ایک مشاعرہ، کئی ملاقاتیں اور شعر کا ایک شہر

مہوش لاشاری

مہوش لاشاری

تخلیق کار

کچھ مشاعرے ختم ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔
ان کی محفل اٹھ جاتی ہے، کرسیاں خالی ہو جاتی ہیں، آوازیں اپنے اپنے شہروں کو لوٹ جاتی ہیں، مگر کچھ مصرعے، کچھ چہرے اور کچھ ملاقاتیں دیر تک ساتھ چلتی رہتی ہیں۔ 24 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والا کل پاکستان مشاعرہ میرے لیے بھی ایسی ہی ایک شام تھی۔
لاہور سے اسلام آباد کا سفر ویسے ہی ایک سفر تھا، مگر اس روز راستے آسان نہیں تھے۔ شہر احتجاج کی زد میں تھا، راستے بند تھے، کنٹینر کھڑے تھے اور حالات کسی ادبی اجتماع کے لیے زیادہ سازگار دکھائی نہیں دیتے تھے۔ لیکن شاید ادب کی اپنی ایک ضد ہوتی ہے۔ راستے بند ہوں تو بھی شعر اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔
ہم پہنچے، مشاعرہ ہوا، اور خوب ہوا۔
یہ مشاعرہ “اُردو ہے جس کا نام“ کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، اکادمی ادبیاتِ پاکستان اسلام آباد۔ تقریب کی صدارت معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر وحید احمد نے کی۔ ڈاکٹر وحید احمد کی موجودگی نے محفل کو ایک خاص ادبی وقار عطا کیا؛ ان کی اپنی شعری شناخت اور طویل ادبی وابستگی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
ڈاکٹر ایچ یو خان چشم براہ رہے اور ناصر علی ناصر نے میزبانی کی ذمہ داری سنبھالی۔ نظامت کے فرائض دل نواز اور ناصر علی ناصر نے انجام دیے۔ کسی بڑے مشاعرے کا انتظام صرف اسٹیج، مائیک اور نشستوں کا نام نہیں ہوتا؛ اصل انتظام تو ان تمام چھوٹی بڑی ذمہ داریوں کو نبھانے کا نام ہے جو سامع کو دکھائی بھی نہیں دیتیں۔ اس حوالے سے پوری انتظامیہ کی محنت نمایاں محسوس ہوئی۔
میرے لیے اس مشاعرے کی اصل اہمیت اس بات میں نہیں کہ اسٹیج پر کتنے نام تھے، بلکہ اس میں تھی کہ کتنی مختلف شعری آوازیں ایک ہی شام میں ایک دوسرے کے روبرو تھیں۔ اختر عثمان، مقصود وفا، اعجاز خان ساحر، عماد اظہر، شہزاد نیئر، علمدار حسین نقوی، ڈاکٹر علی کُمیل قزلباش، علی عارف، مظہر حسین سید، خضر سلیم اور ظفر اقبال شاہین جیسے اہلِ قلم کی شرکت نے محفل کو ایک وسیع ادبی منظرنامہ عطا کیا۔
اور پھر ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے شعراء و شاعرات—فرح رضوی، مہوش لاشاری، ضیغم عباس گوندل، عروج درانی، حسن علی طاہر، شفقت حیات شفق، ڈاکٹر مظہر اقبال، حسن ظہیر راجہ، قمر عباس، ذاکر الرحمن، نرگس جہانزیب، شازیہ اکبر، شاہد اقبال، رباب ماہی، سید ناصر مستجاب، عدنان نصیر، حامد تنویر، احسن صارم، حسن امیر، حسیب علی، علی رضا، راشدہ کنول اور احسن صائم سمیت بہت سے اہلِ سخن—اپنے اپنے لہجے اور اپنے اپنے شعری تجربے کے ساتھ اس شام کا حصہ تھے۔
شاید یہی اس مشاعرے کی سب سے خوب صورت بات تھی کہ یہاں پاکستان صرف نقشے پر موجود ایک ملک نہیں تھا، بلکہ اپنے مختلف شعری لہجوں کے ساتھ ایک ہی محفل میں موجود تھا۔ پنجاب سے سندھ، خیبر پختونخوا سے بلوچستان، گلگت بلتستان سے آزاد کشمیر تک مختلف علاقوں کے شعراء کی شرکت نے محفل کو واقعی ایک کل پاکستان رنگ دے دیا تھا۔
ہر شاعر اپنے ساتھ اپنے شہر کا موسم، اپنی مٹی کی خوشبو اور اپنے تجربے کا ایک الگ رنگ لے کر آیا تھا۔ کسی کے شعر میں محبت تھی، کسی میں ہجرت، کسی میں سماج کی تلخی، کسی میں زندگی کا تجربہ اور کسی کے ہاں انسانی احساسات کی وہ نزاکت جو شعر کو محض شعر نہیں رہنے دیتی۔
اس پورے اجتماع کے پیچھے ناصر علی ناصر کی محنت نمایاں تھی۔ مختلف شہروں سے شعراء کو جمع کرنا، رابطے قائم رکھنا، مہمانوں کی میزبانی اور پھر ایک ایسے دن میں مشاعرے کو ممکن بنانا جب شہر کے حالات معمول کے مطابق نہ ہوں، معمولی کام نہیں۔ ایسے کام اسٹیج پر شاید دکھائی نہیں دیتے، مگر مشاعرے کی کامیابی کے پیچھے اکثر یہی غیرمرئی محنت کھڑی ہوتی ہے۔ ناصر علی ناصر کے لیے اس حوالے سے جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔
ڈاکٹر ایچ یو خان کی کاوش بھی اپنی جگہ قابلِ احترام ہے کہ انہوں نے اس ادبی اجتماع کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنے میں کردار ادا کیا جہاں ملک کے مختلف حصوں سے اہلِ سخن ایک دوسرے کے روبرو آ سکے۔
اور پھر بعض ملاقاتیں کسی بھی مشاعرے کی ذاتی یاد کو الگ معنی دے دیتی ہیں۔
مقصود وفا صاحب سے ملاقات میرے لیے اسی طرح کی ایک خوشی تھی۔ ایک مدت سے ان سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ انہیں پڑھا بھی، سنا بھی، مگر بالمشافہ ملاقات کا اپنا لطف ہے۔ بعض شاعر کتاب سے نکل کر سامنے آئیں تو احساس ہوتا ہے کہ شعر اور شاعر کے درمیان جو فاصلہ ہم سمجھتے ہیں، وہ اتنا بھی نہیں ہوتا۔
ناصر علی ناصر کی وساطت سے یہ ملاقات ممکن ہوئی اور یوں اس مشاعرے کی ایک یاد میرے لیے شعر سے آگے بڑھ کر ایک شخصی حوالہ بھی بن گئی۔ مقصود وفا صاحب کی گفتگو، ان کی شائستگی اور ادبی شعور نے اس ملاقات کو میرے لیے مزید خوب صورت بنا دیا۔
جرار، ضیغم، ، شہزاد نئیر، عروج درانی اور دوسرے دوستوں کے ساتھ گزرا ہوا وقت بھی اس شام کا حصہ رہا۔ شاید یہی مشاعروں کی ایک خوب صورت روایت ہے کہ آدمی شعر سننے جاتا ہے اور واپسی پر اپنے ساتھ کچھ نئی قرابتیں، کچھ تازہ گفتگوئیں اور کچھ یاد رہ جانے والی ساعتیں لے آتا ہے۔
اور اس شام نذر عباس نے اپنی بولیوں سے جو سماں باندھا، اسے الگ سے یاد نہ کیا جائے تو یہ روداد ادھوری رہے گی۔ ان کی بولیوں میں جو درد، مٹھاس اور مٹی کی خوشبو تھی، اس نے محفل کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دلوں کو چھو لیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ محفل کی فضا میں جذبات اس قدر گہرے ہو گئے کہ آنکھیں بھیگ گئیں۔
بھئی کیا بات ہے نذر عباس پیارے! سلامت رہو۔
ایک شاعرہ کی حیثیت سے مجھے مشاعرے کی سب سے خوب صورت بات ہمیشہ یہ لگتی ہے کہ وہاں شعر اپنی تنہائی سے نکل کر اجتماعی تجربہ بن جاتا ہے۔ جو مصرع شاعر نے اکیلے میں لکھا تھا، وہ جب مختلف آوازوں، مختلف شہروں اور مختلف مزاج رکھنے والے لوگوں کے درمیان پڑھا جاتا ہے تو اس کے معنی بھی پھیلتے ہیں اور اس کی زندگی بھی۔
کل پاکستان مشاعرہ میرے لیے بھی اسی پھیلاؤ کا نام تھا۔
یہاں شعراء صرف اپنا کلام سنانے نہیں آئے تھے؛ یہاں ملاقاتیں بھی ہوئیں، نئے تعلق بنے، پرانے تعلقوں میں تازگی آئی، سینئر اہلِ قلم سے ملنے کا موقع ملا اور مختلف علاقوں سے آنے والے شعراء کو قریب سے سننے اور سمجھنے کا موقع بھی ملا۔
اور انتظامیہ کے لیے بھی دل سے یہ کہنا بنتا ہے کہ ایک اچھی ادبی محفل صرف اس وقت اچھی نہیں ہوتی جب اسٹیج پر چراغ روشن ہوں؛ اصل کامیابی تب ہوتی ہے جب دور سے آنے والا شاعر اپنے آپ کو مہمان نہیں بلکہ اہلِ خانہ محسوس کرے۔ اس حوالے سے اس مشاعرے میں جو خلوص اور اپنائیت محسوس ہوئی، وہ قابلِ تحسین ہے۔
“اُردو ہے جس کا نام“ کی پوری ٹیم، بالخصوص ڈاکٹر ایچ یو خان اور ناصر علی ناصر، اس خوب صورت کاوش پر یقیناً داد کے مستحق ہیں۔ اور ناصر علی ناصر کا خصوصی شکریہ کہ ان کی وساطت سے وہ ملاقات بھی ممکن ہوئی جس کا ایک مدت سے انتظار تھا۔
نہ ہر مشاعرہ یاد رہتا ہے، نہ ہر ملاقات۔
مگر کچھ شامیں اپنے اندر اتنی آوازیں سمیٹ لیتی ہیں کہ پھر خاموشی میں بھی ان کی بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے۔
یہ بھی ایک ایسی ہی شام تھی۔
ایک مشاعرہ،
کئی ملاقاتیں،
کئی لہجے،
بے شمار مصرعے—
اور شعر کا ایک پورا شہر۔
میرے لیے اس سفر کی ایک خوب صورت یاد یہ بھی رہے گی کہ ایک مدت کا اشتیاق ایک ملاقات میں بدل گیا، کچھ شعر چہروں سے جڑ گئے، کچھ چہرے یادوں سے، اور اسلام آباد کی ایک ادبی شام لاہور واپس آتے ہوئے میرے ساتھ چلتی رہی۔

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریر
Scroll to Top