

یہ موضوع محل اختلاف ہے، لیکن کم از کم وہ تفصیل موجود نہیں جو روایات میں بیان کی جاتی ہے۔

یہ تمام چیزیں مسلمانوں کے مذہبی شعور کا حصہ ہیں، لیکن ان کی تفصیلات بنیادی طور پر روایتی ذخیرے سے حاصل ہوتی ہیں۔

یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص صرف قرآن پڑھ کر مسلمان بن جائے اور اس نے کبھی حدیث کی کتاب نہ دیکھی ہو تو کیا وہ مہدی، دجال، قبر کے عذاب، منکر نکیر اور نزول عیسیٰ کے موجودہ روایتی تصورات تک پہنچ سکے گا؟

یہ سوال ہماری پوری سیریز کا مرکزی سوال ہے۔

اس کا مقصد کسی عقیدے کی تردید نہیں بلکہ اس کی بنیاد کا تعین کرنا ہے۔

قرآن بار بار انسان کو اپنی ذات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہر انسان اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔ کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔

یہ انفرادی جواب دہی قرآن کے سب سے طاقتور اصولوں میں سے ایک ہے۔

قرآن کی دعوت بنیادی طور پر اخلاقی اور روحانی اصلاح کی دعوت ہے۔ وہ انسان کو سچ بولنے، انصاف کرنے، ظلم سے بچنے، یتیموں کا حق ادا کرنے، وعدہ پورا کرنے، تکبر سے بچنے اور اللہ کے سامنے جواب دہ ہونے کا شعور دیتا ہے۔

جب ہم قرآن کے اس بنیادی پیغام کا مطالعہ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کا اصل زور مستقبل کی پراسرار شخصیات پر نہیں بلکہ موجودہ زندگی میں انسان کے کردار پر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ انسان کیا عمل کر رہا ہے، نہ کہ وہ مستقبل کی کون سی علامتوں کا انتظار کر رہا ہے۔

شاید اسی لیے قرآن اپنے ماننے والوں کو یہ نہیں کہتا کہ مہدی کے انتظار میں بیٹھ جاؤ، یا دجال کی تفصیلات یاد کرو، یا آنے والے فتنوں کے نقشے بناؤ۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ نماز قائم کرو، انصاف کرو، سچ بولو، ظلم سے بچو اور آخرت کی تیاری کرو۔

یہ وہ مقام ہے جہاں سے ہماری پوری تحقیق شروع ہوتی ہے۔

اگلی قسط میں ہم ایک ایسے عقیدے کا جائزہ لیں گے جس پر تقریباً تمام مسلم مکاتب فکر متفق نظر آتے ہیں، لیکن جب ہم صرف قرآن کو معیار بناتے ہیں تو کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں۔ وہ عقیدہ ہے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی دوبارہ آمد کا عقیدہ۔

کیا قرآن واقعی یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ قیامت سے پہلے دوبارہ زمین پر آئیں گے؟

یا یہ تصور بنیادی طور پر بعد کی روایات سے تشکیل پایا؟

اگلی قسط میں ہم اسی سوال کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *