خود سے میں قتل بھی ہو سکتی ہوں ان لمحوں میں

مہوش لاشاری

مہوش لاشاری

تخلیق کار

خود سے میں قتل بھی ہو سکتی ہوں ان لمحوں میں
مجھ کو خدشہ ہے کہ اب میرے قریں کوئی نہیں

صرف یہ بات نہیں ہے کہ یہیں کوئی نہیں
تو گیا ہے تو مری جان کہیں کوئی نہیں

پہلے سجدے کے تعاقب میں جبینیں نکلیں
اور اب سجدے تو کافی ہیں جبیں کوئی نہیں

وہ یہ کہتا ہے مرے نام کا ہے خواب کوئی؟
جب کہ میں بول چکی ہوں کہ نہیں کوئی نہیں

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top