چہکتی شب میں سسکتا ہوا الاپ سنو! - فائنڈورا ادب

چہکتی شب میں سسکتا ہوا الاپ سنو!

نعیم رضا بھٹی

تخلیق کار

چہکتی شب میں سسکتا ہوا الاپ سنو!
اک اعتبار گزیدہ قدم کی چاپ سنو!

وہ شہوار بچھڑ کر بھی جا چکا ہوگا
اب انتظار سمیٹو ! ، دھوئیں کی ٹاپ سنو!

یہ مرحلہ ہے فقط عشق کے مریضوں کا
تم ابتدائی اداسی سے جھڑتی تھاپ سنو!

سخن ہے رزق مجھے بھی ملا مرا حصہ
مرے کہے پر کسی کی نہیں ہے چھاپ ۔۔ سنو!

میں اس کے سائے میں رہ کر بڑا ہوا ہوں رضا
مرے لیے گلِ احمر ہے میرا باپ سنو!

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top
Scroll to Top