دینی فکر کا ارتقاء: متن سے روایت تک : قسط نمبر 2 | مزمل حسین چیمہ

دینی فکر کا ارتقاء: متن سے روایت تک

قسط نمبر 2: نزولِ عیسیٰ — قرآن کا بیانیہ کیا کہتا ہے؟

اگر ہم صرف قرآن کو معیار بنائیں اور تمام روایات، تفاسیر اور بعد کی مذہبی تعبیرات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر مطالعہ کریں تو حضرت عیسیٰ ابن مریم کا معاملہ ان موضوعات میں سے ایک بن جاتا ہے جن کے بارے میں روایتی اور قرآنی بیانیے کے درمیان فرق محسوس کیا جا سکتا ہے۔ آج دنیا کے اربوں مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر موجود ہیں، قیامت سے پہلے دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے، چالیس سال حکومت کریں گے اور پھر وفات پائیں گے۔ یہ عقیدہ اتنا عام ہے کہ بہت سے لوگ اسے اسلام کے قطعی اور بنیادی عقائد میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن جب سوال کیا جائے کہ قرآن میں یہ تفصیلات کہاں موجود ہیں تو بحث کا ایک نیا دروازہ کھل جاتا ہے۔

قرآن میں حضرت عیسیٰ کا ذکر تقریباً پچیس مرتبہ آیا ہے۔ ان کی ولادت، معجزات، دعوت، بنی اسرائیل کے ساتھ ان کے معاملات اور ان کے بارے میں یہودیوں اور عیسائیوں کے عقائد پر تفصیلی گفتگو موجود ہے۔ قرآن ان کی عظمت اور نبوت کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ سورۂ آل عمران میں ان کی پیدائش کا واقعہ بیان ہوتا ہے، سورۂ مریم میں ان کی ولادت کا معجزہ ذکر کیا جاتا ہے، سورۂ مائدہ میں ان کی دعوت اور معجزات کا تذکرہ ملتا ہے اور سورۂ نساء میں ان کے قتل اور صلیب کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔

لیکن ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی ان تمام آیات میں کہیں بھی یہ جملہ موجود نہیں کہ حضرت عیسیٰ قیامت سے پہلے دوبارہ زمین پر آئیں گے۔

روایتی علماء اس مقام پر فوراً اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن میں ہر چیز لفظ بہ لفظ بیان نہیں کی گئی۔ ان کے نزدیک بہت سے عقائد کی تفصیلات حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ روایتی اسلامی علم کا پورا ڈھانچہ اسی اصول پر قائم ہے۔ لیکن ہمارا سوال مختلف ہے۔ ہم یہ نہیں پوچھ رہے کہ روایات کیا کہتی ہیں، بلکہ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص صرف قرآن پڑھے تو کیا وہ لازماً حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد کے عقیدے تک پہنچے گا؟

سب سے پہلے ہمیں اس آیت کو دیکھنا چاہیے جس پر سب سے زیادہ بحث ہوتی ہے۔ سورۂ آل عمران میں اللہ فرماتا ہے:

“إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ”

یعنی “میں تمہیں وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔”

یہ آیت صدیوں سے اختلاف کا مرکز رہی ہے۔ روایتی مفسرین کی بڑی تعداد کہتی ہے کہ یہاں “متوفیک” سے مراد حقیقی وفات نہیں بلکہ نیند یا جسمانی طور پر دنیا سے اٹھا لیا جانا ہے۔ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر موجود ہیں اور مستقبل میں واپس آئیں گے۔

دوسری طرف بعض مفسرین اور جدید محققین کہتے ہیں کہ قرآن میں “توفی” کا لفظ عموماً وفات کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اس لیے آیت کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو وفات دی اور پھر اپنے قرب و مقام کی طرف بلند کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن خود اس اختلاف کو کھول کر حل نہیں کرتا۔ قرآن صرف اتنا بتاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کو دشمن قتل نہ کر سکے اور اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ لیکن یہ نہیں بتاتا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں، کس حالت میں ہیں اور کب واپس آئیں گے۔

ایک دوسری اہم آیت سورۂ نساء میں ہے:

“وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِن شُبِّهَ لَهُمْ”

“انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ صلیب دی، بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ کر دیا گیا۔”

اس آیت کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا انجام وہ نہیں ہوا جو ان کے دشمن سمجھ رہے تھے۔ لیکن یہاں بھی دوبارہ آمد کا کوئی ذکر نہیں۔

اس کے بعد روایتی علماء سورۂ زخرف کی ایک آیت پیش کرتے ہیں:

“وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ”

ترجمہ: “اور بے شک وہ قیامت کی ایک نشانی ہے۔”

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں “وہ” سے مراد حضرت عیسیٰ ہیں اور ان کا نزول قیامت کی نشانی ہوگا۔ لیکن دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں اشارہ قرآن یا خود قیامت کے علم کی طرف ہے۔ یعنی اس آیت کی تفسیر میں بھی اتفاق نہیں۔

اگر قرآن واقعی حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد کو ایمان کا بنیادی عقیدہ بنانا چاہتا تو کیا وہ اسے اتنی غیر واضح زبان میں بیان کرتا؟ قرآن توحید، رسالت، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور آخرت کے بارے میں نہایت واضح زبان استعمال کرتا ہے۔ اگر نزولِ عیسیٰ بھی اسی درجے کا بنیادی عقیدہ ہوتا تو اس کی وضاحت بھی اسی انداز میں ہونی چاہیے تھی۔

اب ذرا ایک اور زاویے سے غور کیجیے۔

قرآن تمام انبیاء کے بارے میں ایک عمومی اصول بیان کرتا ہے:

“وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ”

“محمد ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔”

قرآن کا عمومی بیانیہ یہ ہے کہ انبیاء آتے ہیں، اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہیں اور پھر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ نوح، ابراہیم، موسیٰ، ہارون، یوسف، داؤد، سلیمان اور دیگر تمام انبیاء کے بارے میں یہی اصول بیان کیا گیا ہے۔ صرف حضرت عیسیٰ کے معاملے میں روایتی عقیدہ ایک استثنا پیش کرتا ہے کہ وہ دو ہزار سال سے زندہ ہیں اور دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔

یہ عقیدہ درست ہے یا نہیں، یہ الگ بحث ہے۔ لیکن یہ ضرور قابل غور ہے کہ قرآن خود اس استثنا کو واضح طور پر بیان نہیں کرتا۔

قرآن کی توجہ حضرت عیسیٰ کی شخصیت سے زیادہ ان کے پیغام پر ہے۔ وہ بار بار ان کی زبان سے یہ اعلان نقل کرتا ہے:

“إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ”

“بے شک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔”

یہی حضرت عیسیٰ کی دعوت کا خلاصہ ہے۔ قرآن میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے دوبارہ آنے کا انتظار کرو یا ان کی واپسی کو نجات کا ذریعہ سمجھو۔

قیامت کے منظر میں بھی قرآن حضرت عیسیٰ کو اللہ کے سامنے جواب دہ بندے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سورۂ مائدہ میں اللہ پوچھے گا:

“کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لو؟”

حضرت عیسیٰ جواب دیں گے:

“میں نے ان سے وہی کہا جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔”

یہ مکالمہ بہت معنی خیز ہے۔ یہاں حضرت عیسیٰ کی مستقبل کی واپسی کا ذکر نہیں بلکہ ان کی اصل دعوت کا ذکر ہے۔

اگر ہم صرف قرآن کی بنیاد پر ایک تصویر بنائیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے عظیم رسول ہیں، معجزاتی پیدائش رکھتے ہیں، بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے، ان کے دشمن انہیں قتل نہ کر سکے، اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور قیامت کے دن وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے۔ یہ سب قرآن میں موجود ہے۔

لیکن دجال کو قتل کرنا، صلیب توڑنا، خنزیر کو ختم کرنا، عالمی حکومت قائم کرنا اور مخصوص جغرافیائی مقامات پر نزول کرنا — یہ تمام تفصیلات قرآن میں موجود نہیں۔ یہ سب روایتی ذخیرے سے آتی ہیں۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف قرآن پڑھے تو کیا وہ حضرت عیسیٰ کی نبوت، عظمت اور مقام پر ایمان لا سکتا ہے؟ یقیناً لا سکتا ہے۔ لیکن کیا وہ لازماً ان تمام تفصیلی عقائد تک بھی پہنچے گا جو بعد کی روایات میں ملتے ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جسے اس سیریز میں بار بار سامنے رکھا جا رہا ہے۔

شاید اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ قرآن انسان کو مستقبل کی شخصیات کے انتظار کے بجائے اپنے موجودہ عمل پر توجہ دینے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن کی دعوت یہ نہیں کہ نجات کسی آنے والی شخصیت کے ذریعے ملے گی، بلکہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔

حضرت عیسیٰ خود قرآن میں یہی پیغام دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو، تقویٰ اختیار کرو اور سیدھے راستے پر چلو۔ قرآن میں ان کا مقام ایک عظیم رسول کا ہے، لیکن قرآن کی اصل توجہ ان کے دوبارہ آنے پر نہیں بلکہ ان کے پیغام پر ہے۔

اسی مقام پر ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔ اگر قرآن میں حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد کی تفصیل موجود نہیں، تو پھر وہ عالمی نجات دہندہ کون ہے جس کے بارے میں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کا عقیدہ ہے کہ وہ قیامت سے پہلے دنیا میں عدل قائم کرے گا؟

یہ سوال ہمیں اگلی قسط کی طرف لے جاتا ہے، جہاں ہم امام مہدی کے تصور کا جائزہ لیں گے۔ کیا قرآن میں کسی مہدی کا ذکر موجود ہے؟ کیا قرآن مسلمانوں کو کسی آنے والے رہنما کے انتظار کی تعلیم دیتا ہے؟ یا یہ تصور بنیادی طور پر بعد کی روایات اور تاریخی حالات سے تشکیل پایا؟

اگلی قسط میں ہم اسی موضوع کا تفصیلی مطالعہ کریں گے۔

مزمل حسین چیمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *