انسان اگر اشرف المخلوقات ہے تو اس کے پسندیدہ مشروب (چائے) کو رئیس المشروبات کہنا بے جا نہ ہوگا۔ چائے مشروب سے بڑھ کر ایک نشہ ہے جس کے بغیر انسان کسی کام کا نہیں، دنیا بھر کے انسانوں کو صبح اٹھتے ہی جس چیز کی طلب ہوتی ہے وہ صرف اور صرف چائے ہے۔ چائے کا ایک کپ توانائی کا وہ خزانہ ہے جسے پیتے ہی انسان عملی کاموں کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے انسان ہر سال مل کر 6.8 بلین کلو گرام چائے پی جاتے ہیں جس سے چائے فروخت کرنے والی کمپنیوں کو 20.7 بلین ڈالر آمدنی ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں چائے محض مشروب نہیں یہ ایک مکمل تہذیب ہے۔ چائے کو بونے سے لے کر، اس کی پتیوں کو چننے، پتوں کو پتی میں تبدیل کرنے، مارکیٹنگ اور گھروں اور چائے خانوں میں اس کی پیشکش تک یہ ایک مکمل تہذیب ہے۔ گھروں میں ڈرائنگ روم تہذیب کا آغاز چائے ہی سے ہوا، آنے والے دنوں میں گھروں میں موجود ڈرائنگ رومز مجلسی زندگی کے آئینہ دار بن گئے اور چائے کے بغیر مہمان نوازی نامکمل سمجھی جانے لگی۔ چائے کی تہذیب نے ہزاروں سالوں کے دوران سماجی زندگی کی بنیادوں کو مضبوط کیا، محبت اور دوستی کے رشتوں کو مستحکم کیا، اجنبیت کو دوستی میں بدلا اور دنیا بھر کے انسانوں کے درمیان سماجی رابطوں کا بہترین ذریعہ بنی۔ دنیا بھر میں گھروں میں آنے والے مہمانوں کا پہلا استقبال چائے ہی کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس استقبال کو آنے والا مہمان عزت و احترام سے تعبیر کرتا ہے۔ بڑے بڑے بزنس مین کاروباری معاملات کو چائے کی میز پر طے کرتے ہیں کیونکہ چائے باہمی کشیدگی کو کم اور اعتماد کی فضا کو فروغ دیتی ہے یوں بڑے بڑے معاہدے خوش اسلوبی سے تشکیل پا جاتے ہیں۔
چائے کی تہذیب تخلیقی ذہن رکھنے والوں کی فکر کو متحرک رکھتی ہے۔ بڑے بڑے شاعر، ادیب، مصور، سنگ تراش، گائیک اور ڈیزائنر تخلیقی کام کے دوران چائے کو تخلیقی تحریک کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ادیبوں اور دیگر تخلیقی شخصیات کی زندگی چائے خانوں ہی میں پروان چڑھتی ہے؛ مشاعرے، مذاکرے، سیمینار اور مکالمے انہی چائے خانوں سے ظہور کرتے ہیں، فنونِ لطیفہ کی مختلف تحریکیں انہی چائے خانوں سے جنم لیتی ہیں، سیاسی، ادبی اور فلسفیانہ نظریاتیں جنم لیتے ہیں، سماجی انقلابات کے اولین نقشے تیار کیے جاتے ہیں۔
چائے سے انسان کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر قوم اسے الگ الگ ناموں سے پکارتی ہے۔ اس پسندیدہ مشروب کو اردو، چینی، ترکی اور روسی زبانوں میں چائے، فارسی میں چائے خطائی، عربی میں شائی، انگریزی میں ٹی، لاطینی میں کیمیلیا تھیفرا، پشتو میں ساؤ، سندھی میں چانھ اور پنجابی زبان میں چاء کا نام دیا گیا ہے۔
چائے عام لوگوں کا پسندیدہ مشروب تو ہے ہی مگر یہ تخلیقی دنیا سے وابستہ افراد کا بھی پسندیدہ مشروب ہے۔ ممنوعہ چشموں کے پانی کے بعد یہ دوسرا مشروب ہے جس نے اس قدر بڑے پیمانے پر تخلیق کاروں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ چین میں چائے کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ وہاں کے آرٹسٹوں نے مل کر ٹی آرٹ کو جنم دیا۔ دنیا بھر کے افسانوں، ناولوں، ڈراموں اور شاعری میں ہر کہیں سے چائے کی مہک اٹھ رہی ہے۔ شاعر اپنی نظموں اور غزلوں کے ذریعے چائے کو خراجِ تحسین پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں میں مختلف شعراء کے چائے کے حوالے سے چند اشعار درج کرنے جا رہا ہوں جن میں امید، اداسی، انتظار، توقعات، ارمانوں، حسرتوں اور تنہائیوں کے کیا کیا زاویے ابھارے گئے ہیں۔
تیرے ہاتھ کی چائے تو پی تھی
دل کا رنج تو دل میں رہا تھا (ناصر کاظمی)
اک چائے کی پیالی میں برابری بانٹ کر
اکثر کیا ہے فرض کہ تنہا نہیں ہوں میں (جون ایلیا)
شب ڈھلی اٹھنے لگے ہوٹل سے لوگ
چائے کا یہ دور اس کے نام پر (ناصر بشیر)
ہنس پڑی شام کی اداس فضا
اس طرح چائے کی پیالی ہنسی (بشیر بدر)
وہ چائے پی رہا تھا کسی دوسرے کے ساتھ
مجھ پر نگاہ پڑتے ہی کچھ جھینپ سا گیا (عادل مصوری)
بھاپ اڑ اڑ کے میری چائے سے
اس کا پیکر بناتی رہتی ہے (محمد علی ایاز)
میں اس کی چائے کی پیالی تھی لیکن
اسے پینے کی جرات ہی نہیں تھی (رخشاں ہاشمی)
جس طرح شراب کے متوالے اپنے پسندیدہ مشروب کی شان میں رطب اللسان نظر آتے ہیں اسی طرح چائے کے عشاق (جن میں ڈاکٹرز بھی شامل ہیں) بھی چائے کو کثیر الفوائد قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک چائے دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرتی ہے، ذہنی تناؤ اور بلڈ پریشر کو اعتدال پر لاتی ہے، فالج کے خطرے کو کم کرتی ہے، جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بناتی ہے، کینسر کے خطرے کو کم کر سکتی ہے، چائے آپ کی توجہ اور ذہنی ارتکاز کو مہمیز دیتی ہے، ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے اور پینے والے کو ذہنی سکون اور اطمینان عطا کرتی ہے۔ علاوہ ازیں چائے کے کچھ عمومی فائدے بھی ہیں مثلاً اس کی استعمال شدہ پتی گھر کے شیشے چمکانے کے کام آتی ہے، آپ اسے پودوں کے لیے بطور کھاد بھی استعمال کر سکتے ہیں اور یہ سر کے بالوں کو قدرتی چمک بھی عطا کر سکتی ہے۔
آج دنیا میں تین طرح کی چائے (سفید، سیاہ اور سبز) بہت مقبول ہے لیکن اس وقت دنیا میں ایک ہزار سے زائد اقسام کی چائے پی جاتی ہے۔ چائے کیمیلیا سیننس نامی پودے سے تیار کی جاتی ہے۔ انسان لاکھوں سالوں سے نہ صرف پودوں کو بطور غذا استعمال کر رہا ہے بلکہ ان کے پھلوں اور پتوں سے درجنوں اقسام کے مشروبات اور ادویہ بھی حاصل کرتا ہے۔ آج سے قریباً دس ہزار سال پہلے انسان نے اپنے ارد گرد اگنے والی گھاس کی بے شمار اقسام میں سے ایک گھاس (گندم) کو منتخب کر کے اس کی کاشت شروع کی اور آج ہماری غذا کا سب سے زیادہ انحصار گندم ہی پر ہے۔ اسی طرح چائے کے پودے (کیمیلیا سیننس) کی دریافت محض ایک اتفاق تھا مگر آج چائے دنیا بھر کے انسانوں کی اولین پسند ہے۔ کیا آپ نے بھی سوچا کہ دنیا کے اربوں انسانوں کو اپنی محبت میں گرفتار کر لینے والا یہ پودا آخر آیا کہاں سے اور سب سے پہلے کس نے، کب اور کہاں دریافت کیا؟ اس دریافت کی کہانی خاصی دلچسپ ہے۔
آج سے 4737 سال پہلے یعنی 2737 قبل مسیح میں چینی شہنشاہ شین ننگ شکار کے بعد ایک ایسے درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا جس کے چاروں اطراف میں کئی اقسام کے پودے لہلہا رہے تھے۔ بادشاہ کے قریب ہی اس کا غلام اس کے پینے کے لیے پانی ابالنے میں مصروف تھا کہ اچانک کیمیلیا سیننس نامی پودے کے چند پتے کھولتے ہوئے پانی میں جا گرے جس سے پانی کا رنگ اور ذائقہ تبدیل ہو گیا جو بادشاہ کو بے حد پسند آیا۔ اس نے مذکورہ پودے کے پتوں سے تیار ہونے والے مشروب کو اپنے دسترخوان کا مستقل حصہ بنا لیا اور اس مشروب کا نام Cha رکھا جس کے معنی پڑتال یا تفتیش کے ہیں۔ اس طرح غیر ارادی طور پر ایک نئے مشروب کی دریافت ہوئی۔ آنے والے دنوں میں چوتھی سے آٹھویں صدی عیسوی کے دوران چائے کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، پورے چین میں چائے کے باغات پھیل گئے جسے بیچ کر تاجروں نے خوب نفع کمایا۔ چائے جب ہر چینی کی ضرورت بن گئی تو ایسے میں حکومت آگے بڑھی اور اس نے اس کاروبار کی نگرانی کا فیصلہ کیا۔ اس نے چائے کی تجارت کے حوالے سے کچھ ضابطے متعارف کرائے جن میں سے ایک یہ تھا کہ چائے کی پتیاں صرف خواتین توڑیں گی اور ایسی خواتین کو لہسن، پیاز اور مصالحوں سے خود کو دور رکھنا ہوگا تاکہ ان خواتین کے بدبودار ہاتھ چائے کی پتیوں کو آلودہ نہ کر سکیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے چین میں چائے کی پتی کو کرنسی کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔
اسی زمانے میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب چائے چین کی سرحدوں کو عبور کر کے دوسرے ممالک تک جا پہنچی۔ چین سے باہر اس کی اگلی منزل جاپان تھی۔ نویں صدی عیسوی میں بدھ راہب ڈینگیو ڈائیسی چائے کے بیج اپنے ساتھ جاپان لائے اور یوں چائے جاپان کی خانقاہی زندگی کا ناگزیر حصہ بن گئی۔ یہاں کے راہبوں نے طویل مراقبوں کے دوران چوکنا رہنے اور روحانی ارتکاز کے لیے چائے کا استعمال شروع کیا؛ جلد ہی جاپان کے گھروں میں روزانہ کی بنیادوں پر چائے کی ایک مقدس تقریب منعقد کی جانے لگی جسے “چانو یو“ کہا جاتا ہے۔ قدیم جاپان میں چائے بنانے اور نوش کرنے کے عمل کو انتہائی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، ہر گھر کے پائیں باغ میں چائے نوشی کے لیے مخصوص کمرے بنائے جانے لگے۔ علاوہ ازیں کنواری خواتین کے لیے لازم قرار پایا کہ وہ شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے چائے بنانے میں مہارت حاصل کریں۔ آج کے جاپان میں بھی چائے، سماجی و ثقافتی زندگی کا لازمہ سمجھی جاتی ہے۔
1618ء میں اہل چین نے اپنے ہمسایہ ملک کے زارِ روس (الیکسس) کو پہلی بار چائے کا تحفہ بھیجا جسے پیتے ہی زارِ روس کے علاوہ اس کی عوام بھی اس نئے مشروب کے دیوانے ہو گئے۔ اس کے بعد ہر سال چائے سے لدے اونٹوں کے کاروان گیارہ ہزار میل کا فاصلہ طے کر کے روس میں داخل ہونے لگے۔ چائے کا کاروان یہ فاصلہ ڈیڑھ برس میں طے کرتا، ان اونٹوں میں ہر ایک پر چھ سو پاؤنڈ چائے لدی ہوتی۔ تمام تر سفری صعوبتوں کے باوجود چین اور روس کے مابین یہ تجارت صدیوں تک جاری رہی حتیٰ کہ 1903ء میں اونٹوں کی جگہ سائبیرین ریلوے نے لے لی اور اب ڈیڑھ سال پر محیط یہ فاصلہ صرف ایک ہفتے میں طے ہونے لگا۔
چین میں دریافت ہونے والا یہ مشروب اب نئی نئی سرزمینوں کو تسخیر کر رہا تھا۔ روس میں داخل ہونے سے پہلے 1610ء میں چائے پرتگالیوں اور ہالینڈ کے تاجروں کے ذریعے یورپ پہنچنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔ ہوا یوں کہ جب برطانوی بادشاہ چارلس دوم نے پرتگالی شہزادی کیتھرین آف بریکنزا سے شادی کی تو جہیز کے ساتھ برطانیہ آنے والے سامان میں چینی چائے کی پتی بھی موجود تھی۔ جلد ہی برطانوی شاہی خاندان اس نئے مشروب کے عشق میں گرفتار ہو گیا یوں چائے نے شاہی دربار میں مہمانوں کو پیش کیے جانے والے مشروبات میں اپنے لیے نمایاں جگہ بنا لی۔ رفتہ رفتہ چائے دربار سے نکل کر عوام میں مقبول ہوتی چلی گئی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب چائے نے برطانیہ کے قومی مشروب کا درجہ حاصل کر لیا۔
صبح کی چائے تو ہر کہیں معمول کا حصہ تھی مگر سہ پہر کی چائے کی ایجاد کا سہرا بیڈ فورڈ کی ساتویں ڈچز اینا کے سر جاتا ہے۔ اس ڈچز کو صبح کے ناشتے اور رات کے کھانے کے مابین کچھ کھانے کی طلب ہوتی تھی ایسے میں اس نے اپنی کنیز کو سہ پہر کے وقت چائے بنانے کا حکم دیا۔ یہ تجربہ نہ صرف خوشگوار رہا بلکہ آنے والے دنوں میں ان کی زندگی کا معمول بن گیا۔ یہیں سے اس شہزادی نے اپنے پسندیدہ دوستوں کو شام کی چائے پر مدعو کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ سلسلہ یہاں رکا نہیں بلکہ ایک رجحان بن کر تیزی سے معاشرے میں پھیلنے لگا۔ چائے کے کپ پر میل ملاقاتیں برطانیہ کی سماجی زندگی میں ایک خوشگوار تبدیلی کا پیش خیمہ بن گئیں۔ شام کی چائے نے نہ صرف نئی قربتوں کو جنم دیا بلکہ پہلے سے موجود رشتوں کو نئی توانائیاں بخشیں۔ ہائی ٹی جہاں مردانہ اشرافیہ کی ایجاد تھی، وہیں شام کی چائے ایک عورت کی سماجی زندگی اور موڈ کی نمائندگی کرتی تھی۔ 1652ء آتے آتے انگلینڈ میں چائے خانوں کا ظہور ہونے لگا، شام کی چائے پر ہر طرف انسانی تعلقات کے ساتھ ساتھ ادب کی داستانیں بھی پروان چڑھنے لگیں۔
پندرہویں صدی میں جب یورپی آباد کار امریکہ پہنچے تو چائے شمالی امریکہ میں پہلے سے موجود تھی۔ البتہ ان آباد کاروں نے چائے کی تقریبات میں یورپی آداب و روایات کا اضافہ ضرور کیا۔ اب نیویارک، ہوسٹن اور فلاڈیلفیا جیسے شہروں میں چائے کی تہذیب نئی بلندیوں سے آشنا ہونے لگی۔ برطانیہ کے ذریعے امریکہ پہنچنے والی چائے جب مقامی باشندوں میں بہت مقبولیت حاصل کر چکی تو برطانوی حکومت نے چائے پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا اور ٹیکس کی شرح بتدریج 119 فیصد تک بڑھا دی جس کے نتیجے میں امریکہ میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ امریکہ کی بندرگاہوں نے کسی بھی ٹیکس والے سامان کو ساحل پر اتارنے سے انکار کر دیا اور ازاں بعد اس تناظر میں بدنامِ زمانہ “بوسٹن ٹی پارٹی“ منعقد ہوئی جس میں برطانوی پارلیمنٹ کی طرف سے 1773ء میں منظور کردہ ٹی ایکٹ اور ٹیکس پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ 16 دسمبر 1773ء کی رات کو امریکی مظاہرین مقامی قبائلی باشندوں کا روپ دھار کر بندرگاہ پر کھڑے برطانوی جہازوں میں سوار ہو گئے اور انہوں نے برطانوی چائے سے بھرے 342 صندوق سمندر میں بہا دیے۔ اس احتجاج کے نتیجے میں امریکہ اور برطانیہ کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ ادھر برطانیہ نے امریکیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دیں اور یوں 1775ء میں امریکیوں نے باقاعدہ جنگِ آزادی کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر امریکی باشندوں نے برطانوی چائے کا بائیکاٹ کر دیا اور یوں چائے نہ پینا حب الوطنی کی علامت بن گیا۔
پندرہویں صدی میں چائے ہندوستان کے جنوبی علاقوں میں پرتگالی باشندوں کے ساتھ پہنچی اور انگریزی اقتدار کی طرح پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ شام ہوتے ہی یورپینز کے ڈرائنگ روموں اور سرسبز باغیچوں میں چائے کے دسترخوان سج جاتے۔ آئے روز انگریز مقامی راجوں، رئیسوں اور معززین کو اپنی رہائش گاہوں میں چائے پر مدعو کرتے اور مقامی معززین اس عزت افزائی پر تفاخر کا اظہار کیا کرتے۔ آہستہ آہستہ چائے ان معززین کے دسترخوانوں کا حصہ بننے لگی اور یہاں سے نکل کر عام آدمی تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ ہندوستانیوں کی سماجی زندگی میں آنے والی اس تبدیلی کو ایک نئی ثقافتی کروٹ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
انیسویں صدی کے آغاز میں چائے کی طلب اس قدر بڑھ چکی تھی کہ انگریزوں کے لیے چینی چائے کے ذریعے یہ ڈیمانڈ پوری کرنا مشکل ہو گیا تو یہیں سے انگریزوں کو ہندوستان میں افیون کی کاشت کا خیال آیا۔ کئی سالوں تک وہ چینیوں کے لیے افیون بھیجتے اور بدلے میں ہندوستان کے لیے چائے حاصل کیا کرتے۔ چین برطانیہ جنگ چھڑی تو چین نے چائے کی تمام برآمدات پر پابندی عائد کر دی۔ یہیں سے برطانیہ کو متبادل راستوں کی تلاش کا خیال آیا اور انہوں نے چین پر انحصار ترک کر کے ہندوستان میں چائے کی کاشت کے لیے منصوبہ بندی شروع کی۔ سب سے پہلے 1823ء میں دارجلنگ (آسام) میں چائے کا تجربہ کیا گیا۔ اتفاق سے انہی دنوں آسام میں قدرتی طور پر اگنے والے چائے کے پودے بھی تلاش کر لیے گئے لیکن مشکل یہ تھی کہ انگریزوں کے پاس چائے کی پروسیسنگ کے حوالے سے معلومات ناکافی تھیں۔ جلد ہی اس مشکل پر بھی قابو پا لیا گیا کہ سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک ماہرِ نباتات رابرٹ فارچیون کو چائے کی پروسیسنگ تکنیکس کی جاسوسی اور دوسرے ساز و سامان سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے چین بھیجا گیا۔ وہ جلد ہی تجربہ کار چینی کاشت کاروں کی ایک ٹیم ہندوستان لانے میں کامیاب ہو گئے اور یوں ہندوستان آہستہ آہستہ چائے کی پیداوار میں خود کفیل ہونے لگا۔ انگریز برصغیر میں صرف چائے ہی نہیں لائے بلکہ چائے کی پوری تہذیب بھی اپنے ساتھ لائے۔ انگریزوں نے چائے کے لیے ڈرائنگ رومز اور باغیچے مخصوص کر رکھے تھے چائے پینے کے برتن اور لباس بھی الگ تھے روزانہ ہر گھر میں شام کے استقبال کی تیاریاں کی جاتیں۔
گویا شام کی چائے ایک تہذیبی مظہر سے زیادہ خود ایک تہذیب بن گئی۔ چائے بنانا، چائے پیش کرنا، برتنوں کا انتخاب، شام کی چائے کا لباس، چائے کا رنگ اور ذائقہ، چائے کے کپ پر گفتگو، آواز پیدا کیے بغیر چینی کی آمیزش اور چائے نوش کرنا ایک تہذیبی عمل قرار پایا۔ انگریزوں نے برطانیہ میں شام کی چائے کے حوالے سے جن روایات و آداب کو جنم دیا تھا ان کا اطلاق ہندوستانی زندگی پر بھی ہونے لگا، ان میں سے کچھ روایات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
-
- چائے ہمیشہ صاف ستھرے اور مناسب درجہ حرارت کے حامل برتنوں میں پیش کی جائے۔
- محفل میں موجود مہمانوں کو چائے خاموشی، شائستگی اور درست مقدار میں پیش کی جائے۔
- چائے میں چینی ملاتے وقت اور چائے کا گھونٹ بھرتے وقت آواز پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
- چینی ملانے کے بعد چمچ کو کپ میں پڑا رہنے دینے کی بجائے اسے الگ پلیٹ میں رکھیں۔
- چائے کو پھونک مار کر یا پرچ میں ڈال کر ٹھنڈا کرنے کی بجائے اس کے مناسب حد تک ٹھنڈا ہونے کا انتظار کریں۔
- چائے کے کپ کو ہمیشہ اس کے ہینڈل سے پکڑیں اور بائیں ہاتھ سے کپ کے نچلے حصے کو سہارا دیں۔
- چائے کے برتنوں (بالخصوص کپوں) کو ادھر ادھر رکھنے کی بجائے واپس ٹرے یا مناسب جگہ رکھیں۔
- مہمان کو ایسے کپ میں چائے پیش مت کریں جس کا کنارا ٹوٹا ہوا ہو۔
- چائے کی چینک (ٹی پاٹ) کو ہمیشہ ٹی کوزی سے ڈھانپ کر رکھیں۔
- چائے پیش کرتے وقت ایک کپ کی بجائے پورا ٹی سیٹ (ٹی پاٹ، شوگر پاٹ اور ملک پاٹ) استعمال میں لائیں۔
- چائے کی پیشکش کے دوران ذوق اور سلیقے کا اظہار ہونا چاہیے۔
- چائے بناتے وقت پتی کے ساتھ (اسے مزید خوش ذائقہ بنانے کے لیے) سبز الائچی اور لونگ کا ایک چمچ سفوف بھی کھولتے ہوئے پانی میں ڈالیں تاکہ خوش ذائقہ چائے پینے والے کو اپنے عشق میں گرفتار کر سکے۔
- مہمانوں کو چائے پیش کرنے سے پہلے چینی کا ایک چمچ قہوہ میں ڈال کر اسے ذرا سا ہلائیں اور چینک کو دوبارہ ٹی کوزی سے ڈھانپ دیں، اس دوران پانچ منٹ تک انتظار کریں تاکہ رنگ اور ذائقہ شیر و شکر ہو جائیں۔ ٹی کوزی کے الگ ہوتے ہی خوش ذائقہ چائے کی مہک ہر طرف پھیل جائے گی۔ اب کپ پر نقرئی چھلنی رکھ کر چائے کو کپ میں انڈیلیں اور اس کے بعد مہمان کی خواہش کے مطابق اس میں دودھ اور شکر شامل کریں، اس سارے عمل کے دوران خوش ذوقی، نفاست اور سلیقہ محفل پر غالب رہنا چاہیے۔
چائے ایک ایسا مشروب ہے جو دنیا بھر میں یکساں مقبول ہے۔ چند ہی صدیوں میں یہ مشروب روئے زمین پر پھیل گیا اس نے نہ صرف انسانی زبان، روایات اور معاشرتی زندگی کو فروغ دیا بلکہ اس نے ہر قوم کی ذہنی زندگی کو بھی تحریک دی۔ کسی کو چائے سے ذہنی سکون میسر آیا تو کسی نے اس مشروب کے ذریعے طویل العمری کا راز پا لیا۔ چائے کے چاہنے والوں نے نہ صرف چائے کے اوقات مقرر کیے بلکہ بعض نے چائے کے تہوار بھی منانا شروع کر دیے۔ چائے بنانا یقیناً ایک آرٹ ہے لیکن مہمانوں کو چائے پیش کرنا اور مہمانوں کا اسے نوشِ جاں کرنا ایک مکمل تہذیب ہے۔ برصغیر میں پچھلی صدی تک کنواری لڑکی کو شادی کے لیے منتخب کرنے کا ایک طریقہ چائے کی پیشکش رہی ہے۔ آج بھی بہت سے گھرانوں میں جب بزرگ عورتیں کسی لڑکی کو دیکھنے جاتی ہیں تو لڑکی کو چائے بنانے اور اسے مہمانوں کو پیش کرنے کی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ لڑکی چائے بنانے کے بعد اسے ٹرالی میں سجا کر ڈرائنگ روم میں آتی ہے اور پھر ایک ایک مہمان کے سامنے اسے پیش بھی کرتی ہے اس دوران مہمان اس کے اس عمل کو بغور دیکھتے رہتے ہیں۔ اگر مہمان لڑکی کے چائے بنانے اور پیش کرنے کے سلیقے سے مطمئن ہو جائیں تو اس وقت لڑکی کو شادی کے لیے منتخب کر لیا جاتا ہے گویا جوڑے آسمان پر نہیں بنتے بلکہ انہیں چائے کا خوش رنگ ذائقہ بناتا ہے۔