کرب آرام سے ایجاد کیا جائے گا

مہوش لاشاری

مہوش لاشاری

تخلیق کار

کرب آرام سے ایجاد کیا جائے گا
خانہِ درد کو آباد کیا جائے گا

شاعری کا بھی تو الہام وحی جیسا ہے
بس خداوند کو استاد کیا جائے گا

جب مجھے لوگ بھلانے کی طرف آئیں گے
ایسے عالم میں تجھے یاد کیا جائے گا

ہجر رونے کی علامت سے نمایاں ہو گا
آنکھ کو صاحبِ اولاد کیا جائے گا

رتجگا اِس کی حفاظت نہیں کرنے والا
خواب کو نیند سے برباد کیا جائے گا

تجھ سے ڈرتے ہیں، تجھے قید کریں گے پہلے
مجھ کو پامال ترے بعد کیا جائے گا

لوگ اُس وقت سند یافتہ پاگل ہونگے
جب مرے شعروں کو اسناد کیا جائے گا

موت آئے گی تو اِس عشق سے جاں چھوٹے گی
اور مہوش مجھے آزاد کیا جائے گا

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top