فراغتوں کے یہ موسم گزر نہ جائیں کہیں
ہم اپنی اپنی اذیت میں مر نہ جائیں کہیں
بس ایک خوف نے حالت بگاڑ رکھی ہے
تمہاری چھت پہ پرندے اتر نہ جائیں کہیں
میں آج ان کی حقیقت ہوں مانتے ہیں مگر
حقیقتوں سے کسی دن مکر نہ جائیں کہیں
ہمیں بکھیرنے والو زرا سا دھیان رکھو
بکھر بکھر کے اچانک سنور نہ جائیں کہیں
ذہین شخص مہارت سے زخم دے ورنہ
ذہین لوگ بھی دل سے اتر نہ جائیں کہیں