قرآنِ مجید میں حضرت جبریل علیہ السلام کا مقام و مرتبہ
حضرت جبریل علیہ السلام کا ذکر قرآنِ مجید میں غیر معمولی عظمت، رفعت اور جلال کے ساتھ کیا گیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ترین فرشتوں میں سے ہیں، جنہیں ربِ کائنات نے اپنی وحی کا امین اور انبیاءِ کرام علیہم السلام تک اپنے پیغام کی ترسیل کا ذریعہ بنایا۔ قرآنِ مجید میں جہاں بھی حضرت جبریل علیہ السلام کا ذکر آیا ہے وہاں ان کی نسبت براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے، نہ کہ کسی انسان، خاندان یا جماعت کی طرف۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کا مطالعہ کرنے والا شخص اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام کا اصل منصب “عبدیتِ الٰہی” اور “اطاعتِ ربانی” ہے، اور انہیں کسی انسان—even اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام—کا ذاتی نوکر یا تابع قرار دینا قرآنی اصول کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “کہہ دو: جو کوئی جبریل کا دشمن ہے تو اس نے اسے آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے نازل کیا ہے، جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا اور مومنوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے۔” (البقرۃ: 97)۔ اس آیتِ کریمہ میں “بِإِذْنِ اللّٰهِ” کے الفاظ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ حضرت جبریل علیہ السلام وحی کو اپنی مرضی سے نازل نہیں کرتے بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس خدمت کو انجام دیتے ہیں۔ ان کا تعلق براہِ راست بارگاہِ الٰہی سے ہے اور ان کی پوری اطاعت اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔
قرآنِ مجید نے حضرت جبریل علیہ السلام کو “روحُ الامین” اور “روحُ القدس” جیسے عظیم القابات سے یاد کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “اسے روحُ الامین لے کر اترا ہے، آپ کے دل پر تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوں۔” (الشعراء: 193-194)۔ اسی طرح فرمایا: “کہہ دو اسے روحُ القدس نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے۔” (النحل: 102)۔ یہ دونوں آیات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام اللہ کے پیغام کے امین ہیں۔ ان کی امانت، طہارت اور رفعتِ مقام کا تعلق براہِ راست اللہ تعالیٰ کے انتخاب سے ہے۔ قرآن نے ان کے منصب کو وحی کے ابلاغ اور حق کی تائید کے ساتھ وابستہ کیا ہے، نہ کہ کسی مخلوق کی ذاتی خدمت کے ساتھ۔
سورۃ التکویر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کے مقام کو مزید واضح انداز میں بیان فرمایا: “بے شک یہ ایک بزرگ رسول کا قول ہے، جو قوت والا ہے، عرش والے کے نزدیک بلند مرتبہ رکھتا ہے، وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے اور وہ امانت دار ہے۔” (التکویر: 19-21)۔ اس آیت میں حضرت جبریل علیہ السلام کو “رسولٍ کریم”، “ذی قوۃ”، “مکین” اور “امین” قرار دیا گیا ہے۔ “مطاعٍ ثم امین” کے الفاظ اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ ملاءِ اعلیٰ میں ان کی اطاعت کی جاتی ہے اور وہ اللہ کے حضور امانت دار ہیں۔ یہ مقام کسی عام مخلوق کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب فرشتے کا مقام ہے۔ ایسی ہستی کو کسی انسان کا “نوکر” قرار دینا قرآن کے بیان کردہ ادب اور عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
قرآنِ مجید ملائکہ کے متعلق ایک عمومی اصول بھی بیان کرتا ہے: “بلکہ وہ معزز بندے ہیں، وہ اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرتے اور اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔” (الانبیاء: 26-27)۔ اسی طرح فرمایا: “وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔” (التحریم: 6)۔ ان آیات سے یہ بات قطعی طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ تمام فرشتے، بشمول حضرت جبریل علیہ السلام، صرف اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ ان کی عبدیت، اطاعت اور خوف کا مرکز صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ وہ کسی انسان کی ذاتی ماتحتی میں نہیں بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کے امر کے تابع ہیں۔
بعض حلقوں میں محبت اور عقیدت کے اظہار کے طور پر یہ جملہ کہا جاتا ہے کہ “جبریل آلِ رسول کے نوکر ہیں”۔ بظاہر اس جملے کا مقصد اہلِ بیتِ اطہار کی فضیلت بیان کرنا ہوتا ہے، لیکن عقیدے کے باب میں الفاظ کی اہمیت غیر معمولی ہوتی ہے۔ “نوکر” یا “غلام” کا لفظ ذاتی تابع داری، ماتحتی اور خدمت کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہ عقیدہ قائم کیا جائے کہ حضرت جبریل علیہ السلام کسی انسان یا خاندان کے ذاتی خادم ہیں تو یہ قرآن کے اس اصول سے ٹکراتا ہے کہ ملائکہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں۔
اہلِ بیتِ اطہار کی محبت یقیناً ایمان کا حصہ ہے۔ قرآنِ مجید نے ان کی طہارت اور فضیلت کو بیان کیا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ان سے محبت کی تاکید فرمائی ہے۔ لیکن اہلِ بیت کی محبت کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ایسا مقام دے دیا جائے جو قرآن نے ان کے لیے بیان نہیں کیا۔ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ اپنی نسبت اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رسول اللہ ﷺ کی غلامی کی طرف کی۔ یہی اہلِ بیت کا اصل منہج تھا: توحید، عبدیت اور اعتدال۔
نبی کریم ﷺ نے امت کو غلو سے بھی سختی سے منع فرمایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “میرے بارے میں اس طرح غلو نہ کرو جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابنِ مریم کے بارے میں غلو کیا۔” اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت اگر حدود سے تجاوز کر جائے تو عقیدہ خراب ہو جاتا ہے۔ جب خود نبی کریم ﷺ کے بارے میں غلو سے منع کیا گیا تو کسی فرشتے کو کسی انسان کا ذاتی خادم قرار دینا کس طرح درست ہو سکتا ہے؟
یہ بھی درست ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ کی مدد کی، وحی لائی، اور اللہ کے حکم سے بدر سمیت مختلف مواقع پر اہلِ ایمان کی نصرت فرمائی، لیکن یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا۔ قرآن ہر مقام پر یہی کہتا ہے کہ ملائکہ “بِإِذْنِ اللّٰهِ” کام کرتے ہیں۔ ان کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔
اس مسئلے میں اعتدال یہی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام کی عظمت اور اہلِ بیتِ اطہار کی فضیلت دونوں کو قرآن و سنت کے مطابق تسلیم کیا جائے، مگر کسی کی فضیلت بیان کرنے کے لیے دوسرے کی حیثیت کو کم نہ کیا جائے۔ حضرت جبریل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، روحُ الامین اور وحی کے امین ہیں۔ ان کا مقام قرآن نے واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ اسی طرح اہلِ بیتِ اطہار امت کی معزز اور مقدس ہستیاں ہیں، مگر ان کے احترام کا تقاضا یہ نہیں کہ ملائکہ کی نسبت ان کی طرف اس انداز سے کی جائے جو قرآنی اصول سے متصادم ہو۔
درست اسلامی عقیدہ یہی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام صرف اللہ تعالیٰ کے بندے اور اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ وہ نہ کسی انسان کے مالک ہیں اور نہ کسی انسان کے ذاتی نوکر۔ ان کی اصل نسبت ربِ العالمین کی طرف ہے، اور یہی نسبت ان کی عظمت، شرف اور مقام کی بنیاد ہے۔ عقیدت اگر قرآن و سنت کی حدود میں رہے تو باعثِ نجات ہے، اور اگر غلو کی شکل اختیار کر لے تو یہی عقیدت انسان کو اعتدال کے راستے سے دور کر دیتی ہے۔
مزمل حسین چیمہ